فیمنزم کا آشیاں اور مسلم خواتین - ڈاکٹر رضوان اسد خان

فیمنزم کی (پہلی لہر) "فرسٹ ویو" خواتین کی ووٹنگ کے حق اور سیاسی کردار کے لیے تھی جو انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی اور 1918 میں امریکہ میں قانون سازی کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوئی. "سیکنڈ ویو" (دوسری لہر) 1960 کی دہائی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوئی اور 1980 کی دہائی میں اختتام پذیر ہوئی. اس میں ملازمت کی جگہ پر جنسی تفریق، جنس کی بنیاد پر استحصال اور بچوں کی پیدائش سے متعلق حقوق... خصوصاً اسقاط حمل کے "حق" کی خاطر تحریک چلائی گئی.

"تھرڈ ویو" (تیسری لہر) 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی اور تقریباً 2010 تک جاری رہی. اس میں دوسری لہر کی تفصیلات اور ناکامیوں پر فوکس کیا گیا. خصوصاً مردوں کے برابر تنخواہ پر اور ابارشن رائیٹس پر. اور ان دو امور میں انہیں خاطرخواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی. آج بہت سے ممالک میں اسقاط حمل کی قانونی اجازت ہے. اس دور میں فیمن ازم کے اثرات جب زندگی کے دیگر شعبوں پر پڑنے شروع ہوئے تو یہ ایک گورکھ دھندہ بن کر رہ گیا اور آج بہت سے لوگوں اور خود خواتین کے لیے فیمن ازم کے دائرے اور مقاصد کا تعین کوئی آسان کام نہیں رہا. اور جب سے ٹرانز جینڈر خواتین کی کھیپ وجود میں آئی ہے فیمنسٹس کے لیے ایک نیا درد سر پیدا ہو گیا ہے. فی الوقت اس لہر کے نتیجے میں فیمنسٹس میں کئی طبقے/فرقے پیدا ہو گئے ہیں جن میں ریڈیکل فیمنسٹس، ایگو کلچرل فیمنسٹس، ایکو فیمنسٹس، اکڈیمک فیمنسٹس، لبرل/ریفارمسٹ فیمنسٹس اور پتہ نہیں کون کون سے فیمنسٹس کھمبیوں کی طرح اگ آئے ہیں.

"فورتھ ویو"
"می ٹو" تحریک کو بہت سے ماہرین فیمن ازم کی چوتھی لہر قرار دے رہے ہیں. اس میں عالمی سطح پر خواتین نے مردوں کے ہاتھوں اپنے جنسی استحصال کا اظہار کیا ہے اور بہت سے مشہور و معروف مرد اس کی زد میں آئے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   خوابوں کی جھوٹی دنیا اصل مسئلہ ہے - انس اسلام

مسلم خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی ان لہروں سے متاثر اور ان موجوں کے تھپیڑوں کے آگے بے بس نظر آتی ہے. ان کے خیال میں اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں، فیمن ازم ان کی ترجمانی کا بہترین فورم ہے.

بلاشبہ ان میں سے بہت سے مقاصد اور امور بہت اچھے بھی ہیں. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لبرل بنیادوں کی وجہ سے حدود کا تعین مفقود ہے. لہٰذا آپ دیکھیں گے کہ:

.. اولاد کی پیدائش میں کنسینٹ یا رضامندی کے حق کی بات ابارشن کے حق کے مطالبے تک پہنچ گئی ہے اور نہ معلوم آگے کہاں جائے گی.!

.. جاب پلیس پر برابری کے حقوق کی بات گھریلو "ذمہ داریوں" سے فرار کا بہانہ بن گئی ہے اور مستقبل کی پیشین گوئی یہ ہے کہ عورتیں، عورتوں سے ہی شادی کو ترجیح دیں گی.

.. فوج، پولیس، سپورٹس اور دیگر "مردانہ" فیلڈز میں میں خواتین کی شمولیت سے نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں اور اسی کا نتیجہ "می ٹو" تحریک کی صورت میں نظر آ رہا ہے.

.. جنسی استحصال کو ایکسپوز کرتے کرتے خواتین کو اتنی طاقت مل چکی ہے کہ ہر مرد اس الزام سے ڈرنے لگ گیا ہے اور الٹا خود استحصال کا شکار نظر آتا ہے اور اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں...

.. مسلم فیمنسٹس کا مسئلہ تو بہت ہی گھمبیر ہے. یہ بیچاریاں فیمن ازم کے ہر شیطانی مطالبے کے لیے اسلام سے بنیادیں ڈھونڈنے کے دھندے پر لگی ہوئی ہیں. نتیجتاً نہ ان کے پاس اسلام ہے اور نہ فیمنسٹس انہیں قبول کرتے ہیں، بالخصوص باحجاب فیمنسٹس کو تو ہمیشہ تیوری چڑھا کر دیکھا جاتا ہے کہ یہ بیچاریاں تو خود "آپریشن" کا شکار ہیں.!

الغرض کوئی بھی غیر الہی نظام فول پروف نہیں ہو سکتا اور فطری بنیادوں پر نظام کار کی درست ترین حدود کا تعین نہیں کر سکتا کیونکہ انسانوں کے بہترین اذہان مل کر بھی تمام انسانوں کے فطری تنوع کا احاطہ نہیں کر سکتے... نتیجتاً ناکامی انکا مقدر ہوتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اکیسویں صدی اور مسلمان عورت - ام محمد عبداللہ

آپ تاریخ انسانی کا کوئی بھی انسانی نظام اٹھا کر دیکھ لیں، بالآخر ناکام ہوتا ہی نظر آئے گا. مروجہ نظاموں میں سیکولر ڈیموکریسی اور کیپٹل ازم کو انسانی تخیل کی معراج اور کامیاب ترین قرار دیا جاتا ہے. لیکن حقیقت یہ ہے کہ میڈیا کی طاقت پر قبضہ کر کے ان کے عظیم نقائص کو چھپایا جاتا ہے. اس کے باوجود ان کی پے در پے ناکامی روز روشن کی طرح عیاں ہے.

لہٰذا عورتوں کے حقوق کے تعین کا حق بھی عورتوں کے خالق کے سوا کسی کو نہیں، کہ: جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا....!!

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.