’احمقوں اور جاہلوں کا جنگل‘- عبدالخالق بٹ

احمدفراز کہہ گئے ہیں: ’سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں‘۔ یقینا انہوں نے کبھی فیصل رضا عابدی کو بولتے نہیں سنا ہوگا ورنہ وہ ان کی شعلہ نوائی کو آتش و اخگر ملاتے اور شرارہ و انگارہ کے سے قافیوں سے سجاتے۔ کوئی بھی موقع ہو، موصوف مخالفین کا ناطقہ تنگ کجن بنا نہیں رہتے۔ وہ کڑوی بات کہنے کے قائل ہیں خواہ سچ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ تلخ نوائی انھیں سرکاری مہمان بھی بنواچکی ہے۔

مجھ کو اس تلخ نوائی نے کیا ہے رسوا

اپنی نظروں میں بہ ہرحال ہے عزت اپنی

ہمارے ممدوح ایذا رسانی میں درک رکھتے ہیں۔ یہ معلوم تھا۔ آب رسانی سے بھی شغف رکھتے ہیں، یہ چند روز پہلے معلوم ہوا۔ فرمارہے تھے: ’جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں وہ احمقوں اور جاہلوں کے جنگل میں رہتے ہیں‘۔ چونکہ فقط احمق کہنے سے تشنگی نہیں بجھتی، سو’جاہل‘ کا اضافہ کیا۔ مسئلہ تب گھمبیرہواجب معتوبین محاورے کی روسے ’جنتی‘ قرارپانے والے تھے۔ جو کسی طور گوارانہیں تھا۔ لہٰذا ’جنت‘ کو’جنگل‘میں بدل دیا۔ ویسے غنیمت ہے کہ معاملہ جنگل پر ٹل گیا ورنہ ’جہنم‘ کہنے میں کتنی دیر لگتی۔

ہمیں اپنی کم علمی بلکہ لاعلمی کا اعتراف ہے، مگریہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ’احمقوں اور جاہلوں کا جنگل‘ مکمل طورپر عابدی صاحب کا کاشتہ و پرداختہ ہے۔ورنہ سرزمین اردو اب تک ایسے کسی جنگل سے آشنا نہیں۔ اردومیں محاورہ ”احمقوں کی جنت“ ضرور برتا جاتا ہے۔ جو انگریزی محاورے ”A fool's paradise“ کا اردو ترجمہ ہے۔ جس کے معنی جھوٹی امیدوں اور آرزوؤں کی بنیاد پر کسی خوش فہمی میں مبتلا رہنا ہے۔

وزارت خزانہ سے مستعفی ہونے والے وزیر جو کل تک پی ٹی آئی کے شو بوائے (show boy) تھے، ایک نجی چینل پر وطن سے اپنے والہانہ لگاؤ کا اظہار ان الفاظ میں کر رہے تھے:’مجھے وطن کی محبت کا عشق ہے‘۔ چونکہ مستند ہے ان کا فرمایا ہوا لہٰذا یہ سوچنا بھی گستاخی ہے کہ ’محبت کا عشق‘ کچھ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ بلکہ ہم تو اسے صاحبان دل کی ناکامی ہی کہیں گے کہ وہ ’محبت کا عشق‘ نہ پا سکے۔ بات بےمحاورہ ہی نہیں بےمزا بھی رہی اور لغت میں راہ نہ پاسکی۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ عشق کا کوئی اعلیٰ و ارفع مقام ہے، جہاں تک صرف جناب والا کی رسائی ممکن ہوسکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پیغام رسانی کی مشکلات - بشارت حمید

برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ محبت کے’میم‘ پر زبر (فتحہ) ہے، چوں کہ اہل برصغیر، اہل عرب کی طرح بیشتر موقعوں پر دو یکساں حرکات کی ادائیگی نہیں کر پاتے، اس لیے ہمارے یہاں محبت کے ’میم‘ پر پیش (ضمہ) لگا کر اسے سہولت سے ادا کر لیتے ہیں۔ جہاں تک ’عشق‘ کا معاملہ ہے تو عربی میں یہ انتہائی مختصر دورانیے کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے، اس اجمال کی تفصیل یہاں مناسب نہیں۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ کیفیت مذکور کے لیے فریقین کا رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا ضروری ہے ورنہ حد جاری ہوسکتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ ’عشق‘ اور اس کے مشتقات میں سے کوئی لفظ قرآن یا ذخیرہ حدیث میں وارد نہیں ہوا۔ البتہ فارسی اور اس کی رعایت سے اردو میں آنے والے ’عشق‘ کو عربی کے عشق سے صورتاً تعلق کے باوجود معنوی اعتبار سے کوئی مناسبت نہیں۔ فارسی شعری روایت میں ’عشق‘ ایک پاکیزہ قوت محرکہ ہے۔ اسے محبت سے آگے اور اونچا مقام حاصل ہے۔ اقبال ؒکہہ گئے ہیں:

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیروبم

عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بدم

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق

شاخِ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم

باقی خبروں کو کسی اور نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال لفظ ’کس مپرسی‘ کی حالت زار کا بیان ہوجائے۔

کَسمَپُرْسِیْ دو الفاظ ’کس‘ اور’مپرسی‘ سے مرکب ہے۔ دوسرا لفظ مصدر ’پرسیدن‘ یعنی ’پوچھنا‘ سے مشتق ہے۔ اسی سے ’باز پرس‘ (پوچھ گچھ / پوچھ تاچھ / پوچھ پاچھ) وغیرہ جیسی تراکیب بنی ہیں۔ اس پرس سے پرسی ہے، جسے حرف نفی’میم‘ کے اضافے سے ضد بنالیا گیا ہے۔ یوں کسمپرسی کے معنی ہوئے ’وہ حالت جس میں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔‘ یہ بے کسی، بے بسی اور بے چارگی کی حالت ہے۔ مگر اردو میں بے چارہ’کسمپرسی‘غلط طورپر ’کَسَمْ پُرسی‘ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اردو زبان قوم سے ناراض - ثمینہ اقبال

کسمپرسی کی رعایت سے اردو کے صاحب طرز نثر نگار جناب مختار مسعود کی کتاب ’لوح ایام‘ سے ایک مختصر اقتباس پیش خدمت ہے، جو دلچسپی سے خالی نہیں۔ لکھتے ہیں: ’اگر آپ مجھ سے ایران کا حال پوچھیں تو یہ احوال پرسی۔ کسی صحت مند سے اس کا حال پوچھیں تو مزاج پرسی۔ اگر بیمار سے جاکر اس کا حال دریافت کریں تو بیمار پرسی۔ کوئی بھی پوچھنے کے لیے نہ آئے تو کس مپرسی۔ لہٰذا کسی مسئلے پر سب کی رائے حاصل کریں تو اسے کہیں گے، ہمہ پرسی‘۔

اس سے پہلے کے اجازت چاہیں، اردو زبان کی کسمپرسی پر مرحوم مجید لاہوری کا نوحہ سن لیں:

غیر ٹھکرائیں گے، اپنے بھی نہیں اپنائیں گے

اے مرے دل تو بھی کیا اردو زباں ہوجائے گا

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.