افغان پاکستانیوں کو کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

کرکٹ ورلڈ کپ جاری ہے اور پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کے باوجود میچز کے حوالے سے آنے والی خبریں زیادہ جگہ لینے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ میچ کے دوران خاصا شورشرابا رہا، فیس بک اور ٹوئٹر پر کئی منفی ٹرینڈز چلتے رہے۔ ایک ایسی بحث شروع ہوئی جو شاید خاصا عرصہ جاری رہے۔ اس پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے ورلڈ کپ کا ایک اوراہم میچ، جس نے بہت سے پاکستانیوں کی آنکھیں کھول دیں۔ اگلے روز بھارت کا انگلینڈ کے ساتھ میچ تھا اور عرصے بعد ایسا ہوا کہ پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد نے بھارت کے حق میں دعا کی۔ بھارت کا جیت جانا پاکستان کے سیمی فائنل جانے کے لیے اہم تھا کہ اس طرح انگلینڈ کے پوائنٹس کم ہوجاتے۔ بھارت یہ میچ ہار گیا، انگلینڈ کی ٹیم اچھا کھیلی اور جیت گئی۔ یہ بات مگر واضح محسوس کی گئی کہ بھارتی ٹیم نے انڈر پلے کیا۔ جس طرح وہ کھیلتے ہیں، ویسا نہیں کھیلے اور میچ جیتنے کی خواہش ان میں نظر ہی نہیں آئی۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے۔

کہنے کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انگلینڈ نے بڑا ہدف بنایا تھا، بھارت کو خوف دامن گیر ہوا کہ جیتنے کے چکر میں جلد آؤٹ ہو کر رن ریٹ خراب نہ ہوجائے۔ یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے، تکنیکی طور پر اسے درست بھی مانا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ایک پاکستانی شائق کے طور پر میچ دیکھتے ہوئے یہی لگا کہ بھارت جان بوجھ کر نہیں جیت رہا کہ کہیں پاکستان کو فائدہ نہ پہنچ جائے۔ بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی، روہت شرما، مہندر سنگھ دھونی سب بڑے کھلاڑی ہیں، ان کے پروفیشنل ازم کو خاص طور سے سراہا جاتا ہے۔ افسوس کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں یہ بڑے کھلاڑی اپنا تاثر قائم نہ کر پائے۔ ان کا قد کاٹھ خاصا پست محسوس ہوا۔ کرکٹ میں کم ہی ایسا ہوا ہو کہ کسی ٹیم نے میچ جیتنے کی کوشش کیے بغیر ہار دیا ہو۔ جیتنے کے لیے کھیلنا کھلاڑیوں کی جینز میں شامل ہوتا ہے۔ وہ کیسے لڑے بغیر ہار مان لیں؟ بھارت بےشک میچ ہار جاتا، مگرجیتنے کی کوشش تو کرتا۔ انہوں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ خاص طور پر آخری دس اوورز میں چھکے چوکوں کے بجائے جو سنگل لیے گئے، اس پر کمنٹیٹر بھی حیران وپریشان تھے، بھارتی سابق کھلاڑیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ کمنٹری باکس میں شرمندہ بیٹھے تھے۔ کوئی مان سکتا ہے کہ تین سو سے زیادہ رنز کا تعاقب کرتے ہوئے بھارتی ٹیم اننگز میں صرف ایک چھکا لگائے، وہ بھی آخری اوور میں، جب میچ عملاً ہارا جا چکا۔ اگر یہ سب پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہندوشدت پسندی کا حصہ ہے، تب تو نہایت افسوسناک بلکہ شرمناک واقعہ ہے، ورلڈ کپ ہسٹری کا ایک سیاہ باب۔ اگر اپنے رن ریٹ برقرار رکھنے کی خاطرایسا کیا کہ تین سو رنز بن جائیں بے شک میچ ہار جائیں۔ تب بھی شکست خوردہ، منفی سوچ پر مبنی کھیل تھا۔ چیمپئن کبھی ایسی منفی، پست حوصلگی پر مبنی چالیں نہیں چلتے۔ جو کرکٹ کو ایک جینٹل مین کھیل سمجھتے ہیں، انہیں شدید مایوسی ہوئی۔کھیل بھی شدت پسندی اور سیاست کا شکار ہوجائیں، تب خیر کی امید بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر آور اور صحیح مؤقف - شبیر بونیری

اب آئیں افغانستان کے ایشو پر۔ پاک افغان میچ کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، جیسے تیسے پاکستان نے وہ میچ جیت ہی لیا اور ان نام نہاد پشتون قوم پرستوں پر بجلی گر پڑی جو پاکستان کے ہارنے کی امید لگائے بیٹھے تھے کہ اس بہانے افغانستان کے گن گائے جائیں۔ افغان تماشائیوں کا رویہ ازحد جارحانہ اور قابل اعتراض رہا۔ زیادہ حیرت مگر افغان کرکٹروں پر تھی۔ ان کے کپتان گلبدین نائب نے تو میچ سے پہلے کھل کر ایک انٹرویو میں کہہ دیا تھا کہ ہم تو ورلڈ کپ سے آؤٹ ہوگئے ہیں، مگر ہم جاتے جاتے بعض ممالک کو نقصان پہنچائیں گے، یہ مصرع بھی پڑھا کہ ہم تو ڈوبے ہیں، صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ واضح طور پر یہ پاکستان کی طرف اشارہ تھا۔ اس سے پہلے بھارت سے افغانستان نے سخت مقابلہ کے بعد میچ ہارا تو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسی افغان کپتان نے کہا کہ پاکستان کو ہم سے سیکھنا چاہیے۔ افغان کرکٹ بورڈ کے ایک عہدے دار نے پاکستان کو پیش کش کی کہ ہم آپ کی (بہتر کھیلنے میں) مدد کر سکتے ہیں۔ افغان کپتان اور ان کے بورڈ کی یہ لاف زنی بچگانہ تھی۔ جو ٹیم ورلڈ کپ میں ایک میچ نہ جیت پائی، وہ دوسروں کو کیا سکھائے گی؟ پہلے کوئی میچ جیت تو لیں۔

بہت سے پاکستانیوں کو اس پر حیرت ہے کہ آخر افغان شہری پاکستان کے اس قدر مخالف کیوں ہیں؟ حالانکہ پاکستان نے ان کے لیے بہت کچھ کیا، برسوں تک کئی ملین افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کے لیے بہت کچھ کیا، لاکھوں ابھی تک یہاں مقیم ہیں۔ غصے میں پاکستانی کرکٹ لورز نے بھی افغانوں پر یلغار کی اور ٹوئٹر، فیس بک پر نمک حرام، غدار اور افغانستان کے خلاف دوسرے کئی ٹرینڈ چلتے رہے۔ یہ سب باتیں اس لیے ہیں کہ ہمارے ہاں عمومی طور پر اور میڈیا کے لوگوں میں بھی افغانستان کے بارے میں آگہی موجود نہیں۔ خیبر پختون خوا کے پشتون صحافی جنہیں افغانستان آنے جانے کا موقع ملتا رہتا ہے، وہ باخبر ہیں، مگر کھل کر نہیں لکھتے۔ بعض ممتاز پاکستانی پشتون صحافیوں کے افغانستان میں اہم حلقوں سے تعلقات قائم ہوچکے ہیں، وہ افغانوں پر تنقید کر کے اپنے مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ یوں لاعلمی اور بےخبری کی دھند چھائی ہے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ افغانستان کی جدید تاریخ میں وہ بھارتی اثرورسوخ سے کبھی آزاد نہیں ہوا۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی بھارتی سکھوں کی خاصی تعداد کابل اور دوسرے شہروں میں آباد تھی۔ افغانستان نے ابتدا ہی سے پاکستان کی مخالفت کی۔ واحد ملک جس نے پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی بھی مخالفت کی۔ یہ ناپسندیدگی کا رویہ ناقابل فہم تھا۔ فطری طور پر تو افغانستان کو اپنے پڑوس میں بننے والے نئے ملک سے تعلقات خوشگوار رکھنے چاہیے تھے، مگر عاقبت نااندیش افغان قیادت نے شروع کے دنوں ہی سے تلخیوں کے بیج بو دیے۔ روایت ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک افغان ڈپلومیٹ نے قائداعظم کو خط لکھ کر فاٹا افغانستان کو دینے اور سمندر سے رسائی کے لیے ایک زمینی پٹی دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بصورت دیگر ہم حملہ کر دیں گے۔ قائداعظم نے اس احمقانہ خط کا جواب دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:   ابن مریم نہیں، دکھ کی دوا چاہیے - حبیب الرحمن

افغانستان کا پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ ہمیشہ جاری رہا۔ 1965ء کی جنگ میں افغان حکمران ظاہر شاہ نے اپنے آرمی چیف کو بلا کر کہا کہ ہمیں پاکستان پر حملہ کر دینا چاہیے۔ جنرل نے جواب دیا، ہماری فوج کی تیاری ہے اور نہ ایسی استعداد کہ ہم حملہ کر سکیں۔ تب ظاہر شاہ کو شرمندہ ہونا پڑا۔ چند برس پہلے میں کابل کے ایک سیمینار میں موجود تھا، وہاں ایک معروف افغان صحافی نے تقریر کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی اور ظاہر شاہ کی حماقت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ساٹھ اور ستر کے عشروں میں یہ صورتحال رہی کہ جب بھی بلوچستان میں آپریشن ہوا، باغیوں نے افغانستان کا رخ کیا، جہاں انہیں پناہ اور سرپرستی ملی۔ ستر کے عشرے میں پختونستان کا سٹنٹ بنایا گیا، پشتون قوم پرست رہنما اجمل خٹک کابل میں بیٹھے پختونستان کے نعرے لگاتے رہے، صوبہ سرحد کے کئی شہروں میں بم دھماکے بھی ہوئے۔ ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر حکمران بننے والا سردار داؤد مبینہ طور پر اس پالیسی کا سپورٹر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو صاحب جیسے سیکولر شخص نے بھی جوابی طور پر گلبدین حکمت یار، پروفیسر برہان الدین ربانی اور دیگر افغان لیڈروں کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد میں حالات زیادہ سنگین ہوئے، جب روس نے افغانستان پر باقاعدہ حملہ کر دیا۔ اس کی مزاحمت شروع ہوئی اور پاکستان نے افغان مجاہدین کو نہ صرف سپورٹ کیا، بلکہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ عرب بلاک کو بھی حمایت پر تیار کیا۔ باقی تاریخ ہے کہ کیسے روس کو شکست فاش ہوئی۔

افغان پاکستانیوں کو کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ اس سوال کا آسان اور سادہ جواب یہ ہے کہ کیوں کہ افغانستان ملک ایک ہے، مگر اس میں ایک سے زیادہ افغانستان موجود ہیں۔ ایک افغانستان وہ ہے جونوے کے عشرے کے اواخر میں طالبان کے زیرنگین تھا، جبکہ اس وقت ایک افغانستان شکست خوردہ ، دیوار کے ساتھ لگے شمالی اتحاد کے حامیوں پر مشتمل تھا۔ نائن الیون کے بعد یہ صورتحال بدلی، تب ایک افغانستان پروامریکہ پشتونوں، تاجکوں، ازبکوں، ہزارہ وغیرہ پر مشتمل تھا جبکہ ایک افغانستان وہ تھا جس نے امریکی قبضے کو تسلیم نہیں کیا، اس کے خلاف مزاحمت کی اور امریکہ بہادر اپنی تمام تر ہیبت ناک جنگی قوت کے باوجود انہیں شکست نہیں دے سکا۔ یہ طالبان کا افغانستان ہے، زیادہ تر پشتون بیلٹ مگر کسی حد تک تاجک، ازبک علاقوں میں بھی اثرورسوخ کا حامل۔ افغانستان کی جغرافیائی سرحد کے اندر یہ الگ الگ جزیرے سے ہیں، ان کے رویے بھی ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ جب تک ہم اس باریک نکتے کو نہ سمجھ لیں، تب تک افغان رویوں کو سمجھنا ممکن نہیں۔ بات طویل ہے، ایک کالم میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ افغانستان کی مختلف قومیتوں، ان کے پس منظر اور خاص رویوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کابل شہر کا بھی اپنا خاص مزاج اور رویہ ہے، اسی طرح پاکستان میں افغان مہاجرین کے طور پر رہنے والے بھی اپنی نفسیات میں بعض شکایات، تلخیاں لیے ہوئے ہیں۔ ان سب پر ان شااللہ بات جاری رہے گی۔