ایک بار پھر تبادلہ آبادی، ایک اور ریڈ کلف - اوریا مقبول جان

کان پک گئے ہیں ان آوازوں کو سنتے اور آنکھیں دکھنے کو آچکی ہی ان تحریروں کو پڑھتے۔ وہ جو اس مملکتِ خداداد پاکستان کے لیے اپنے پیاروں کی خاک و خون میں لتھڑی لاشیں چھوڑ کر آئے تھے، اپنے ہنستے بستے گھروں کو خیر آباد کہہ کر اور اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کو آخری بار آنسوؤں سے سلام کہہ کر اس سرزمین کو ایک پناہ گاہ اور اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھ کر آئے تھے، میرے ملک کا ایک دانشور طبقہ ان کے کانوں میں بھی اسی دن سے زہر گھولتا چلا آ رہا ہے۔

کسی ملک کی اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے قیام کے دن سے اس کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کی بحثیں شروع کر دی جائیں۔ اس ملک کی تخلیق ایسے تمام "صاحبان علم" کے لئے ایک ڈراؤنا خواب تھی جو گزشتہ دو صدیوں سے سیاسیات، معاشیات، معاشریات اور بشریات کی کتابوں میں لکھتے اور کم ازکم تین نسلوں کو یہ پڑھاتے چلے آئے تھے کہ مذہب کسی قومیت کی تخلیق کا حصہ نہیں ہوتا۔ قومیں تو نسل، رنگ، زبان اور علاقے کے تعصب سے جنم لیتی ہیں۔ لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے ان کا یہ دعوی ان کے سامنے ہی باطل کر کے رکھ دیا۔ مسلمان ،چیمہ، چٹھہ، وڑائچ، باجوہ، انٹر، گبول، چوہان، کوہلی، اور جاٹوں نے اپنے دادا ،پردادا کی ہندو اولادوں کو اپنا بھائی اور اپنا ہم قوم ماننے سے انکار کر دیا۔ تخلیق پاکستان کے وقت یہ دانشور طبقہ کیمونسٹ اور ترقی پسندانقلاب کا علمبردار تھا۔ یہ کارل مارکس کے کمیونسٹ مینی فیسٹو کی آخری لائن میں دی گئی ایک عالمی قومیت کے قائل تھے یعنی "دنیا بھر کے مزدورو! ایک ہو جاؤ، تمہارے پاس کھونے کے لیے صرف زنجیریں ہیں اور جیتنے کو ایک دنیا پڑی ہے"۔ ان ترقی پسند دانشوروں کے نزدیک پاکستان کا قیام اس عالمی مزدور قومیت کے تصور پر ایک شب خون تھا۔ اسی لیے ان کا قلم جو شاعری لکھتا یا افسانے تحریر کرتا ہے ان میں تصور پاکستان کا دکھ نمایاں ہوتا۔ ان کی تحریریں اور تقریریں یہ ثابت کرنے پر مصر رہتیں ہیں کہ پاکستان چونکہ مذہب کے نام پر بنا ہے، اس لیے یہ ایک غیر فطری ملک ہے اور ایک دن یہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا، اس کے بعد ایک بار پھر نسل، رنگ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر آباد سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتون قومیں اپنے وطن تراش لیں گی۔

اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انہوں نے ایک لفظ گھڑا، "مظلوم قومیتں"۔ 1971 تک مغربی پاکستان میں بسنے والا غریب بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی تمام، ایک ظالم قوم کا حصہ تھے۔ جبکہ مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالی سرمایہ دار بھی ایک" مظلوم قومیت"۔ مشرقی پاکستان میں بھارت کی افواج اتریں جن کی پشت پر وہ عالمی طاقتیں تھیں جو اس نظریہ کی شکست چاہتی تھیں، انہوں نے کردار ادا کیا اور بنگالی علیحدہ ہوگئے۔ لیکن یہ کیا ہوا۔ انہیں تو پھر مذہب کی بنیاد پر ہی بنگالی کے بجائے بنگلہ دیشی بنا کر ایک علیحدہ ملک میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک بنگالی قوم، ایک بنگالی زبان و تہذیب کا نعرہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا اور اس نعرے کے طوفان سے جو بنگلہ دیش برآمد ہوا اس کے باسیوں میں سے ایک کروڑ آج بھی بھارت میں رزق کی تلاش کرتے پھرتے ہیں اور اپنی شناخت کے لیے رجسٹریشن کے دفاتر میں دھکے کھاتے ہیں۔ چند دن پہلے آسام حکومت نے تین لاکھ بنگالیوں کو بھارتی ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ خواہ ہماری ہی نسل، رنگ اور زبان سے تعلق رکھتے ہیں مگر ہمارے شہری نہیں ہو سکتے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس قوم پرست بنگلہ دیش کی تخلیق کی بھٹی سے پندرہ لاکھ ایسی عورتوں کا قافلہ برآمد ہوا جنہیں دنیا کے بازاروں میں غربت و افلاس کے ہاتھوں بیچا گیا۔ لیکن میرے ملک کا یہ دانشور طبقہ گذشتہ اڑتالیس سال سے یہ راگ الاپ رہا ہے کہ کیونکہ اس ملک کی بنیاد ہی غلط تھی، کبھی مذہب لوگوں کو اکٹھا رکھ نہیں سکتا، اسی لیے بنگالی جدا ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

ان کے نزدیک اب باقی ماندہ پاکستان میں غربت و افلاس کا مارا ہوا پنجابی بحیثیت مجموعی ایک "ظالم قوم "ہے اور باقی تین قومیتیں مظلوم۔ لیکن یہ نعرہ بھی مدتوں سے اپنی افادیت اس لیے کھو چکا ہے کہ باجوڑ سے کراچی اور گوادر تک کوئی شہر قصبہ یا راہگزر ایسی نہیں جہاں پشتونوں کے ہوٹل، ٹرکوں کے اڈے، دکانیں اور پلازے موجود نہ ہوں۔ سندھیوں کا کراچی اب بلوچوں، پشتونوں، پنجابیوں کا بھی اتنا ہی بڑا شہر ہے اور اردو بولنے والے تو اس کا بنیادی اکثریتی حصہ بن چکے ہیں۔ اب صرف بلوچوں کی پسماندگی کی کہانی سنا کر انہیں اس ملک سے متنفر کیا جاتا ہے۔ لیکن رباط سے لے کر جیونی تک سرحد کے پار ایران میں اور رباط سے سر لٹھ کے پار افغانستان میں بسنے والے پاکستانی بلوچوں کی حالت زار قریب بسنے والے بلوچوں پر عیاں ہے۔ تقریبا نو سو کلومیٹر سرحد کے پار رہنے والے ایرانی بلوچ سر کاری ملازمت میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی، انتظامی عہدے پر۔ ان کا کوئی گورنر ہے اور نہ ڈپٹی کمشنر۔ یہی حال افغانستان کے صوبے ہلمند کے بلوچوں کا ہے۔ عطااللہ مینگل کا وہ فقرہ ان دانشوروں کے منہ پرایک طمانچہ ہے جو پاکستان کے حصے بخرے چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، "آزادی حاصل کرنا آسان ہے لیکن اسے سنبھالنا مشکل ہے"۔ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان سے علیحدگی کے بعد کیسے کیسے عالمی گدھ بلوچوں کی سرزمین پر قبضے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ اس سب کے باوجود میرا یہ دانشور طبقہ اس ملک کو شروع دن سے ایک ناکام ریاست ثابت کرنے پر تلا رہتا ہے۔

ستر سال سے یہ بک بک جاری ہے۔ لیکن ان ستر برسوں میں دیکھیے کہ کیا کچھ بدل گیا۔ تخلیق پاکستان یعن : 1947 میں سات لاکھ 28 ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر میسر تھا، تیرہ سال بعد یعنی 1960 میں یہ تعداد دس ہزار چھ سو رہ گئی اور آج 1500 لوگوں کی صحت کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے، جبکہ لاتعداد ڈاکٹر ملک سے باہر چلے گئے ہیں جن میں 45 ہزار تو صرف امریکہ میں ہیں۔ ہماری زرعی اجناس کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا، چاول اور گندم کی فصل دو گنا اور کپاس تین گنا ہو گئی۔ اس ملک کی تخلیق کے وقت صرف چھ بڑے صنعتی یونٹ تھے جبکہ آج اس وقت پاکستان میں چھ ہزار چار سو سترہ (6417) انڈسٹریل یونٹس ہیں جن میں ہر طرح کی صنعت شامل ہے۔ میرے ملک کا یہ دانشور طبقہ اور عالمی معاشی ادارے پاکستان کی معیشت کے جائزے ان اعدادوشمار کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں جو بینکوں کے کھاتوں اور ٹیکس کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی 285 ارب ڈالر ہے، جبکہ تمام باضابطہ اور غیر رسمی معاشی سرگرمی کو ملایا جائے تو یہ 485 ارب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی قوت خرید سرکاری طور پر بتائے گئے فی کس آمدنی یعنی 1560 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ گذشتہ تین برسوں میں لوگوں نے پہلے سے ہر سال 20 فیصد پیٹرول زیادہ خرچ کیا، 18 فیصد ائیر کنڈیشنڈ، 17 فیصد کاریں اور 16 فیصد ریفریجریٹر زیادہ خریدے۔ لیکن مایوسی پھیلانے کے علمبردار دانشور آپ کو کبھی بھی ہنستا بستا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسی لئے ہر روز اس ملک کے دیوالیہ ہو جانے، ٹوٹ جانے، بکھر جانے، تباہ و برباد ہو جانے کے تجزیے پیش کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حیات کی موت - ناصر اقبال خان

ستر سال سے ہم ان کے منہ سے ایک اور گفتگو سنتے آئے ہیں۔ یہ دیکھو ہمارے پڑوس میں بھارت، ہمارے ساتھ آزاد ہوا، وہاں جمہوریت کیسی پھل پھول رہی ہے، ہمیں تو بار بار فوج کی مداخلت نے تباہ کر دیا۔ انہیں دیکھو انہوں نے پہلے دن سے مذہب کو ریاست سے دور رکھا، سیکولرزم اور لبرل ازم پر سیاست کی بنیاد رکھی، آج دنیا بھر میں وہ سب سے بڑی جمہوریت کی وجہ سے نیک نام ہیں۔ ہمارے ہاں تو مولوی ہی ہماری جان نہیں چھوڑتا۔ ہماری تباہی مولوی کی وجہ سے ہوئی۔ بھارت میں آئین سیکولر ہے، فوج بیرکوں میں ہے، ستر سال سے اسلام اور ملّا وہاں پابند ہیں۔ ان دانشوروں کے نزدیک یہ آئیڈیل جمہوری سیکولر ریاست ہے۔ بھارت میں بھی تقریبا اتنے ہی مسلمان آباد ہیں جتنے پاکستان میں۔ جی چاہتا ہے کہ آج دونوں ملکوں میں ایک معاہدہ طے پا جانا چاہیے، کہ جس نے سیکولرازم لبرل ازم اور جمہوریت کا مزہ چکھنا ہے، وہ بھارت چلا جائے اور جس نے ملائیت اسلام اور شریعت کے نعروں کی چھاؤں میں آنا ہے، وہ پاکستان آ جائے۔ ستر سال بعد ایک بار پھر تبادلہ آبادی، ایک اور ریڈ کلف ایوارڈ۔ لیکن میں شرط لگا کر کہتا ہوں ان دانشوروں میں سے کوئی ایک بھی بھارت جانا پسند نہیں کرے گا۔ البتہ اس ملک کا کھا کر یہاں رہ کراسے گالی ضرور دیتا رہے گا۔