اشتہار ات اور بے راہ روی، اصل مقصد کیا ہے؟ محمد ریاض علیمی

ایڈورٹائزنگ کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کے فروغ کے لیے نت نئے اشتہارات بناتی ہیں ۔ پروڈکٹس کی سیل میں اضافے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ اشتہارات میں جدت ہو اور ناظرین کو متوجہ کرے ۔ دنیا بھر میں عورت کی نمائش کرکے چیزیں بیچنا ایک عام بات ہے، یہ سب اب پاکستان میں بھی معمول کی بات بن چکی ہے، شیونگ کریم ہو یا بلیڈ کا اشتہار صنف نازک کی نمائش کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔

چہرے کی کریم ہو، ویسلین ہو یا ہاتھ دھونے کا صابن ہو، الغرض کچھ بھی ہو تو وہ عورت کے نیم برہنہ اشتہار کے بغیر مارکیٹ میں نہیں آتی۔ موجودہ دور میں پروڈکٹ کے اشتہار کو جنسی جذبے سے بھی وابستہ کردیا جاتا ہے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام اور اشتہارات کے ذریعے پہلے ہی اخلاقیات اور مشرقی اقدار کا جنازہ نکالا جا چکا ہے اور اب مذہب بھی ان اشتہارات کی زد سے باہر نہ رہ سکا۔ فروری 2015ء میں ایک موبائل کمپنی نے Noir-Z7 موبائل متعارف کرایا، اس کا اشتہار ٹی وی پر دیا جس میں نیم برہنہ انگریز لڑکیاں چست لباس میں دکھائی گئیں۔ آخر میں برازیل سے تعلق رکھنے والی ماڈل Larissa Bonesi اس موبائل کے متعلق کہتی ہے کہ The Sexiest Phone in the World۔ اس اشتہار کے بعد غیرت مندوں نے بیہودگی پر احتجاج کیا لیکن پیمرا سمیت کسی حکومتی عہدیدار کو کوئی اثر نہیں ہوا۔ حکومت کے اس رویے سے موبائل کمپنی کو شہ ملی اور اس نے دو ماہ بعد ہی ایک اسلام مخالف اشتہار نشر کر دیا۔ اپریل 2015ء میں موبائل کا اشتہار آیا جس میں بظاہر موت کے فرشتے کو دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک لڑکے کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے اور کہتا ہے کہ چلو بیٹا ٹائم ختم، کوئی آخری خواہش؟

اس پر لڑکا کہتا ہے کہ جب تک میرے فون کی بیٹری چلے، اس وقت تک انتظار کرلیں۔اس پر موت کا فرشتہ رضامند ہو جاتا ہے اور انتظار کرنے لگتا ہے۔ اب لڑکا اِس وقت کو خوب انجوائے کر رہا ہوتا ہے، کبھی فلم دیکھتا ہے تو کبھی گانے سنتا ہے۔ کبھی فون پر بات کر رہا ہوتا ہے۔ اِس دوران موت کے فرشتے کو دکھایا جاتا ہے کہ وہ تنگ آگیا ہے کہ کب اس موبائل کی بیٹری ختم ہو اور وہ روح نکالے کیونکہ بیٹری بیس دن تک چارج رہتی ہے۔ مزید افسوسناک یہ کہ اس اشتہار میں فرشتے کی شکل ایسی بنائی گئی ہے کہ جیسی ڈراموں اور کارٹونز میں جنوں اور شیطانوں کی بنائی جاتی ہے۔ مقام افسوس یہ کہ اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس اشتہار کو روکا گیا۔ دسمبر 2015ء میں ایک سیلولر کمپنی نے اپنا ایک نیا اشتہار شائع کیا جس میں نرگس فخری کوہاتھ میں موبائل پکڑے اوندھے لیٹے ہوئے بیہودہ حالت میں دکھایا گیا تھا۔ اور یہ اشتہار پاکستان کے اکثر و بیشتر اخبارات کے پہلے صفحے پر شائع ہوا۔ اخبارات کے پہلے صفحے پر کبھی بھی اس طرح کا بیہودہ انداز میں کبھی شائع نہیں ہوا تھا، یہ ایک آغاز تھا جس نے بعد میں دوسری کمپنیوں کی ہمت بڑھائی۔ اس اشتہار پر بھی غیرت مند لوگوں نے آواز اٹھائی لیکن لبرل پسند حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

یہ بھی پڑھیں:   نسل کی حفاظت: نیک نسل، پرامن مستقبل

مئی 2017ء میں ایک موبائل کمپنی نے ایک مرتبہ پھر E1 موبائل کا اشتہار دیا ۔ اس اشتہار میں پاکستانی اداکار فہد مصطفیٰ بطور ماڈل جلوہ گر ہوئے، جس میں دکھایا گیا کہ وہ کسی لڑکی سے ملاقات کرنے جانے والے تھے، تاہم ان کے موبائل کی چارچنگ ختم ہوگئی، جس کے باعث وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ چلی گئی۔ اس اشتہار پر شدید انداز میں آواز اٹھائی گئی اور اس اشتہار پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تو پھر کہیں جاکر ایک مہینے بعد پیمرا کو ہوش آیا اور اس نے ایکشن لیا۔ ایک مہینے بعد پیمرا نے پریس ریلیز جاری کی کہ ’’کیو موبائل ای ون‘‘ کے اشتہار میں ایسا مواد نشر کیا جا رہا ہے جو ناشائستہ اور اخلاقیات کے عمومی قابلِ قبول معیارات کے برعکس اور پیمرا قوانین کی بیشتر شقوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا پیمرا آرڈیننس 2002ء (ترمیمی ایکٹ 2007ء) کی دفعہ (a)27 کے تحت کیو موبائل ای ون کے اشتہار پر مورخہ 10جون 2017ء بروز ہفتہ شام 6 بجے سے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف پیمرا آرڈیننس2002ء (ترمیمی ایکٹ 2007ء) کی سیکشن29 اور 30 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس بیہودگی پر کیا کارروائی ہوئی؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ کیونکہ اگر اس پر کارروائی ہوتی ، مقدمات بنتے او ر جرمانے عائد ہوتے تو اس کے بعد کسی کی ہمت نہیں ہوتی اس طرح کے بیہودہ اشتہارات چلانے کی۔ مارچ 2019ء میں آن لائن ٹیکسی سروس نے بائیک سروس کا آغاز کیا تو اس کا اشتہار اس طرح دیا کہ لال کلر کے عروسی لباس میں ایک لڑکی دکھائی جو ہاتھ بڑھا رہی ہے، اور اوپر لکھاہوا ہے کہ ’’ اپنی شادی سے بھاگنا ہو تو کریم بائیک کرو‘‘۔ اس اشتہار کو باقاعدہ بڑے بڑے سائن بورڈز پر لگایا گیا۔ اس اشتہار کے بعد غیور پاکستانیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کریم کمپنی کو یہ اشتہار اتارنے پر مجبور کیا۔ اس اشتہار پر حکومت کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس پر کریم کی ترجمان مدیحہ قریشی سے بات کی گئی تو انہوں نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتہار دراصل ہماری کمپنی کے اُن باقی اشتہارات کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد مزاحیہ انداز میں بائیک سروس کی تشہیر کرنا تھا۔ کتنے دھڑلے سے مدیحہ قریشی نے اس اشتہار کو مزاحیہ اشتہار کہہ دیا۔ حالا نکہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس اشتہار میں کوئی مزاحیہ پہلو نہیں ہے۔ سیدھا سیدھا لڑکیوں کو گھر سے بغاوت پر اکسانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ - پروفیسر جمیل چودھری

بات یہاں ختم نہیں ہوتی، جب کمپنیوں کے ایسے اشتہارات پر حکومتی سطح پر کوئی روک ٹوک نہیں لگائی گئی تو انہوں نے مزید حدیں پار کرنا شروع کردیں۔ ابھی چند دنوں پہلے جون 2019ء میں ایریل (Ariel) کمپنی نے ’’سرف‘‘ کا اشتہار نشر کرایا جس میں عورت کا چار دیواری میں رہنے کو ایک داغ قرار دیا۔ اشتہار اس طرح ہے کہ پہلے ایک جملہ آتا ہے کہ تم ایک لڑکی ہو، اس پر بڑا سا داغ بنا ہوا ہے۔ اس کے بعد جملہ دکھایا جاتا ہے کہ پڑھ لیا اب گھر سنبھالو، اس پر بھی بڑا سا دھبہ بنایا ہوا ہے۔ پھر آتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، اس جملے کو بھی داغدار کیا ہوا ہے۔ پھر آخر میں لکھا ہوتا ہے کہ چار دیواری میں رہو۔ یہ چار جملے دکھانے کے بعد اس اشتہار کی اصل کردار پاکستان ویمین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی بسمہ کہتی ہے کہ یہ صرف جملے نہیں، داغ ہیں۔ پھر پانچ خواتین ایک ساتھ کھڑے ہوکر کہتی ہیں کہ یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے۔ یعنی خواتین اور لڑکیوں کو چار دیواری میں رہنے کو ایک داغ قرار دیا ہے۔ یقینی طور پر ایریل کمپنی کا یہ اشتہار صریحاً اسلامی شعار کا مذاق ہے، گستاخی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہر چند مہینوں بعد کوئی ایسا اشتہار سامنے لایا جاتا ہے جو یا بیہودگی پر مبنی ہوتا ہے یا پھر اسلام کے کسی اصول کے مخالف ہوتا ہے۔ اور پھر شدید احتجاج کے باوجود اس پر ایکشن نہیں لیاجاتا۔

اس سے تو یہ بات نظرآتی ہے کہ معاشرے میں بے حیائی، فحاشی، عریانی اور اسلام مخالف سرگرمیوں کے آگے پیمرا سمیت حکومت کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے اور شک نہیں ہوسکتا کہ ایسے بیہودہ، غیر اخلاقی اور اسلام مخالف اشتہارات پر پیمرا اور حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل خاموشی اِس تمام عمل کی سب سے بڑی معاون نظر آتی ہے۔ اگر حکومت معاون نہیں ہوتی تو کب سے ان کمپنیوں پر پابندی لگاچکی ہوتی اور انہیں نشانِ عبرت بناچکی ہوتی اور اس کے بعد کبھی کسی کمپنی کو اس طرح کے اشتہارات بنانے کی جرأت نہیں ہوتی۔ بہرحال یہ سلسلہ تھمنے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔ اب پانی سر سے گزرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ معاشرے پر اس کے برے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور بچوں کو وقت سے پہلے بڑا کرنے اور باعزت گھرانے کی لڑکیوں کو بغاوت پر اکسانے اور انہیں بے راہ روی کے راستے پر لگانے میں بیہودہ ڈرامے اور ایسے اشتہارات بہت بڑا کردار ادا کررہے ہیں ۔ اگر اب بھی ان سرگرمیوں کو نہیں روکا گیا تو معاشرے کی بچی کھچی اخلاقیات اور غیرت مندی بھی فحاشی اور عریانی کے سیلاب میں بہہ جائے گی۔ پیمرا سے گزارش ہے کہ ایسے اشتہارات پر سختی سے نوٹس لے کر ایکشن لے اور ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائے۔