تعلیمی بجٹ میں کمی کا مفروضہ اور حقائق - وجیہہ اکرم

وجیہ اکرم، رکن قومی اسمبلی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم

قومی اسمبلی میں بجٹ 2019-20 پر بحث ختم ہوچکی تاہم کچھ ایسے حقائق ہیں جو قوم کے سامنے لائے جانا ضروری ہیں ۔دس ماہ پہلے جب تحریک انصاف نے 22سالہ جہد مسلسل کے بعدحکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی تو انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمیں ورثے میں بھاری قرضوں تلے دبی کمزور معیشت اور مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس وقت کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ ملکی وسائل کو کس بے رحمی کے ساتھ لوٹا گیا ہے ۔ ملک کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31ہزار ارب تک پہنچ چکا تھا ، جن میں تقریبا 97ارب کے قرضے بیرونی تھے جن میں زیادہ تر کمرشل سود پر لیے گئے تھے، گزشتہ پانچ سال میں برآمدات کے اضافے کی شرح صفر تھی ، عالمی سطح پر تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر جبکہ مالیاتی خسارہ 2260 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا. گزشتہ حکومت نے مصنوعی طور روپے کی قدربلند اور برقرار رکھنے کے لیے اربوں ڈالر جھونک دیے ۔ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو ہمیں زبردست چیلنجز کا سامنا تھا تاہم پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان کی بنیادرکھی تاکہ ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کی جانب سفر طے کیا جائے جس کا وعدہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔ نئی سوچ ، نیا جذبہ اور نیاپاکستان بنانے کے لیے تحریک انصاف نے جو خواب دیکھا وہ اب پورا ہونے کا وقت آیا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی لیڈر شپ کے سائے تلے جس طرح ہماری ٹیم مشکل حالات سے نبرد آزما ہے وہ شاید کچھ لوگ ابھی سننا اور دیکھنا نہ چاہیں لیکن انشائاللہ تاریخ اس بات کی گواہ رہے گی کہ کس طرح نامساعد حالات میں ملک کی کشتی کو وزیراعظم اور ان کی ٹیم اس طوفان سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے جو ہمیں پچھلے ادوار کی دین رہا ہے۔ موجودہ حکومت محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود، خوشحالی، یکساں معاشی ترقی، معاشرتی انصاف، قانون کی بالادستی،امن و امان کی مکمل بحالی، اتحادو یگانگت کے فروغ کے لیے ہر سطح پر اقدامات اٹھا رہی ہے اور ان تمام اہداف کو حاصل کرنے کے لیے استقامت کے ساتھ اپنے پروگرام کے تکمیل کے لیے ہر سطح پر اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے جس کا وعدہ اپنے منشور میں کیا گیا تھا۔

مجھے افسوس ہوتا ہے جب ہمارے دوست صرف اپنی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ان مشکلات کا ذکر تو کرتے ہیں جو ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے مگر وہ کسی بھی طرح یہ ماننے کو تیار نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کس طرح کم عرصے میں دوست ممالک سے کامیاب سفارتکاری کرتے ہوئے سرمایہ کاری کروائی جس سے گردشی قرضوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملی۔ تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مستقبل کو داو پر لگاتے ہوئے وہ مشکل فیصلے کیے جو شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کریں گے اور اداروں کو مضبوط کرنے کا مطلب ہمارے ملک کا روشن مستقبل ہے۔ ہم نے ہندوستان اور پاکستان کے stand off کے دوران کیا کامیابی حاصل کی۔ کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ ہم نے کس طرح انتہائی کم فنڈز میں اس ملک کے معاملات کو ٹھیک کرنے کی ٹھانی ہے۔ کوئی یہ بات نہیں کرے گا کہ چائنا سے روس تک اور سعودی عرب سے قطر اور عرب امارات تک کامیاب تعلقات کی از سر نو کون داغ بیل ڈال رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران جس طرح پاکستان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مگر کوئی بھی ان کامیابیوں کا تذکرہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دوست ممالک سے مؤخرادائیگی پرتیل کی سہولت حاصل کیسے حاصل ہوئی،95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے فنڈز جاری کس نے کیے؟اس پر سب خاموش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

تعلیمی بجٹ کے حوالہ سے بھی ایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا کہ ہم نے فنڈز کی کمی کی ہے لیکن اس حقیقت سے آنکھیں کیوں چرائی جاتی ہیں کہ جب debt servicing میں ہی ہمارے بجٹ کا 49.02% نکل جائے تو اس کے نتیجے میں لامحالہ تمام اداروں میں ایک واضح فنڈز کی کمی بہرحال ہمارا مقدر بنے گی اور ان مسائل کی آبادکاری پچھلے ادوار میں کن ذہین اذہان کی پیداوار تھی یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

وزارت تعلیم کے حوالہ سے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ ہم نے شاید education فنڈز میں کمی کی ہے تاہم اس کا نذکرہ نہیں ہوتا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت میں تین سو فیصد سے زائدفنڈز کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ اس پر بات نہیں ہوتی کہ پچھلے ادوار میں سکول سے باہر بچوں کے لئے کیا اقدامات کئے گئے تھے اور ہماری حکومت نے آتے ہی کس طرح بچوں کو سکول جانا یقینی بنانا اپنی بنیادی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ پچھلے ادوار کی ترجیحات کا اندازہ آپ صرف اس ان اعدادوشمار سے لگا سکتے ہیںکہ یونیسکو کی [english] out of the school children رپورٹ کے مطابق 18 ملین بچے سکول نہیں جارہے۔ ہم نے آتے ہی اس پر 4مختلف مراحل میں کام کرنے کی ٹھانی اور الحمداللہ پہلا فیز مکمل ہوچکا اور اب دوسرے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ماضی میں سندھ ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے اکثر علاقوں میں گھوسٹ تعلیمی اداروں کی بھرمار تھی تاہم ہم ان پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ ایسے تعلیمی اداروں کے وجود کو عملی شکل دی جا سکے اور محض کاغذات کی حد تک سکولوں کا وجود نہ رہے ۔مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کی حالت زار بھی ہمارے سامنے ہے اور صوبوں کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کو سہولیات فراہم کرنے کا آغاز بھی ہو چکا ہے ۔ ہمارا تعلیمی نظام کئی حصوں میں بٹ چکا تھا یہ تحریک انصاف ہی ہے جس نے انصاف کے نعرے کو عملی شکل دینے کا آغاز کیا اور یکساں نظام تعلیم پر کام کا آغاز کیا جاچکا جس کے تحت اعلی نجی سکول ، مدارس اور گورنمنٹ سکولوں کو یکساں نظام تعلیم کے تحت کیا جائے گا اس پروگرام کے تحت قومی اتحاد ویگانگت کو فروغ دیا جا سکے گا اور قوم کو تفریق میں بانٹنے والا نظام کا خاتمہ ہو سکے گا ۔تحریک انصاف کی حکومت[english] skilled base education کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے ان میں سب سے اہم منصوبہ knowledge economy کا قیام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی حاجیوں کی مشکلات - وسیم یوسف

مختلف ذرائع سے جو بات پھیلائی جارہی کہ تعلیمی بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے اور اس سے تعلیمی ہدف حاصل کرنے میں مشکل پیش آئے گی توواضح رہے کہ ایسا کچھ نہیں بلکہ تعلیمی بجٹ کو اس طرح سے تقسیم کیا گیا کہ کارکردگی میں اضافہ ہو۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایجوکیشن سیکٹر مختلف ابہام کا شکارہے۔ وفاقی سطح پر صرف ہائر ایجوکیشن ہی کام نہیں کر رہا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وفاق کے پاس فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن (FEPT) کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی ریسرچ ڈویژن بھی موجود ہے۔یہاں اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ حکومت نے current Expenditure کی مد میں 97155ملین سے کم کرکے 77262 ملین رقم مختص کی ہے جبکہ دوسری طرف development expenditure in education sector کی مد میں رقم 24292 ملین سے بڑھا کر 33780 ملین کر دی ہے۔ وفاقی بجٹ میں مختص رقم کی تقسیم کو سمجھنے کے لیے ان اداروں کو ایک ساتھ دیکھنا ہو گا۔ کسی کمیشن کے فنڈز کوکم کر کے ان فنڈز efficiently اور optimum utiliazation ہی بہترین حل ہوتا ہے تاہم کچھ لوگ اپنے سیاسی مفادات اور مخالفت برائے مخالفت کے نظریہ پر اس حقیقت کو تسلیم کرنے عاری ہیں۔

ان اعداو شمار کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تحریک انصاف کی تعلیم اولین ترجیحات میں سے ہے تاہم مخدوش حالات کے باوجود تعلیمی اہداف حاصل کرنے کے لیے فنڈز کی تقسیم اس انداز سے کی گئی ہے کہ نتائج بہتر ملیں اور تعلیمی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے ۔تعلیم کسی بھی ملک کے عروج وزوال میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اسی لیے تحریک انصاف کی اولین ترجیحات میں شعبہ تعلیم ہے اور ہم درجہ بدرجہ ایسی اصلاحات لارہے ہیں جس سے شعبہ تعلیم میں آنے والے بگاڑ کو مستقل بنیادوں پر ختم کیا جا سکے اور ہمارا نوجوان ایک بامقصد تعلیم حاصل کرکے اس ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس بجٹ میں فنڈز کی کمی میں سب سے پہلے ہم نے اپنے آپ کو نشانہ بنایا ہے۔ ہمارے تنخواہوں اور مراعات میں کمی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ talk the talk میں اور walk the talk میں کیا فرق ہوتا ہے۔ تحریک انصاف احتساب کا نعرہ لے کر میدان عمل میں اتری ہے اور یہ احتساب ہوتا دنیا کو نظر آرہا ہے آج اسی احتساب کی وجہ سے کچھ لوگ شور شرابا کرکے ایوان کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ قوم کا لوٹا پیسا واپس لائیں گے اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔اب وقت آگیا ہے کہ حساب لیا جائے کہ 31ہزار ارب روپے کا قرضہ کب،کیوں اور کس لیے لیاگیا، اتنی بڑی رقم اگر کچھ مخصوص افراد کی جیبوں میں جانے کی بجائے ہسپتالوں، سکولوں تفریح گاہوں، خسارے میں جانے والے اداروں میں لگائی جاتی تو آج پاکستان کے حالات کچھ اور ہوتے۔وزیر اعظم نے ان قرضوں کی تحقیق کے لیے کمیشن بنا دیا ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی عوام کے سامنے آ جائے۔