مودی کی کامیابی اور اقلیتوں کی حالت زار - آصف خورشید رانا

بھارت کے حالیہ انتخابات میں بھارتی جنتا بھارتی کی دوبارہ جیت نے جہاں بھارت کے سیکولر بنیادوں کو مزید کمزور کیا ہے وہیں بھارت میں موجود اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو بھی خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ نریندرا مودی کا سابق دور بھارت کی تمام اقلیتوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا رہا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو خود مودی کاپس منظر تھاجس میں اس کی وابستگی ان انتہا پسند ہندوؤں کے گروپوں سے رہی ہے جو بھارت کو ایک انتہا پسند ہندو ریاست بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ گجرات فسادات میں مودی کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار کے برسر اقتدار آتے ہی ہندو انتہا پسند گروپوں کی جانب سے دیگر مذاہب اور بالخصوص مسلمانوں پرحملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا۔ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو زبردستی ہندو بنانے اوردلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر تشدد کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں بھی ایسی بے شمار رپورٹ منظر عام پر آچکی ہیں کہ بھارت میں انتہا پسند عناصر حکومتی مشینری کی سرپرستی میں تشدد اور حتی کہ قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

حال ہی میں امریکی ادارے کی رپورٹ نے بھارت میں مذہبی آزادیوں کے حوالہ سے ایک خطرناک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق بھارت میں مذہب کی بنیاد پرایک نئی ریاست کا وجود سامنے آرہا ہے جہاں ہندو مذہب کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کی آزادیوں کو تشویش ناک حد تک خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادیوں کے حوالہ سے جو اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی جنتا پارٹی نظریہ ہندوتوا کے لیے اپنے ملک کے آئین سے بھی روگردانی کر رہی ہے۔ بھارت کے آئین میں ریاست کو ایک سیکولر کی حیثیت حاصل ہے جہاں تمام ریاست کے تمام افرادکو اپنے اپنے مذہب کے مطابق اس پر عمل، اظہار اور تشہیرکرنے کا پورا حق ہے۔ بھارت کا اپنا دعوی بھی ہے کہ بھارت کا آئین تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔تاہم عملی طور پر صورتحال بالکل مختلف ہے اور مودی سرکار کے برسراقتدار آنے ان گروپوں کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوگئی جو بھارت کی شناخت مذہب کی بنیاد پر بنانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں جن میں سرفہرست مخالف مذاہب کے ماننے والوں پر بدترین تشدد اور ان کو زندجلائے جانے کے واقعات ہیں۔امریکی ادارے کی اس رپورٹ میں اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا کہ مودی سرکار سراقتدار میں آنے سے جہاں مسلمانوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کیا گیا وہیں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر بھی مذہب میں تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یہاں یہ تذکرہ کرنابھی ضروری ہے کہ ماضی میں گرجا گھروں پر حملوں کے علاوہ وہاں موجود راہب خواتین کے ساتھ اجتماعی واقعات بھی دیکھنے میں ملے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستانی نمک ہیروں جتنا قیمتی ہے؟ ڈاکٹر وقاص احمد

گزشتہ سال بھی اسی طرح کی ایک رپورٹ امریکی ادارے کی طرف سے جاری کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارت کی انتیس ریاستوں میں سے آٹھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں قوانین تبدیلی مذہب پر پابندی عاید کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت کی کل آبادی ایک ارب اٹھائیس کروڑ ہے جن میں 79.8فیصد ہندو، 14.2فیصد مسلمان، 2.3فیصد عیسائی اور 1.7فیصد سکھ ہیں جبکہ باقی ایک فیصد میں دیگر بدھ، جین، زرتشت، یہودی اور بہائی لوگ شامل ہیں۔مسلمانوں کی بڑی تعداد اترپردیش، بہار، مہاراشٹر، مغربی بنگال، کرناٹک اورکیرالہ میں موجود ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد اکثریت میں ہے۔ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جہاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسلمانوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے تاہم بھارت نہ صرف اقوام متحدہ کی متفقہ قراردادوں پر عمل درآمد سے انکاری ہے بلکہ اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مسلمانوں کی نسل کشی سمیت ہر طرح کے تشدد کا راستہ اختیار کررہی ہے۔بھارت کا آئین سرکاری سکولوں میں مذہبی تعلیم کی ممانعت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں ایسے واقعات ہیں جن میں اسکولوں میں مسلمانوں کو بھارت کے مذہبی گیت گانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بھارت کے سرکاری تعلیمی نصاب میں بھی آئے روز مسلمانوں کے عقائد اور ان کے مشاہیر کے خلاف مواد نہ صرف شامل کیاجاتا ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی ایسا نصاب پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو ہندو عقائد کی ترویج کر تا ہے۔

بھارت کی انتیس ریاستوں میں سے چوبیس ریاستیں ایسی ہیں جہاں مسلمان یا دیگر مذاہب کے ماننے والے گائے ذبح نہیں کرسکتے۔ اس سے قبل مختلف ریاستیں جن میں راجھستان، پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور جموں کشمیر میں گائے ذبح کرنے پر دوسال تک قید کی سزا تھی جو مودی سرکار نے بڑھاکر دس سال تک کر دی تھی تاہم اس امتیازی قانون کی موجودگی کے باوجود بھارت میں گائے ذبح کرنے بلکہ صرف شبہ میں ہی ہر سال ایسے بیسیوں واقعات پیش آرہے ہیں جن میں ہندوانتہا پسند ہجوم کی شکل میں بری طرح تشدد کرکے مار دیتے ہیں۔بھارت کی جن ریاستوں میں یہ قوانین موجود ہیں وہاں اکثر مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسند ہجوم گائے ذبح کرنے یا اس کوایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے شبہ میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔بدقسمتی سے ایسے واقعات اول تو رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے تاہم اگر میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے کچھ واقعات رپورٹ ہوجائیں تو ایسے افرادکے خلاف بھارت میں قانونی سطح پر موجودنام نہاد امن کمیٹی کے اراکین شکایت کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ دوسری طرف ایسے افراد عدالتوں سے بھی ضمانت پررہا ہوجاتے ہیں۔الہ آباد ہائی کورٹ نے ان اٹھارہ افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا جو ایک مسلمان محمد اخلاق پر ہجوم کی شکل میں تشدد کرکے ہلاک کرنے میں ملوث تھے۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد راجھستان کی ایک عدالت نے ان پانچ افراد کو رہا کر دیا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک مسلمان ڈرائیور کو اس الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ گائے کو کسی دوسرے مقام پر لے کر جارہا تھا اس ہجوم کی تعداد دوسے کے قریب تھی اور اس حد تک تشدد کیا گیا تھا کہ وہ دوسرے روز چل بسا تاہم جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کو بھی رہا کر دیا گیا۔بھارتی عدالتوں کی اسی جانبداری کے باعث اب مسلمان سمیت دیگر اقلیتیں واقعات کو رپورٹ کرنے سے بھی گریز کرتی ہیں کیونکہ جب یہی لوگ رہا ہوجاتے ہیں تو پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شکر ہے بھارت کا رخ نہیں کیا! - احسان کوہاٹی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوبارہ برسراقتدار آنے اور مودی کی جانب سے وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد یہ صورتحال مزید پریشان کن ہو چکی ہے۔اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا انتہا پسند گروہوں کی جانب سے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے نتیجہ میں برسر اقتدار آنے والی جماعت کیا آنے والے دنوں میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو تحفظ دے سکی گی تو اس کا جواب نفی میں ہو گا جس کی بڑی وجہ ایسے افراد کا وزیرداخلہ بننا ہے جو براہ راست نہ صرف مسلمانوں کو دھمکیاں دینے میں ملوث رہا بلکہ اس پر کئی مقامات پر مسلمانوں کے خلاف فسادات کروانے اور تشدد کرنے کے مقدمات بھی درج ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے ذیادہ پریشانی پاکستان کے لیے ہے جو بھارت کا ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر میں ایک فریق بھی ہے۔ بھارت اگر اندرونی طور پر انتہا پسند گروہوں کے قبضہ میں ہے تو خطے میں بھی بھارتی برتری کے لیے جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے خطے کا امن داؤ پر لگ چکا ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی قوتیں بھارتی عزائم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے ورنہ وہ دن دور نہیں جب انتہا پسند طبقہ مودی سرکار کو کسی بھی بڑی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔