اقبال کا تصور خودی - اعزاز احمد کیانی

علامہ اقبال ؒگزشتہ صدی کےعظیم مصنف، شاعر، قانون دان ، ماہر معاشیات، صوفی ، فلسفی، سیاستدان اور احیائے اسلام کے داعی تھے ۔علامہ کی وجہ شہرت اگرچہ ان کی اردو و فارسی شاعری ہے لیکن علامہ کا فلسفہء خودی بھی اپنی شہرت میں کسی درجے کم نہیں ہے ۔ علامہ نے خود اپنی زندگی میں بھی فلسفہ خودی کو خاص اہمیت دی اور علامہ کی وفات کے بعد بھی ان کے قدردان ان کے اس فلسفے کو عام کرنے میں آج تک سعی مسلسل میں مصروف ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود عام عوام آج تک حکیم الامت اور اپنے قومی شاعر کے اس فلسفے سے بے خبر ہے۔

علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کے تشریح پر اپنے پاس سے کچھ کہنے سے بہتر ہے خود انہی کے خط کا ایک حصہ جو انہوں نے پروفیسر نکلسن کو ان کی فرمائش پر لکھا تھا، نقل کردوں جس کو ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنی کتاب "علامہ اقبال اور ہم" میں نقل کیا ہے۔
" ظاہر ہے کہ کائنات اور انسان کے متعلق میرا نظریہ ہیکل ا ور اس کے ہم خیالوں اور ارباب وحدت الوجود سے بالکل مختلف ہے جن کے خیال میں انسان کا منتہائے مقصود یہ کہ وہ خدا یا حیات کلی میں جزب ہوجائے اور اپنی انفرادی ہستی کو مٹادے ۔۔۔ میری رائے میں انسان کا مذہبی اور اخلاقی منتہائے مقصود یہ نہیں کہ وہ اپنی ہستی کو مٹا دے یا اپنی خودی کو فنا کردے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی انفرادی ہستی کو قائم رکھے، قرب الہی کا مقصد یہ نہیں کہ انسان خدا کی ذات میں فنا ہو جائے بلکہ اس کے برعکس یہ کہ خدا کو اپنے اندر جذب کر لے. میں نے افلاطون کے فلسفے پر جو تنقید کی ہے اس سے میرا مقصد ان فلسفیانہ مذاہب کی تردید ہے جو بقاء کے عوض فنا کو انسان کا مقصد قرار دیتے ہیں ، ان کی تعلیم یہ ہے کہ مادہ کا مقابلہ کرنے کے بجائے انسان کو ان سے گریز کرنا چاہئیے ۔ حالانکہ انسانیت کا جوہر یہ کہ انسان مخالف قوتوں کا مقابلہ کریں اور انہیں اپنا خادم بنالے ، اس وقت انسان خلیفۃ اللہ کے مرتبے تک پہنچ جائے گا۔

علامہ اقبال نے تصور خودی کی وضاحت پر ایک مستقل کتاب ( مثنوی) اسرار خودی تصنیف کی جو علامہؒ کے فلسفے کی بہترین تشریح ہے، ذیل میں اسی کتاب سے خودی کے مختلف پہلوں کو بیان کیا جا رہا ہے۔

نظام عالم کی اصل خودی :
ہم یہ جہاں کہتے ہیں جس کو اصل میں یہ آثار خودی ہےاور آنکھ جو دیکھتی ہے وہ اسرار خودی ہیں، جب تک خودی سوئی تھی خدا کے سوا کچھ بھی نہ تھا اور جب بیدار ہوئی تو ایک عالم پندار ہوگیا۔ خود نمائی خودی کی قدیم عادت اور اس کی طاقت سے ہر شہ پوشیدہ ہے . یہ قوت اگرچہ خموش ہے لیکن بیتاب عمل ہے اور عمل کے ساتھ پابند اسباب عمل بھی ہے ۔ اس جہاں کی زندگی خودی سے وابستہ ہے. خودی جتنی مضبوط ہوگی اتنی زندگی مضبوط ہوگی۔ قطرے نے جب خودی کو پالیا تو بے معنی قطرے سے قیمتی موتی بن گیا. پہاڑ نے جب خودی کھوئی تو بلندی سے زوال اس کا مقدر بنا اور صحرا کی شکل اختیار کرلی۔ زمین نے جب خودی کو پایا تو چاند اس کے گرد طواف کرنے لگا اور زمیں سے مضبوط ٹھہرا سورج جس کی روشنی کی زمیں بھی محتاج ہے۔

حیات خودی مقصد زندگی سے وابستہ ہے:
علامہ کے نزدیک خودی کی حیات کا دارومدار انسانی زندگی کے مقاصد پر ہے. علامہ کے نزدیک زندگی کی بقا مدعا یعنی مقصد میں پوشیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ نے اپنی اس مثنوی میں دل میں پختہ آرزو کی موجودگی کو ہی اصل زندگی سے تعبیر کیا ہے اور بے آرزو آدمی کو ایک مردہ شخص قرار دیا ہے.

خودی عشق سے مستحکم ہوتی ہے :
علامہ کے نزدیک خودی جذبہ عشق سے مضبوط ہوتی اور خودی کی قوتوں کا ارتقاء عشق سے ہوتا ہے۔ علامہ کے نزدیک ہر مسلمان کے دل میں ایک معشوق بستا ہے اور وہ ذات محمد مصطفیﷺ کی ہے۔ علامہ کے نزدیک یہ عشق ہی تھا جس سے خاک ثریا پر پہنچ گئی ، عشق کی کیفیتوں میں جب وجد آیا تو زمیں سے خاک نجد نے آسماں کا سفر طے کیا۔ علامہ نے یہاں بایزید بسطامیؒ کی مثال دی جنہوں نے عشق مصطفیٰ میں خربوزہ کھانا ترک کر دیا اور مسلمانوں کے عشق کا معیار بھی بایزید بسطامی کا عشق قرار دیا۔

عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

اس زمیں و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

خرد نے عطا کی مجھکو نظر حکیمانہ

سکھائی عشق نے مجھکو حدیث رندانہ

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ

عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام

خودی کا ضعف:
علامہ اقبال کے نزدیک سوال کرنے ، دوسروں پر انحصار کرنے ، محنت، ہمت و کوشش کو ترک کرنے اور دوسروں کے احسان اٹھانے سے خودی ضعیف ہوتی ۔علامہ مسلمانوں کو تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنی روزی آپ حاصل کر اوروں سے نہ مانگ ،بھیگ سے اجزاء خودی آشفتہ ہوتے ہیں ،چاند بن اور اپنی روزی اپنے پہلو سے حاصل کر لیکن یہاں علامہ نے ایک اور نقطہ بھی بیان کیا کہ چاند جو کہ سورج سے اپنی روزی ( روشنی) پاتا ہے اسلیے اسکے اپنے دل پر احسان کا داغ ہے ، مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں بھلے تمہیں پریشانیاں گھیر لیں تو بھی غیر کی نعمتوں سے روزی حاصل نہ کر تاکہ توروز حشر تو محمد مضطفیﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہو جب دل و جاں سب بڑی مشکل میں ہوں گے۔

نگاہ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے

خراج کی جو "گدا" ہو وہ قیصری کیا ہے؟

تربیت خودی کے تین مراحل :
اول ) اطاعت:-
علامہ اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت کے تین مراحل ہیں جن میں پہلا مرحلہ اطاعت کا ہے ۔ اقبال کے نزدیک اطاعت اور فرمابرداری ہی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتی ہے ۔ اقبال نے اونٹ کو بطور مثال پیش کیا ہے۔ اونٹ ہر وقت محنت ، ہمت اور کوشش میں مصروف رہتا ہے ، صبر و استقلال کا دامن تھامے رکھتا ہے ، کوئی جنگل ایسا نہیں جس کی قسمت میں اسکے نقش پا نہ ہو اہل صحرا کی یہ کشتی جیسی بھی منزل ہو خوشی سے اپنے مالک کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کیے چل پڑھتی ہے۔ اقبال مسلم امت کو بھی تلقین کرتے ہیں کے اپنے فرائض سے رو گردانی نہ کر بلکےاطاعت کا دامن تھامے رکھو اور اپنے آپ پر جبر کرو تا کہ تمہیں خود پر اختیار حاصل ہو ۔
اطاعت معبود سے نا کس بھی کس ہو جاتا ہے اور سرکشی سے آگ بھی مانند خس ہو جاتی ہے، ہوا نے گل ( پھولوں ) کے زندان خانوں میں رہ کر خوشبو کی صفت پائی، قطرہ وصل کے آئین سے دریا بن گیا، ذرہ اسی آئین کی پابندی سے صحرا بن گیا ،اےغافل انسان جب کائنات کی ہر شہ نے آئین کی پاسداری و وفاداری سے قوی اور مضبوط دل حاصل کر لیے توتم کیوں آئین کی پاسداری سے غافل ہو، اے مسلمان خود کو آئین سے آزاد نہ کر بلکے اس آئین ( حق) کی زنجیر کو اپنے گلے کی زینت بنا لے اور آئین کی سختی کا گلہ نہ کر بلکے خود کو حدود مصطفیﷺ کا پابند کر۔

دوم ) ضبط نفس:
اقبال کی خودی کی تربیت کا دوسرا مرحلہ ضبط نفس ہے ۔ فرماتے ہیں تیرا نفس کس درجہ خود پرور ہے، خود سری اور خود پرستی سے اس کا سینہ پر ہے۔ زندہ مرد بن اور اپنے نفس کی مہار کو اپنے ہاتھوں میں لے اور دنیا میں اپنی عزت و وقار حاصل کر ،جو اپنے آپ پر فرماں روا نہ ہو وہ دوسروں کے احکام کے تابع ہو جاتا ہے ۔ تیرے دل میں عقبیٰ، دنیا، ایماں اور جان کا خوف ہے ، تیرادل دولت ، جاہ و منصب، وطن، فرزند، اقرباء اور زن کی محبت کا مسکن بنا ہوا ہے۔ تیرے ہاتھ میں جب تک لاالہ کا عصا رہے گا ہر خوف و طلسم کو باطل بنائےگا، ایسے شخص کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور اس کا دل غیر اللہ کےڈر سے پاک ہو جاتا ہے۔ جو لاالہ کی حقیقت کو پا جاتا ہے وہ ہر فکر سے آزاد ہو جاتا ہے یہاں تک راہ حق میں اپنے بیٹے کی قربانی بھی اس کو گوارا ہوتی ہے۔لاالہ ایک صدف ہے گوہر جس کا نماز ہے ، مسلماں کے ہاتھ میں شمشیر ہے جس کا کام قتل فحشا اور نہی ومنکر ہے۔ روزہ تن پروری کے خیبر کو برملا توڑتا ہے، مومن کی فطرت حج سے جلا پاتی ہے، زکوات دل کو حُب دولت سے پاک کرتی ہے اور مساوات پیدا کرتی ہے۔ یہ سب احکام اور تعلیمات تیرے لیے وجہ استحکام ہیں(یعنی ضبط نفس میں معاون ہیں، ان احکام پر عمل ہی سے ضبط نفس کے مرحلے میں کامیابی ممکن ہے ۔ راقم) اور تمہاری پختگی اور ضبط نفس بھی قائم ہوگی اگر اسلام تیرا محکم یعنی مضبوط ہے۔یا قوی کے ورد سے اپنی طاقت برقرار رکھ اور اشتر خاکی پر سوار ہو جا۔

سوم) نیابت الہی:
اے مسلماں جب تو اس اونٹ پر سوار ہو جائے گا تو تیرے سر پر تاج ہوگا۔ حق کا نائب اس عالم کی جاں ہوتا ہے اور اس کا نام اسم اعظم ہوتا۔ وہ بڑھاپے میں شباب کی صفات پیدا کرتا ہے، وہ زندگی کی نئی نئی تفسیریں اور تعبیریں بیان کرتا ہے۔ غرضیکہ زمانے کو جینے کا انداز سکھاتا ہے۔

عام شعرا کے برخلاف علامہ اپنے پیچھے اپنے دیوان اور مخصوص انداز بیاں کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی چھوڑ گئے ہیں جس کو اہل علم اور اقبال شناسوں نے اگرچہ خوب سمجھا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ امت کی اس خستہ حالی اور زوال کے دور میں اقبال کی اردو اور فارسی شاعری کو عام کیاجائے۔ ٹی وی ،اخبارات ، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں،ادبی میلوں اور ادبی و علمی پروگراموں میں اقبالیات کو خاص اہمیت دی جائے اور قوم باالخصوص نسل نو کو اقبال کے پیغام اور فلسفے سے شناسائی پیدا کی جائے ۔بلاشبہ اقبال کے اشعار و خیالات قوم کے حق میں مانند آب حیات ہیں اور احیائے امت واحیائے اسلام اور قومی تربیت کے لیے جام شفاء ہیں۔

نہ ستارے میں نہ گردش افلاک میں ہے

تیری تقدیر میری نالہ بے باک میں ہے

کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے

زندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں ہے