دوسری شادی، اسلام آباد ہائی کورٹ کا غلط فیصلہ - شمشیر علی شاہد

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج نے پہلی بیوی اور مصالحتی کمیٹی کی اجازت کو دوسری شادی کےلئے شرط قرار دیا ہے۔اس فیصلے کو شرعی نکتہ نظر سے دیکھنا ضروری ہے کہ اب یہ سلسلہ عدالتوں میں عام ہوتا جارہاہے۔آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام میں نکاح کا کیا مقام ہے؟ نکاح کسے کہتے ہیں اور چاربیویوں تک کی تعداد کی کیا حقیقت ہے۔

نکاح کی حیثیت

نکاح کے لغوی واصطلاحی تعریف سے پہلے نکاح کی اہمیت اورمقام ومرتبہ اور ضرورت پر بحث کرنا ضروری ہے تاکہ یہ بات سمجھ آئے کہ اللہ تعالی نے آخر کیونکر نکاح کاحکم دیا ہے۔نکاح کی مشروعیت قرآن وسنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: "فانکحواماطاب لکم من النساء" (جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔) دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے: "وانکحوا الایام منکم" (اوراپنے بے نکاحوں کے نکاح کرواؤ۔) اور سنت رسول ﷺ سے بھی ثابت ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "یامعشرالشباب من استطاع منکم الباء فلیتزوج" (اے جماعت نوجوان تم میں سے جو نکاح کی قدرت رکھتاہے اسے نکاح کرلیناچاہیے۔)

اس پر اجماع ہے کہ نکاح مشروع ہے اور آدم علیہ السلام کے دورسے مشروع ہے اور نکاح جنت میں بھی نکاح برقرار رہےگا۔ نکاح کے مشروعیت کے کئی پہلو ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا۔ فرمایا: "النکاح من سنتی" (نکاح میری سنت ہے)

قرآن کریم کے متعدد آیتوں میں نکاح کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا اورپہلا مقصد عفت وپاکدامنی ہے۔قرآن میں اس کو حصن یا احصان قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ نکاح کے بعد مرد عورت ایک دوسرے کےلئے قلعہ بن جاتے ہیں۔اخلاق اور عصمت کی حفاظت نکاح سے ممکن ہے جب یہ مقصد فوت ہوجائے تو نکاح کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ قرآن میں ارشاد ہے: "محصنین غیر مسفحین محصنت غیرمسفحت" یعنی نکاح کرو عصمت وعفت اور اخلاق کی حفاظت کےلئے نہ کہ شہوت رانی کو پورا کرنے کےلئے۔نکاح کا مقصدیہ بھی ہے کہ میاں بھی ایک دوسرے کےلئے لباس بن جائے۔ الفت ومحبت اور مودت و رحمت کا ایسا رشتہ قائم ہو جس سے ان کی اخلاق کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ "ھن لباس لکم وانتم لباس لھن"

نکاح کے مشروعیت اس لیے بھی ہے کہ اس سے نسل انسانی کی حفاظت، اور جسم سے اس پانی کا نکالنا جو صحت کے لیے مضر ہے اور لذت حاصل کرنا ہے۔ امام سرخسی ؒ کہتے ہیں کہ بہت سارے دینی اور دنیوی مصالح عقد نکاح سے متعلق ہیں۔ اس میں عورتوں کی حفاظت و خبرگیری، نان نفقہ، نفس کو زنا سے بچانا اور اللہ کے بندوں، محمد ﷺ کی امت میں اضافہ اور آپ ﷺ کے اس ارشاد کہ "تزوجوا الودود الولود فان مکاثربکم الانبیاء یوم القیامۃ" (تم لوگ زیادہ محبت والی اور ذیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو تاکہ میں قیامت کے دن انبیاء پر کثرت میں فخر کروں۔) امام سرخسی ؒنے اپنے اس قول میں اضافہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالی نے بقائے عالم کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کا تعلق نکاح سے ہے۔ بقائے تناسل عادت وطی سے ہوتا ہے۔ اس لیے شریعت نے وطی کا ذریعہ نکاح بنایا کیونکہ بغیر نکاح سے ایک دوسرے پر غلبہ پانے میں فساد ہے، اشتباہ نسل ونسب ہے۔

نکاح کے بارے تصورات

نکاح کے بارے بہت سارے مختلف تصورات قائم تھے اور ہیں اسلام سے پہلے کئی مذاہب کے پیروکار نکاح کو تقوی، پرہیزگاری اور اللہ کی قربت کے خلاف تصور کرتے تھے۔ ہندوؤں اور عیسائیوں کا اس میں کافی اور خاص طور سے ذکر کیا جاسکتا ہے۔ ایران کا "مانی فلسفہ" جو مزدکی تحریک کے ردعمل میں اٹھا اس کی کھلی مثال ہے۔ پھر اسلام سے پہلے عربوں میں جو نکاح کے طریقے رائج تھے، ان کو حدیث رسول ﷺ میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں چار طرح سے نکاح کیے جاتے تھے۔ پہلا طریقہ وہی ہے جس طریقہ سے آج بھی لوگ کرتے ہیں ایک مرد، دوسرے مرد (ولی) کی طرف اس کی بیٹی یا رشتہ دار عورت کے لیے نکاح کا پیغام بھیجتا، وہ (ولی) مہر مقرر کرتا اور (اپنی بیٹی یا اپنی رشتہ دار عورت سے) نکاح کر دیتا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ عورت جب حیض سے پاک ہوجاتی تو شوہر اسے کہتا کہ فلاں (خوبصورت، بہادر اور خاندانی) مرد کو بلا کر اس سے زنا کرو۔ اس کے بعد جب تک حمل کا پتہ نہ چل جاتا عورت کا شوہر اس سے الگ رہتا۔ حمل واضح ہونے کے بعد اگر شوہر چاہتا تو خود بھی اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا۔ یہ اس لیے کیا جاتا کہ اعلی خاندان کی خوبصورت اولاد پیدا ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کہا جاتا ہے۔ تیسرا طریقہ یہ تھا کہ دس کی تعداد سے کم آدمی مل کر ایک ہی عورت سے بدکاری کرتے۔ حمل کے بعد جب وہ بچہ جنتی تو چند دنوں کے بعد وہ عورت ان سب مردوں کو بلا بھیجتی اور کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ آنے سے انکار کرے، جب وہ سارے مرد اکٹھے ہوجاتے تو عورت ان سے کہتی ’’جو کچھ تم نے کیا وہ خوب جانتے ہو، اب میں نے یہ بچہ جنا ہے اور اے فلاں ! یہ تمہارا بیٹا ہے۔‘‘ عورت جس کا چاہتی نام لے دیتی اور بچہ (قانونی طور پر) اسی مرد کا ہوجاتا جس کا عورت نام لیتی اور مرد کے لیے مجال انکار نہ ہوتی۔ نکاح کا چوتھا طریقہ یہ تھا کہ ایک عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے، ہر ایک اس سے بدکاری کرتا اور وہ عورت کسی کو منع نہ کرتی۔ یہ طوائفیں ہوتیں جو (علامت کے طور پر) اپنے گھروں پر جھنڈے لگا دیتیں، جو چاہتا ان کے پاس (بدکاری کے لیے) آتا جاتا۔ جب ایسی عورت حاملہ ہو جاتی اور بچہ جن لیتی تو سارے مرد جو اس کے ساتھ بدکاری کرتے رہے تھے کس قیافہ شناس کو اس کے پاس بھیجتے، وہ (اپنے علم قیافہ کی رو سے) جس مرد کو اس بچے کا باپ بتاتا، بچہ اسی کا بیٹا قرار پاتا اور وہ مرد انکار نہ کرسکتا۔ جب حضرت محمد ﷺ دین اسلام لے کر آئے تو آپ ﷺ نے جاہلیت کے سارے نکاح حرام قرار دے دیے، صرف وہی نکاح باقی رکھا جو اب بھی رائج ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ شادی نہیں ہوسکتی - عارف رمضان جتوئی

نکاح ایک ایسا عقد ہے جو ارادۃ اور قصدا عورت سے ملک متعہ کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی اس عورت سےمرد کے لیے استمتاع کی حلت کا فائدہ دیتا ہے، جس کےساتھ نکاح سے کوئی شرعی مانع نہ ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 24جون 2019ء کو ایک فیصلہ دیا ہے۔ فیصلہ یہ ہے کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت مصالحتی کونسل کی اجازت پر مشروط ہوگی۔ یہ کوئی آج کا اچانک واقعہ نہیں ہے بلکہ صدیوں سے یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اسلام دشمن قوتیں بالخصوص عیسائی پادری اور ملحدین کا ہدف تنقید ہمیشہ تعدد ازواج کا قانون رہا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ خود زانی اور بدکار ہیں، انہیں دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ عورت دوسری شادی کرتی ہے تو زنا کیوں نہیں کرتی؟ ایک بیوی والا شوہر باہر منہ کالا کرے لیکن دوسری شادی نہ کرے۔ تعدد ازواج کے مسئلے کوجج صاحب نہیں سمجھ سکے ہیں۔ اور یہ فیصلہ پرسنل لاء کی بنیاد پردیا ہے۔ قرآن و سنت اور فقہائے اسلام میں سے کسی نے بھی یہ اصطلاح اس سے قبل استعمال نہیں کی اور نہ ہی ان فقہاء کے یہاں یہ اصطلاح اس نام سے معروف تھی، بلکہ عائلی قانون سے متعلق احوال کے مخصوص نام تھے جیسے کتاب النکاح، کتاب الطلاق، باب الوصیۃ وغیرہ۔ یہ اصلا تیرھویں صدی میں ایطالیا میں نظریہ کا آغاز ہوا تو انہوں نے اسے یہ نام دیا نظریۃ الاحوال، اور پھر انہوں نے قوانین کو تقسیم کیا ایک (قوانین موضوعہ الاشخاص یسمی قانون الاحوال الشخصیۃ) اور جو قانون اشیاء سے متعلق تھا ان کو قانون احوال العینیہ کانام دیاگیا۔ ایطالیا میں استعمال کے بعد یہ اصطلاح یورپ میں بکثرت استعمال ہوئی اور یہ فرانسیسی قانون سے عربی میں داخل ہوا تھا۔ معاصرین میں سب سے پہلے اس لفظ کا استعمال محمد قدری باشا نے اٹھارہ سو نوے (1890ء) میں کیا، جس وقت اس نے مذہب حنفی پر تین کتابیں لکھیں۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام ''کتاب الاحکام الشرعیۃ فی الاحوال الشخصیۃ'' ہے۔ اور پھر جس معانی کے لیے استعمال کی گئی تھی اس کو ثابت کرنے کے لئے اسی اصطلاح کو لیا گیا۔

یورپ میں نشاۃ ثانیۃ کے دور میں مذہب کو سیاست سے بالکل دور اور الگ کر کے ایک پرائیویٹ معاملہ قرار دیاگیا۔ خدا کا عقیدہ اور ایمان، اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی طرح نکاح، طلاق اور وراثت جیسے مسائل کو شخصی قرار دیاگیا۔ اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے ہندوستان میں انگریزوں نے ان مسائل کے لیے "پرسنل لاء" کی اصطلاح وضع کی۔ اسلامی تصور دین کی نظر سے یہ اصطلاح غلط ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے سید احمدعروج قادری صاحب لکھتے ہیں: "یہ اصطلاح اسلامی تصور دین کے نقطہ نظر سے بالکل غلط ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ اس کو مسلم لاء قرار دیا گیا، حالانکہ نکاح، طلاق وغیرہ کا قانون اسلامک لاء ہے اور اس اعتبار سے بھی غلط ہے کہ اس کو پرسنل لا کہا گیا ہے، حالانکہ یہ قانون حقیقی معنی میں شخصی نہیں، بلکہ معاشرتی ہے۔ مسلم قوم کی بنیاد کسی وطن یا نسل یا زبان یا رنگ پر نہیں ہے، بلکہ اسلام پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء جن قوانین کا مجموعہ ہے، وہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ہے۔ یہ کوئی قومی اور وطنی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارا ملی مسئلہ ہے اور ملت اسلامیہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔

جو فیصلہ کیا گیا ہے، ہم اس کی مختصر وضاحت کیے دیتے ہیں۔ تعدد ازواج کے قانون پر اسلام دشمنوں کے بہت ہی سطحی اعتراضات ہیں، لیکن ہمارے پڑھے لوگ اور جج حضرات بھی ان اعتراضات سے متاثر ہیں، کیونکہ انھوں نے قرآن سے استفادے کی تکلیف ہی نہیں کی ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ سب سے پہلے اس مسئلے کی شرعی نوعیت کو جانا جائے۔ اور یہ مسلمان کا ایمان ہوناچاہیے کہ جب اللہ اور رسول ﷺکے مقابلے میں کوئی بھی آئے گا تو اس کا قول و فعل اور عمل مسترد کیا جائے گا۔ تعدد ازواج کی شرعی حیثیت سورۃ النساء آیت 3میں بیان ہوئی ہے۔ "اور اگر تم ان یتیم بچیوں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو، دو، تین تین ،چار چار سے نکاح کر لو لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکو تو پھر ایک ہی بیوی کرو، یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضے میں آئی ہیں۔ بے انصافی سے بچنے کےلیے یہ زیادہ قرین صواب ہے"

یہ بھی پڑھیں:   باپ سے دو روپے کے حصول کی سزا - ڈاکٹر افتخار شفیع

اس کے تین مفہوم مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ان کا مختصر خلاصہ یہ ہے۔ حضرت عائشہ رض سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو یتیم بچیاں لوگوں سرپرستی میں ہوتی تھیں، ان کےمال ودولت اور حسن جمال کی وجہ سے، یا یہ کہ ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں، جیسا چاہیں گے ان کو دبا کر رکھیں گے، ان سے خود شادی کرتے تھے اور پھر ان پر ظلم کرتے تھے۔ ابن عباس اور عکرمہ اس کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرد دس دس اور اس سے زیادہ بیویاں رکھتا تھا اور پھر جب مصارف بڑھتے تھے تو دوسرے رشتہ داروں اور عزیزوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا تھا۔اس پر اللہ نے یہ حکم فرمایا کہ ایک سے چار تک اتنی بیویاں کرو جن کے ساتھ تم عدل کر سکو۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے یہ تفسیر کی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے اور ان پر ظلم کو برا سمجھتے تھے، البتہ خواتین اور عورتوں کے معاملے میں یہ لوگ بہت گرے ہوئے تھے۔ یہ جتنی چاہتے تھے شادیاں کرتے تھے اور پھر ان پر ظلم کرتے تھے۔ اس پر اللہ نے حکم دیا کہ جس طرح یتیموں کے بارے میں ڈرتے ہو، اسی طرح عورتوں کے بارے بھی ظلم سے باز آؤ۔ چار تک ہی سے نکاح کرو، مگر ان میں بھی اتنے سے جن سے تم عدل کے ساتھ پیش آسکو۔

اللہ نے اس آیت کے ذریعے سے کثرت نکاح کی اجازت نہیں دی بلکہ تحدید کی ہے، اور صرف چار عورتوں کےساتھ نکاح کی اجازت دی، وہ بھی اس شرط پر کہ جب شوہر عدل قائم کر سکتا ہو۔ یہ ایک شرط جسے اللہ نے بیان کیا ہے، کئی شرطوں سے سخت اور مشکل ہے۔ کیا یہ کوئی آسان کام ہے کہ ایک شخص بیک وقت دو، تین یا چار بیویوں میں عدل قائم کر سکے۔ یہ انتہائی مشکل کام ہے۔ باری میں تقسیم، اخراجات میں تقسیم کوئی آسان کام نہیں۔ اس شرط پر صرف وہی لوگ پورا اترسکتے ہیں جو شریعت کے احکام پر اپنے نفس کو قربان کرسکتے ہیں اور اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اگرچہ اخلاقی کمزوریوں اور معاشرتی رویوں کی وجہ سے تعدد ازواج نے پیچدگیاں پیدا کی ہیں، لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ایک اسلامی قانون پر پابندی لگا دی جائے، بلکہ عدل کی جو شرط لگائی اس کو عملا نافذ کرنے کی تدبیر کی جائے۔ اس وقت پاکستان میں 4 ملین خواتین کسی نہ کسی وجہ سے شادی سے محروم ہیں۔ اگر ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگا دی جائے تو یہ خواتین کہاں جائیں گی؟

اسلام میں تعدد ازواج کی حکمت پر عالم اسلام کے نامور عالم سید قطب شہیدؒ نے بہت ہی جامع انداز میں اظہار خیال کیا ہے: ”تعدد ازواج کی رخصت ایک ضرورت ہے جو اپنے دائرے میں امن کی مضبوطی کا فریضہ سرانجام دیتی ہے، جیسا کہ طلاق کی ضرورت حسب اقتضاء یہی کام کرتی ہے۔ اسلام میں اس کی حیثیت محض ایک اجتماعی بچاؤ کی ہے جس کے ذریعے وہ افراد کی آمیزش اور بیویوں اور خاوندوں کی خواہشات سے زیادہ بڑے خطروں سے بچتا ہے۔ ہر قوم میں مرد بھی ہوتے ہیں اور عورتیں بھی، اور جب قابل نکاح مردوں کی تعداد، جو اس کے لیے تیار اور خواہش مند ہوں، قابل نکاح عورتوں کی تعداد، جو نکاح کی طرف راغب ہوں، کے برابر ہو تو اس حالت میں عملی طور پر ناممکن ہے کہ ایک مرد ایک سے زیادہ عورتوں کو حاصل کرسکے۔ لیکن اس کے برعکس جب قومی توازن بگڑ جائے، اور قابل نکاح مردوں کی تعداد عورتوں کی تعداد سے کم رہ جائے، چاہے یہ قلت گنتی کے اعتبار سے ہو جیسا کہ جنگوں اور وباؤں کے بعد ہوتا ہے، جن کا زیادہ تر شکار مرد ہی ہوتے ہیں، یا کسی اور سبب سے ایسا ہوجائے، یا یہ قلت معاشی، خاندانی یا عام اجتماعی اسباب کی بناء پر نکاح کی قدرت نہ ہونے کی وجہ سے ہو، تو فقط یہی ایک صورت ہے جس میں ایک مرد ایک سے زیادہ عورت کی استطاعت رکھ سکتا ہے۔

خلاصہ کلام: ایک مرد چار تک خواتین سے نکاح کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ ان میں عدل (باری کی تقسیم، نان نفقہ وغیرہ) قائم کرسکتا ہو۔ اگر عدل قائم نہیں کرسکتا تو ایک بیوی پر اکتفاء کرے گا۔ فاضل جج کا فیصلہ شرعی نصوص سے متصادم ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے۔