جماعتیں سوشل میڈیا سے نہیں چلتیں - مولانا راشد محمود سومرو کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: امیر جان حقانی

جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی شہادت کے بعد راشد محمود سومرو کا نام ملک بھر میں گونجنے لگا۔ جے یو آئی کو صوبہ سندھ میں تحریک سی ملی۔ تب سے مجھے بھی راشد سومرو میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر سومرو نفیس طبیعت کے مالک انسان تھے۔ ملک بھر میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد یقینا ان کے صاحبزادے نے جانشینی کا منصب سنبھالا اور حق ادا کیا۔ مولانا راشدمحمود سومرو جمیعت علمائے اسلام پاکستان کے انٹرا پارٹی الیکشن 2019 کے ناظم ہیں۔ ان کی نگرانی میں ملک بھر میں الیکشن ہورہے ہیں۔ نوجوان عالم دین جمیعت علمائے اسلام سندھ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی درس نظامی کی تکمیل اورشاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے پولیٹیکل سائنس اوراسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرکیا۔ جامعہ اسلامیہ اشاعت القرآن و الحدیث کے نائب مہتمم اورمدارس کے ایک چین کا منتطم اعلی ہیں اور متحدہ مجلس عمل سندھ کے صدر بھی ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی اور سماجی انصاف کے لیے اندرون سندھ میں بالخصوص اور پورے سندھ میں بالعموم متحرک رہتے ہیں۔گلگت بلتستان کے جے یو آئی کے الیکشن کے حوالے سے اپنی ٹیم کے ساتھ گلگت تشریف لائے تھے، تو موقع سے فائداہ اٹھاتے ہوئے ان سے ایک مفصل انٹرویو کیا۔ جمیعت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے مرکزی رہنماء اور سابق ممبر اسمبلی حاجی رحمت خالق کے دولت کدے پر جے یو آئی کے مرکزی عہدہ داروں کی موجودگی میں راشد سومروکے ساتھ سوال و جواب کی شکل میں مکالمہ شروع ہوا۔ سوالات اتنے سخت اور تلخ تھے، کہ خدشہ تھا سومرو صاحب برانگیختہ ہوں گے، لیکن انہوں نے متانت اور سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے جوابات عنایت کیے۔ کئی بار طیش دلانے کی کوشش بھی کی لیکن انہوں نے باوجود تھکاوٹ اور ناسازیِ طبع کے مدلل گفتگو کی۔گفتگو سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ راشد سومرو بہترین خطیب بھی ہیں۔ ان سے ہونے والے سوال جواب پیش خدمت ہیں۔
سوال : آپ جے یو آئی پاکستان کے مرکزی ناظم انتخابات ہیں، انٹراپارٹی الیکشن کا کیا میکانزم ہے؟
جواب : ہماری جماعت بھی دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح ایک رجسٹرڈ سیاسی پارٹی ہے۔ جماعتی منشور سیاسی و جمہوری ہونے کے ساتھ احیائے دین کی سفارش کرتا ہے۔قانون قاعدے کے مطابق ہر پانچ سال بعدملک بھر میں انٹراپارٹی انتخابات ہوتے ہیں۔انتخابات سے پہلے یونٹ سطح تک رکنیت سازی کا عمل شروع ہوتا ہے ۔چار پانچ ماہ میں صوبہ، ڈویژن، ضلع ، تحصیل اور یونٹ سطح تک رکنیت سازی مکمل کی جاتی ہے جس میں فیس ، شناختی کارڈ ،پرت پردستخط اور مکمل معلومات کیساتھ جماعت کی رکنیت حاصل کی جاتی ہے اورضلعی امراء اور جنرل سیکریٹریز منتخب ہوتے ہیں اور پھر صوبائی انتخابات ہوتے ہیں۔جماعت کا انتخابی طریقہ کاربہت ہی اعلی ہے اور شفاف الیکشن ہوتے ہیں۔

سوال: آپ کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات پر سخت قسم کی تنقید ہورہی ہے۔جماعتی احباب ہی دھاندلی کا شور مچارہے ہیں۔ایسا میکانزم ہونے کے باوجود دھاندلی کیوں کر ممکن ہے؟
جواب : جماعت کا انتخابی میکانزم انتہائی سخت ہے۔ ملک بھر کے اضلاع میں الیکشن ہو رہے تھے۔ امراء و جنرل سیکرٹریز منتخب ہوچکے تھے۔ ہمیں ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئیں۔ سخت نوٹس لیا۔ جہاں شکایت درست ثابت ہوئی تو ان کو کالعدم قرار دیا۔ جس پر بڑا شور بھی ہوا لیکن کسی صورت دھاندلی قبول نہیں کی جا سکتی تھی، اس لیے بہت سارے الیکشن کالعدم قرار دیے، عہدیداروں کو معطل کردیا اور نئے سرے سے انتخاب عمل میں لائے گئے۔ ہماری جماعت کے کچھ سوشل ورکرز ہر وقت اپنی جماعت کے خلاف ہی کمپین میں لگے رہتے ہیں۔ جماعتیں سوشل میڈیا سے نہیں چلتیں، کیا دیگر سیاسی جماعتوں کے ورکرز بھی اپنی جماعت کے مرکزی فیصلوں اور ہونے والے انتخابات پر اتنی بے جا تنقید کرتے ہیں۔ تنقید کے باوجود بھی یہ تمام ورکرز ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ اگر جماعت کے کسی ممبر کو شکایت ہے تو تحریری طور پررجوع کریں، ہم ہرممکن کوشش کریں گے کہ ان کی شکایت کا ازالہ کیا جاسکے اور شکایت درست ہونے پر ان کی توقع سے زیادہ ایکشن لیا جائے گا۔

سوال : یہ بلامقابلہ جیت کیا بھلا ہے؟
جواب : عموما کانٹے دار مقابلہ ہوتا ہے۔آج گلگت میں بھی امیر اور جنرل سیکرٹری کے الیکشن میں سخت مقابلہ ہوا، ایک ووٹ کے فرق سے ہار جیت ہوئی۔ تاہم بعض مقامات پر بلامقابلہ جیت بھی ہوئی ہے تو یہ جماعت کے مرکزی اراکین اور رہنماؤں اور کارکنوں کا اعتماد ہے جو کسی خاص ممبر کواس کی محنت، صلاحیت، قربانی اور جماعت کے ساتھ کمٹمنٹ کی وجہ سے بلامقابلہ منتخب کرتے ہیں۔ مجھ پر بھی قائد جمیعت، مرکزی رہنماوں اور کارکنوں کا اعتماد ہے۔ مولانا عطاء الرحمان پر بھی اعتماد کیا گیا اس لیے مولانا نصیب گل صاحب کے کاغذات واپس لیے گئے۔ باہمی احترام کی واضح دلیل ہے۔

سوال : مولانا آپ پر اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہونے کا الزام ہے ۔یہ الزام آپ کی جماعت کے ہی ورکرز لگا رہے ہیں۔ آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
جواب : یہ الزامات ہر اس انسان پر لگتے ہیں جو کام کرتا ہے۔ میری پہلی ترجیح جماعت ہے۔ جماعت کے مفادات، پالیسیاں، فیصلے اور کارکن ہیں۔ دینی مدارس و مساجد ہیں۔ دینی اقدار ہیں۔ کارکنوں اور مدارس و مساجد کا تحفظ ہے۔ مجھے جماعت کے بزرگوں نے سندھ جیسے بڑے صوبے کی اہم ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ بطور ذمہ دار مجھے ڈی جی رینجرز سے بھی ملنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ اور فورسز اور حساس اداروں کے لوگوں سے بھی مختلف اوقات میں گفت و شنید کرنی پڑتی ہے۔ نظریاتی طور پر مخالف سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے اراکین اور لیڈروں سے بھی بیٹھک کرنی پڑتی ہے۔ ہم بلاوجہ اداروں، انتظامیہ اور سیاسی و مذہبی پارٹیوں سے مخاصمت نہیں چاہتے۔ اداروں کے ساتھ تعاون اور مکالمے ہی کی وجہ سے پورے صوبہ سندھ میں جماعت کے کسی بھی کارکن پر آیف آئی آرنہیں ہے۔ کوئی فورتھ شیڈول میں نہیں ہے اور نہ ہی پورے صوبے سے جماعت کا کوئی لیڈر یا عام کارکن کسی ایجنسی کے پاس محبوس ہے۔ سندھ بھر کی مساجد اور مدارس پر جب بھی مشکل وقت آجاتا ہے تو میں جماعتی سطح پر فورا انتظامیہ اور دیگر حساس اداروں سے رابطہ کرتا اور مسائل سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر کوئی دوست ان خدمات اور کوششوں کو ایجنسیوں کی خدمت گری سے تعبیر کرتا ہے یا مہرہ جیسا غلیظ لفظ استعمال کرتا ہے تو یہ اسی کا حوصلہ ہے۔ میں اس کو کچھ بھی نہیں کہوں گا۔ باقی میری تمام ایکٹیویٹیز کا علم مولانا سمیت جماعت کے بزرگوں کو فورا ہوجاتا ہے۔ میں خود انہیں مطلع کرتا ہوں۔ دراصل تنقید وہی لوگ کر رہے ہیں جو غالبا ایک پہلو سے آگاہ ہیں۔ اگر ان کے سامنے تمام پہلو اور اصل صورت حال آجائے تو شاید سب سے زیادہ تحسین بھی وہی کریں گے۔ ان کو اس اینگل سے بھی حالات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ درست تفہیم کی صورت پیدا ہوسکے۔

سوال : آپ ہی تنقید کے نشانے پر کیوں؟ کہیں آپ کی مقبولیت سے خائف تو نہیں کوئی؟
جواب : تنقید اسی پر ہوتی ہے جو زیادہ خدمت کرتا ہے۔ ہماری پارٹی کے اندر شکایات اور ان کے ازالے کا پورا میکانزم موجود ہے۔ تنقید کرنے والے احباب بالائی جماعت سے رجوع کریں۔ مجھ پر زبانی کلامی الزامات لگانے کے بجائے تحریری شکایت کریں۔ میں ان کے الزامات کا احترام سے جواب دوں گا۔ پھرجماعت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم سب کو قبول کرنا ہوگا۔ میں تنقید سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ شدید تنقید کو بھی پسند کرتا ہوں۔ بات درست ہو تو اصلاح کی کوشش کرتا ہوں۔ تنقید برائے اصلاح کا قدردان ہوں۔ تاہم تنقید اور تضحیک میں فرق ضروری ہے۔ اختلاف اور مخالفت کا جاننا بھی ضروری ہے۔ کچھ احباب تنقید کی آڑ میں تضحیک اور اختلاف کے بہانے سے مخالفت کرتے ہیں۔ یہ چیز ہمیں اجتماعی طور پر تنزلی کی طرف دھکیل دے گی، اس بے جا مغزماری سے کوئی مثبت رزلٹ نہیں ملے گا۔ یہاں تک مقبولیت سے خائف ہونے کی بات ہے تو شاید ایسا کچھ نہیں۔ مخالفت کرنے والوں کے پاس پوری خبر نہیں ہوتی۔

سوال : کیا جے یو آئی شدید ترین موروثیت کا شکار نہیں؟ تمام عہدے مولانا اور اس کی فیملی کے اردگر د کیوں گھومتے ہیں۔ مولانا خود مستقل امیر، بھائی خیبر پختون خواہ کے امیر، اور بیٹا پارلیمانی لیڈر، کیا موروثی جماعت کہلانے کے لیے یہی کافی نہیں؟
جواب : مولانا فضل الرحمان کی سیاسی دانشمندی اور سیاسی حرکیات کا اپنے تو کیا غیر بھی معترف ہیں بلکہ غیر مسلم بھی معترف ہیں۔ نیشنل میڈیا کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیا بھی اس چیز کا برملا اعتراف کرتا رہتا ہے۔ بڑے بڑے لکھاری اور سیاسی تجزیہ نگار بھی مولانا کی سیاسی بصیرت کا اعتراف اپنی تحریروں اور ٹی وی ٹاکس میں کرچکے ہیں۔
پھر مدارس و مساجد کے آئمہ اور علمائے کرام ان پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں اپنا نمائندہ اور اکابر علمائے دیوبند کے سیاسی افکار کا جانشین قرار دیتے ہیں۔ اپنے سالانہ پروگراموں میں بطور چیف گیسٹ مدعو کرتے ہیں۔ مکمل تعاون اور دعاؤں کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے۔ پھرمولانا کو مدارس و مساجد کی چوکیداری سونپی جاتی ہے تو پھر کیوں کرمولانا کو الیکشن یا کسی اور ذریعے سے امارت سے دور کیا جاسکتا ہے۔ جماعت میں مولانا کے پایہ کا کوئی سیاسی لیڈر موجود ہی نہیں۔ جماعت کے منشور کو جس انداز میں مولانا آگے لے جا رہے ہیں اور جماعت کے تمام مرکزی رہنماء ہر مشکل میں مولانا ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو پھرجمہوریت کے نام پر، یا موروثیت کے پروپیگنڈے سے خوفزدہ ہوکر، مولانا کو امارت سے قطعا جدا نہیں کیا جاسکتا۔ مولاناکے بھائی امیر بنے ہیں تو انٹراپارٹی کے کئی الیکشنوں میں ہارے بھی ہیں۔ جہاں تک مولانا کے بیٹے مولانا اسعد محمودکو پارلیمانی لیڈر بنانے کی بات ہے تو یہ نہ مولانا فضل الرحمان نے بنایا ہے نہ ہی اس کے کسی رشتہ دار نے۔ یہ فیصلہ جماعت کے سترہ اراکین اسمبلی کا ہے۔ اور ایم ایم اے نے ان کو متفقہ پارلیمانی لیڈر بنانے کی منظوری دی ہے۔ پارلیمانی لیڈر کے چناؤ کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی میٹنگ میں مولانا شریک نہیں تھے۔ تو یہ الزام بھی لغو ہے۔ باقی اگر مولانا کی فیملی کے لوگ باصلاحیت ہیں تو ان کو عہدہ دینے یا لینے میں کیا حرج ہے؟ انبیاء کرام نے بھی تو اپنے بھائی، بیٹے اور رشتہ دار مانگے تھے، اللہ سے جانشینی اور دینی امور میں معاونت کے لیے، تو شرعی طور پر بھی کسی سربراہ جماعت کا کوئی رشتہ صلاحیت اور قربانی کی بنیاد پر کسی عہدہ پر پہنچ جاتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ بلکہ یہ تو ایک مستحسن چیز ہے۔ ویسے کیا پورے پاکستان میں مولانا فضل الرحمان کے رشتہ دار عہدہ پر ہیں؟گلگت بلتستان، بلوچستان، پنجاب، سندھ میں کون کون مولانا کی فیملی کے ہیں؟ اور خیبرپختون خواہ میں دو چار کو ایشو بنایا جاتا ہے حالانکہ وہاں بھی جماعت کی مرکزی قیادت دیگر علماء کرام کے پاس ہے۔ مرکزی فیصلوں میں وہ بااثر ہیں۔ سینکڑوں مرکزی رہنمابں میں ایک دو مولانا کے رشتہ دار بھی ہوں تو اس کو مورثیت کا الزام دیناسراسر زیادتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا صاحب کا ’’ورنہ‘‘ - مجیب الرحمن شامی

سوال : مولانا نے عمران خان کو یہودی ایجنٹ بنا دیا اور آپ نے لاڑکانہ میں یہودی ایجنٹوں کے ساتھ اتحاد کرکے ان کی کمپین چلائی، جس کے ثبوت موجود ہیں۔ کیوں؟
جواب : یہ ایک خالص پروپیگنڈا ہے۔اصل بات تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ لاڑکانہ کی سطح پر ایک اتحاد قائم ہوا۔ اس لوکل سطح پر قائم ہونے والے اتحاد میں لاڑکانہ کے علماء و مشائخ، عام لوگ، دیگر جماعتوں کے لوگ، اور اسی طرح وہاں کے بااثر دیندار اور سماجی ورکرز شامل تھے۔ جن کے علاقے کی بہتری کے لیے کچھ ٹارگٹس طے تھے، بہت سارے امور میں اتفاق رائے قائم کیا گیا۔ ہمیں بھی مدعو کیا گیاتو ہم نے بھی وہاں کی سیاست پر عشروں سے قابض جابروں اور جاگیردارں سے اور انتظامی ذمہ داروں کی مکارانہ چالوں سے چھٹکارا پانے کے لیے اس اتحاد میں بھرپور حصہ لیا، قائدانہ کردار ادا کیا۔ یہ اتحاد پی ٹی آئی سے قطعا نہ تھا بلکہ وہاں کے بااثر شخصیات اور عام لوگوں سے تھا۔ سردار ممتاز علی بھٹو، بطور نمائندہ چنا گیا۔ وہ ن لیگ میں تھے۔ اتحاد کے کافی عرصہ بعد وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور اب وہ پی ٹی آئی میں بھی نہیں رہے۔ ایسے میں اتحاد اور حمایت کا پروپیگنڈہ کرکے معصوم ذہنوں کو خراب کرنا بھی ابلاغی دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔ بدقسمتی سے کچھ اپنے بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے لاڑکانہ میں ایک عورت کو ٹکٹ جاری کیا، اس نے میرے مقابلے میں الیکشن لڑا، اور نو ہزار ووٹ لیے۔ مجھے باون ہزار ووٹ ملے اور میرے نو ہزار ووٹ مسترد کیے گئے۔ تو کاہے کا اتحاد؟ تاہم یہ ذہن میں رہے کہ ہمیں غیروں کی ریشہ دوانیوں کے ساتھ اپنوں کی بے رعنائیوں کا بھی سامنا ہے اور ہم بھرپور طریقے سے سامنا کر رہے ہیں۔

سوال : جمیعت علمائے اسلام سماجی امور بالخصوص اچھے تعلیمی اداروں کے قیام، ہسپتال اور فلاح و بہبود کے کاموں میں کیوں پیچھے ہے؟
جواب : بہترین عصری تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے جے یو آئی کی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی نے طویل بحث و مباحثے کے بعد اس کو اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے جدید تعلیمی سسٹم کے اجراء کی منظوری دی ہے۔ نام بھی تجویزکیا گیا ہے، تاہم بدقسمتی سے اب تک اس منصوبے کا آغاز نہیں کیا جاسکا۔ اصل بات یہ ہے کہ اب تو جماعت کا کام چوکیداری تک محدود ہوگیا ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے اسلام دشمنوں کے ساتھ مل کر مدارس اور مساجد کا وجود ہی ختم کرنے کی ٹھانی ہے۔ جماعت ان کی بقاء کی جنگ میں لگی ہوئی ہے۔ جب چوکیداری سے فراغت کے بعد مالکانہ حقوق حاصل کیے جائیں گے تو یہ کام بھی ہوں گے۔ مالکانہ حقوق کے لیے پارلیمان میں بھاری اکثریت لازمی ہے۔

سوال : مالکانہ حقوق اور پارلیمان میں بھاری اکثریت کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟
جواب : سردست اس کی کوئی ترکیب نظرنہیں آرہی ہے۔ عالمی استعمار اور اس کے گماشتے کبھی نہیں چاہیں گے کہ دیندار طبقوں بالخصوص جمیعت علمائے اسلام کو مالکانہ حقوق ملیں۔

سوال : کیا کبھی ممکن نہیں؟
جواب : جی ہاں! لیکن ایک شرط کے ساتھ ممکن ہے کہ دیگر پارٹیوں کی طرح جے یو آئی بھی لوکل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کاربنے۔ عالمی طاقتوں اور صیہونی ایجنڈوں کو پروان چڑھائے، دینی احکام اور ملکی اقدار کو روند کر مغربی ثقافت کی پرچار کرنے اور مسلم ممالک کی سیاسی آزادی کا سودا کرنے کی یقین دھانے کرائے،اورعالمی سیاست میں مسلم کمیونٹی کے لیے سب سے زیادہ زہرناک، منظم خطرہ اور رکاوٹ یہودی قوم اور ان کے مکروہ عزائم ہیں۔روس اور امریکہ جو دراصل ان کے مکروہ عزائم کی تکمیل کے پرچارک ہیں۔ان کے عزائم میں رکاوٹ نہ بننے کی یقین دھانی کرائے تو جے یو آئی کو ہنگامی بنیادوں پر اقتدار مل سکتا ہے لیکن جماعت کے لیے ایسا ممکن نہیں۔جے یو آئی سیاسی آزادی کے بعد ثقافتی غلامی کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتی۔ عالم اسلام کو ثقافتی اور تہذیبی طور پرزیر کرنے کی ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ ثقافتی اور تہذیبی استقلال اور استحکام کے بغیر سیاسی آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی اور نہ زیادہ دیر پنپ سکتی ہے۔

سوال : کیا ثقافتی یلغار روکنے اور سماجی و سیاسی بیداری کے لیے جماعت کے پاس کوئی پلان ہے؟
جواب : بدقسمتی سے اس حوالے سے کوئی واضح پلان نہیں۔ اور نہ ہی کسی دینی و سیاسی جماعت اور ادارے کے پاس کوئی ایسا پلان ہے تاہم اب فیصلہ ہوچکا ہے کہ سیاسی بیداری اور شعور کے لیے ملکی سطح پر ادارے قائم کیے جائیں۔ اس کے لیے بہت جلد سیمینارز، ورکشاپس اور عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرامات تشکیل دیے جائیں گے۔ بہت جلد یہ کام شروع ہونے والا ہے جماعتی سطح پر۔ تاکہ تہذیبی اور تقافتی ورثے کی حفاظت کے ساتھ کارکنان جمیعت اور عام لوگوں کو درست سطح پر رہنمائی مل جائے اور جماعتی اہداف و مقاصد اور خدمات و تاریخ سے آگاہی حاصل ہو۔ انہی پروگرامات کو وسعت دے کر استعماری تمدنی و تہذیبی یلغار کو روکنا بھی ہے۔اس کے لیے بھرپور فیلڈ ورک کی ضرورت ہے۔ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی اور صاحب فکر اشخاص سے مدد لی جائے گی۔ مخلوط دھرنوں اور میراتھن ریسوں سے ہمارا کلچر ملیامیٹ کیا جا رہا ہے۔ بروقت تدارک بہت ضروری ہے۔

سوال : جماعت کی ابلاغی پوزیشن اتنی کمزور کیوں ہے۔ کیا اس پوزیشن کے ساتھ جماعت کا سروائیول ہوسکے گا، اپنی اقدار اور ایجنڈے کا ابلاغ کرسکے گی؟
جواب : بدقسمتی سے جماعت نے اس امر پر بھی توجہ نہیں دی۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے میڈیا ہاؤسز ہیں۔ انھوں نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں بڑی انویسمنٹ کی ہوئی ہے۔ اور تو اور ہمارے تربیت یافتہ چند افراد بھی ان اداروں میں نہیں، جو ہماری درست بات ہی کا ابلاغ کرسکیں۔ اس حوالے سے تمام دینی طبقات کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔

سوال : کیا مقتدر طبقات میں جمیعت کے فکری او رہم خیال لوگ موجود ہیں؟
جواب : ہماری فکر اور خیال کے لوگ ان اداروں میں موجود نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی ستر سالوں سے اس کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

سوال : کیا سوشل میڈیا پر جماعت کا کوئی منظم نیٹ ورک ہے؟
جواب : سوشل میڈیا پر بھی دیگر جماعتوں کی طرح منظم نیٹ ورک موجود نہیں، تاہم ہمارے ورکرز اپنی سطح پر بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کانفرنسز منعقد کی جا چکی ہیں۔ میں نے دیگر پارٹیوں کے سوشل میڈیا کے ہاؤسز کا دورہ کیا ہے، باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ بہت جلد ایک مرکزی سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا سندھ میں۔ پھر اس کو ڈویژنل اور ضلع اور یونٹ سطح تک وسعت دی جائے گی۔ اس سال پانچ ہزار سوشل میڈیا ورکرز تیار کرنے کا منصوبہ ہے صرف صوبہ سندھ میں۔ اس کے بعد بڑوں کی مشاورت سے ملک بھر میں سوشل میڈیا سیکریٹریٹس قائم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے پولا کرو، پھر کھاؤ - سہیل وڑائچ

سوال : مفتی محمود اکیڈمی جماعت کا واحد طباعتی اور تحقیقی ادارہ ہے۔ جماعت کیا تعاون کرتی ہے ا کیڈمی سے۔ میں خود وہاں وزٹ کرچکا ہوں ، اس کی کمزور حالت ہے؟
جواب : بے شک مفتی محمود اکیڈمی جماعت کا واحد ادارہ ہے۔ میں خود مفتی محمود اکیڈمی کے صاحبان سے مختلف امور میں رہنمائی لیتا رہتا ہوں۔ قطب الدین عابد فعال رکن ہیں۔ قریشی صاحب جماعت کا اثاثہ ہیں۔ حتی المقدور ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ڈیڑھ صدسالہ اجتماع میں اکیڈمی کا بڑا کردار رہا۔ کافی تعداد میں کتابیں پبلش کی گئیں۔ جماعت نے خرید کی کتابیں تقسیم کیں۔ کئی دفعہ اکیڈمی کو لاکھوں کی معاونت کی جاچکی ہے۔ اس کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ مفتی محمود اکیڈمی کے علاوہ بھی کچھ احباب ذاتی طور پر جمیعت کے لٹریچر کو پھیلانے اور طبع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تاہم منظم نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سب کے ساتھ میری دلی ہمدردیاں اور دعائیں ہیں۔

سوال : دینی مدارس نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کے حوالے سے طرز کہن پر کیوں ڈٹے ہوئے ہیں؟
جواب : دینی مدارس سے ڈاکٹر، انجینئرز اورسائنسدان پیدا نہیں کیے جاسکتے۔ ان کے مقاصد اور اہداف میں ہی یہ بات نہیں، کیا کالج یونیورسٹی سے شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر تیار کیے جاتے ہیں؟

سوال : یہ تو الزامی جواب ہے، کیا مدارس سوشل سائنسز کے ماہرین بھی تیار نہیں کرسکتے اور کیا ایسے رجال تیار نہیں کیے جاسکتے جو عصری تقاضوں اور زبان و بیان میں ہی دین کی تفہیم و تبلیغ کا کام انجام دیں، کیا یہ بھی مدارس دینیہ کے اہداف میں شامل نہیں؟
جواب : بے شک مدارس کو اس ضرورت کا احساس کرنا چاہیے۔ وفاق المدارس کے اکابرین کو اس پر سنجیدگی سے سوچ کر کوئی بہترین لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔

سوال : کیا ذاتی طور پر مدارس کے کارپرداز ایسا کچھ نہیں کرسکتے؟
جواب : کچھ مدارس و جامعات ذاتی طور پر دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا بندوبست کررہے ہیں۔ بہترین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ وہ ہمارے لیے رول ماڈل ہیں۔ بہترین کام کر رہے ہیں۔ ہمارے مدرسے میں میٹرک لازمی ہے۔ میں نے درس نظامی کے ساتھ ہی کالج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے تو دوسروں کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔ ہاں مدارس و جامعات کے لیے وفاق المدارس کے نصاب اور فیصلوں سے کسی صورت روگردانی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کوئی کمپرومائز کیا جاسکتا ہے۔ سرکار کو بھی مدارس و جامعات کے حوالے سے اپنے حدور میں رہنا چاہیے۔ یہی قوم و ملت اور ملک کے لیے سود مند ہے۔ مدارس کے ساتھ ٹکرلینے والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا، نہ مدارس والے کبھی جھکے ہیں۔ یہ اپنی بقاء کی جنگ میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

سوال : آپ سمیت مدارس کے مہتممین کی اولاد کے لیے وسائل بھی ہیں اور تحریک بھی، کیا قوم کے غریب افراد کے بچوں کے لیے ایسا کوئی پلان تیار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بھی درس نظامی کے ساتھ عصری اداروں سے تعلیم اور ڈگری حاصل کریں اور ضروری زبانیں سیکھ کر خود کو زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرسکیں؟
جواب : یہ وقت کی ضرورت ہے،ہرحال میں پلان بننا چاہیے۔ کسی صورت اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مدارس کو ذاتی طور پر بھی، اور وفاق المدارس کی سطح پر بھی اس پر کام کرنا چاہیے۔

سوال : کچھ مدارس اور شخصیات پر اسٹیبلشمنٹ کی مہرثبت کی جارہی ہے۔ کہاں تک سچ ہے؟
جواب : ان کا نظام تعلیم، نصاب تعلیم، طلبہ کی تربیت اور علوم و فنون میں مہارت پیدا کرنے اور جدید انداز میں کام کرنے کی ترغیب و ٹریننگ اور اساتذہ کی خدمت اور ان کے شروع کردہ نئے شعبوں پر تو کوئی انگلی نہیں اٹھا رہا ہے بلکہ اکابر مکمل تائید و تحسین کرتے ہیں۔ ہماری جماعت بھی ان کی موید ہے، تاہم کچھ چیزیں ایسی ہیں جو عمومی سوچ و خیال کے برعکس ان سے صادر ہو رہی ہیں جو ان کی مجبوری ہے۔ پہلے وقتوں میں ان کی ناجائز فائلیں تیار کی گئی ہیں۔ ان فائلوں کے ذریعے انہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ لہذا حقیقت حال کو جانے اور شخصی مشکلات کو سمجھے بغیر کسی سے شکایت اور الزام دینا بھی فضول ہے۔ اور کچھ شخصیات نیک نیتی اور اصلاح احوال کے لیے بھی ملکی اداروں اور دیگر لادین پارٹیوں سے تعاون کرتے ہیں اور میل ملاپ رکھتے ہیں تو اس کو بھی غلط انداز میں نہیں لیا جانا چاہیے اور نہ ہی ان کی نیتوں پر شک کرنا چاہیے۔بلکہ حسن ظن رکھنا چاہیے کہ وہ خیراور اصلاح کے لیے کررہے ہوں گے۔

سوال : آپ کے والدشہید کے قاتل گرفتار ہوئے، کیا انصاف ملنے کے چانس ہیں؟
جواب : کرایہ کے قاتل تو گرفتار ہوچکے ہیں۔ جیل میں ہیں۔ اصل قاتل بہت طاقتور ہیں۔ ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ کیس عدالت میں ہے۔ عدالت سے تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے۔ بظاہر انصاف کی امید نہیں ہے۔ ہم اصل قاتل کو بھی جانتے ہیں اور ان سے نمنٹنا بھی، تاہم کسی صورت قانون ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے۔ آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انصاف کے متلاشی ہیں۔ امید ہے والد شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ حق کی ایک آواز خاموش کرائیں گے تو ہزار مزید آوازیں بلند ہوں گی۔ شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں گیا ہے۔ ان شاء اللہ عنداللہ و عندالناس مقبول ٹھہرے گا۔

سوال : اہل سنت کے مقابلے میں گلگت بلتستان کی دیگرکمیونٹی کے لوگ سماجی، تعلیمی ،طبی اور فلاحی اعتبار سے بڑے مضبوط اور منظم ہیں۔ ان کی پشت پر بڑے بڑے فلاحی ادارے ، ریاستیں اور افراد ہیں۔ ان کو تعلیمی، طبی اور فلاحی پروجیکٹس دیے جارہے ہیں، جبکہ اہل سنت کے فلاحی اور تعلیمی اداروں کے سربراہان اور سیاسی ومذہبی زعماء گلگت بلتستان میں صرف سیر و سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ کیا ان کے پاس اہل سنت جو کہ اقلیت اور پسماندگی میں ہے، کے لیے کوئی پلان یا پروجیکٹ نہیں، ایسا پلان جس سے یہاں کے لوگ سماجی، سیاسی، طبی، تعلیمی اور رفاہی اعتبار سے پاور فل ہوں اور ساتھ دیگر کمیونٹی کے افراد بھی بھرپور مستفید ہوں ان پروجیکٹس سے۔
جواب : واقعتا یہ انتہائی معیوب صورت حال ہے۔ جس کا مجھے گزشتہ سال کے دورے میں خوب مشاہدہ ہوا۔ میں نے اس کی شدید ضرورت محسوس کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی میں گلگت بلتستان سے پندرہ افراد لینے کی تجویز دی، جو منظور ہو چکی ہے۔ پہلے گلگت بلتستان سے صرف دو افراد ہوتے تھے اب پندرہ افراد ملکی سطح کے معاملات میں ہمارے ساتھ شریک کار ہوں گے۔ جس سے یقینا گلگت بلتستان کی سطح پر بہتری آئے گی اور اچھی لیڈر شپ ابھر کر سامنے آئے گی۔ دیگر تعلیمی اور رفاہی اداروں کو بھی سنجیدگی سے اس امر کا نوٹس لینا چاہیے اور تعلیم کی دوڑ میں یہاں کی کمیونٹی کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔اور ایسے ادارے قائم کیے جانے چاہییں کہ اہل سنت کے ساتھ دیگر کمیونٹی کے برادران بھی ان اداروں سے مستفید ہوں۔

سوال : بڑے دینی اداروں کو گلگت بلتستان میں اپنے کیمپس بنانے میں کیا حرج ہے؟
جواب : کوئی حرج نہیں، بلکہ خیر کا بہترین کام ہوگا۔

انٹرویو دو گھنٹوں سے بڑھ چکا تھا، ساتھ ہی کھانے کا دور بھی چل رہا تھا، میں سومرو صاحب سے گفتگو میں کا لطف اٹھار رہا تھا۔ اراکین جماعت کی بڑی تعداد جمع تھی۔ وہ خشمگیں انداز میں سن رہے تھے، شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ میں معزز مہمانوں کی دل آزاری کا سبب بن رہا ہوں، تاہم وہ کیا جانیں کہ دل آزاری کیا ہے اور دلجوئی کیا۔ جی چاہ رہا تھا گفتگو کے سلسلے کو طول دوں،گفتگو کی حلاوت اور حرارت نے بے خود سا کر دیا تھا۔ تاہم تنگی وقت کی وجہ اجازت لے کر نکل پڑا، سومرو صاحب نے محبت سے گلے لگایا اور رخصت کیا۔ جوٹیال روڈ سے گزر رہا تھا تو خاموشی کے سناٹے تھے۔ رات بارہ بجے کا وقت تھا۔ خاموشی کے سناٹے میری سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے اور میں محسوس کررہا تھا کہ گلگت کی یہ خنک رات مجھے اپنے آغوش میں لینا چاہتی ہے۔ دل میں تمناؤں اور آرزوؤں کا ایک سیلاب اُمنڈ آیا کہ کاش! راشد سومرو کی ساری باتیں حقیقت کا روپ دھار لیں اور امید کی کوئی کرن پھوٹے۔ ان کی گفتگو، میری بے ربط تحریر میں ڈھل کر مرہم ِ اندمال بن جائے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت ہی زبردست انٹریو لیا ہے۔لکین گلگت بلتستان کے حوالے سے کوٸی سوال نہیں کیا