وزیراعظم! یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے - مصعب غزنوی

لفظ ریاست مدینہ سے کون ناواقف ہے؟ بطور مسلمان تو ہم سب ریاست مدینہ سے واقف ہیں بلکہ بہت زیادہ عقیدت رکھتے ہیں، مگر بطور پاکستانی شہری ہر ایک شخص جانتا ہے کہ یہ وہ نعرہ ہے جسے ہمارے موجودہ وزیراعظم نے لگا کر سادہ لوح مسلمانوں سے ووٹ حاصل کیے۔ ہمارے نوجوان تو پسند کرتے ہی تھے خان صاحب کو مگر بڑی عمر کے لوگ اور وہ لوگ جو دینی ذہن رکھتے ہیں، انہوں نے بھی اس نعرے کو پسند کیا۔

ویسے بھی یہ تمام لوگ پچھلی حکومتوں سے تنگ تھے ہی مگر خان صاحب کے اس نعرے نے لوگوں کے اندر یہ امید پیدا کر دی کہ میں آکر سب ٹھیک کردوں گا، اور ہم ریاست مدینہ کا نظام قائم کرنے کی جانب اپنے قدم بڑھائیں گے۔ مگر حکومت میں آتے ہی جوشیلے خان صاحب اپنی تقریروں کے باوجود ریاست مدینہ کے تصور کو تصور تک محدود رکھے ہوئے ہیں، بلکہ صرف ریاست مدینہ ہی نہیں اپنے تمام نعروں سے بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ عوام کو صرف باتوں ہی باتوں میں انڈے، مرغیوں کے خواب دکھا کر خوش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ فی الحال تو ان کے تمام ریاست مدینہ والے وعدے اور نعرے صرف تصور تک ہی ہیں، کیونکہ جب سے حکومت سنبھالی ہے، غریب کے لیے جینا مشکل سے مشکل کرتے جا رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ تجارت اور معیشت کا بھی بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔

دعوے ریاست مدینہ کے اور غربت پر کنٹرول کی بجائے اضافہ، بے روزگاری میں اضافہ۔ دعوے ریاست مدینہ کے اور مہنگائی میں روز بروز اضافہ، دعوے ریاست مدینہ کے مگر سود کے خاتمے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں، دعوے ریاست مدینہ کے مگر ملک میں ریاست مدینہ کے اصول قائم نہیں کرنے، سادگی کے دعوے مگر عوام کی آنکھیں ترس گئیں سادگی اور پروٹوکول کا خاتمہ دیکھنے کے لیے، البتہ ختم ہونے کے بجائے الٹا بڑھتا بڑھتا چلا جا رہا ہے ابھی تک تو۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا؟آصف محمود

اب آپ کو ریاست مدینہ کی اصل تصویر دکھاتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی پیدائش شاہی خاندان میں ہوئی، بڑے ہوئے تو باپ کو مصر جیسے عظیم الشان صوبے کا گورنر پایا۔ بعد میں خود بھی گورنری کا عہدہ سنبھالا۔ بنو امیہ نے جن جاگیروں سے خود کو مالا مال کیا اس میں سے ان کا بھی بہت بڑی جائیداد میں حصہ تھا۔ اتنا حصہ تھا کہ اس وقت میں سالانہ تقریبا پچاس ہزار اشرفیاں آمدن ہوتی تھی۔ انہوں نے حدیث اور فقہ کی تعلیم بھی حاصل کی۔ خاندانی طریقے سے تخت شاہی آپ کے حصے میں آیا، مگر بیعت لینے کے وقت مجمع عام سے اعلان کر دیا کہ میں تمہیں اس بیعت سے آزاد کرتا ہوں، اپنی مرضی کا کوئی خلیفہ چن لو۔ مگر لوگوں نے برضا و رغبت آپ کو ہی منتخب کیا، تب انہوں نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ بنوامیہ کے تمام شاہانہ حکومت کے طریقے رفع کیے، اور ایسے طریقے اپنائے جو ریاست مدینہ کے خلیفہ کا معمول ہونا چاہیے ہیں۔ اپنے پاس جاگیر لوگوں کو واپس کر دی، یہاں تک کہ جو آپ کی سالانہ آمدنی پچاس ہزار اشرفی ہوتی تھی، وہ صرف اور صر ف دو سو اشرفی سالانہ رہ گئی۔ ساتھ ہی خاندان والوں سے بھی ساری زمین سے لے کر واپس کر دی۔

عمر بن عبدالعزیز نے خلیفہ ہونے کی تنخواہ تک نہ لی، ایک شاہ سے فقیر کی زندگی میں آگئے،کیونکہ یہ ہی طریقہ ہے ریاست مدینہ کے حکمران کا، اور لوگوں کے دلوں میں بے حد تک بس گئے۔ یہاں تک کہ ان سے پہلے کہ حکمرانوں کی وجہ سے جو لوگ بے ین ہو گئے تھے یا جن لوگوں میں بے دینی پیدا ہوگئی تھی، دین سے دوری پیدا ہوئی تھی وہ سب لوگ ان کی کوششوں کی وجہ سے دین کی طرف لوٹنا شروع ہوگئے۔ بے،حیائی کے اڈے، شراب خانے بند کروا دیے گئے۔ لوگوں کے معیار زندگی کو بڑھایا گیا، غربت کو ختم کیا گیا، بے روزگاری ختم کی گئی۔ انصاف کی بالادستی قائم کی یہاں تک کہ خود کو بھی انصاف کے نظام سے بالکل بالاتر نہ سمجھا، یعنی ہر وہ کام کیا جو ریاست مدینہ کے حکمران کو کرنا چاہیے۔ اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کی، اسی اسلام کی زندگی میں ان کی موت تھی۔ خاندان والوں کو ان کا یہ رویہ پسند نہ آیا تو آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ آپ کا دور حکومت صرف اور صرف اڑھائی سال پر محیط تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کے دلوں میں آپ آج تک زندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فارن فنڈنگ کیس، کیا عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں؟ آصف محمود

یہ ہے ایک حکمران کی مثال جس نے بے دین ریاست کو مدینہ والی ریاست بنایا، اور اپنی حکمرانی کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک رعایا کی اس قدر خدمت کی جو لازوال ہے۔ اور آج کا حکمران جس نے وزارت عظمیٰ کے لیے ریاست مدینہ کے نعرے لگا لگا کرووٹ حاصل کیے اور پھر سب بھول گیا۔ وہی پرانے حکمرانوں والی روش، بلکہ اس سے بھی بدتر روش اختیار کی۔ وزیراعظم صاحب کا معیار زندگی کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے، آمدنی کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے، چاہے وہ ذاتی ہو یا خاندانی۔ اقربا پروری میں قریبی رشتہ داروں میں عہدوں کی بندر بانٹ جاری ہے۔ لوگ ابھی سے ہی بدظن ہوگئے ہیں۔ ایک اسلامی جمہوریہ میں دین کی سر پرستی کی بجائے فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ اسی طرح ان تمام لوگوں کی سرپرستی کی جارہی جو بے دینی کی طرف لے جانے والے ہیں۔

وزیر اعظم صاحب! یا تو علم کی کمی ہے، یا ہم سب کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے، کیونکہ ریاست مدینہ اور پاکستان کی جو موجودہ ریاستی حالت ہے، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اے وزیراعظم! یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے، نعرے ریاست مدینہ کے اور عمل سیکولر ریاست والا۔