نونکاتی معاہدہ پر عمل درآمد کب ہوگا؟ قادر خان یوسف زئی

ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان وزارت اعظمیٰ کے لئے ووٹ دیئے جانے کے نو نکاتی معاہدے پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ تاہم مالیاتی بجٹ 2019- 20 کی منظوری کے موقع پر حکومت سے ایم کیو ایم کے تحفظات کے اظہار کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کے لئے وزیر اعظم نے جہانگیر ترین کی سربراہی میں کورکمیٹی بنادی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات میں بھی یقین دلایا کہ معاہدے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

حکومت کو بجٹ کی منظوری کے لئے اپنی اتحادی جماعتوں کی حمایت ناگزیر تھی ۔ بجٹ کی منظوری کو کامیاب بنانے کے لئے حکومتی جماعت پی ٹی آئی نے سردار اختر مینگل کے تحفظات دور کرنے کے لئے بھی فوری ایکشن لیا کیونکہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بی این پی (مینگل گروپ) کہہ چکے تھے کہ انہوں نے حکومت کو معاہدے کے تحت صرف ووٹ دیے ہیں، حکمراں جماعت کے اتحادی نہیں ہیں۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن توقع کررہی تھی کہ سردار اختر مینگل اے پی سی میں شرکت کرسکتے ہیں۔ لیکن حکومت نے سبک رفتاری سے بی این پی کو راضی کیا اور اے پی سی میں سردار اختر مینگل شریک نہیں ہوئے۔ جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حیرت کا اظہار بھی سامنے آیا۔ اسی طرح ایم کیو ایم نے بھی بجٹ منظوری سے قبل وزیر اعظم سے معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کو دوہرایا۔ کراچی کو وفاق کی جانب سے43 ارب روپے کا پیکچ دیا گیا ہے جو کہ اُن کے اپنے وعدوں کے مطابق کم ہے۔ تاہم دلچسپ صورتحال یہ پیدا ہو رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران جہاں ایم کیو ایم اور بی این پی کا شکریہ ادا کیا اور اتحادی جماعت کو کراچی پیکج کے حوالے سے دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ اسپیشل پیکچ دیا جارہا ہے تو اس وقت یہ ذکر بھی کیا کہ ’’پی ٹی آئی کو کراچی سے بڑا مینڈیٹ بھی ملا ہے‘‘ ۔ کراچی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کریڈٹ لینے پر دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان دلچسپ صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل پی ٹی آئی وفاق کے دیئے گئے پیکچ کا کریڈٹ لے گی یا ایم کیو ایم اپنے اُن ناراض ووٹرز کے پاس اس دعوے کے ساتھ جائے گی کہ انہوں نے کراچی کے لئے حکمراں جماعت سے اتحاد کرکے پیکج لیا ہے ۔ یہاں پی پی پی حکومت کا موقف بھی سامنے آرہا ہے کہ کراچی حکومت کو جتنا ریونیو دیتا ہے اس کے مطابق کراچی کو حق نہیں دیا جارہا۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

کراچی میں مردم شماری کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے ۔مشترکہ مفاداتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کا مرحلہ بھی باقی ہے ۔ واضح رہے کہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم ظاہر کئے جانے پر ایم کیو ایم سمیت بیشتر سیاسی جماعتوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اڑھائی کروڑ کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ ظاہر کئے جانے پر ایم کیو ایم، پی ایس پی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے مردم شماری پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تاہم وفاق کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے عملی اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں ۔ اسی طرح سندھ میں بلدیاتی نظام چونکہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس لئے وفاق میئر کے اختیارات کے حوالے سے بھی براہ راست مداخلت نہیں کرسکتا۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نیا بلدیاتی نظام لا سکتی ہے لیکن سندھ میں نیا بلدیاتی نظام پی پی پی کا مینڈیٹ ہے۔

ایم کیو ایم کے لئے سب سے اہم مسئلہ’’ کراچی آپریشن ‘‘کاہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت و منظوری کے بعد کراچی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں بیشتر سیاسی جماعتوں میں موجود ایسے جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے سیاسی چھتری میں پناہ لی ہوئی تھی۔گو کہ کراچی آپریشن میں تقریباََ تمام سیاسی جماعتوں کے متعددکارکنان گرفتار کئے گئے لیکن اس آپریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی جماعت ایم کیو ایم رہی۔ کراچی آپریشن کی وجہ سے ایم کیو ایم کا عسکری ونگ تتر بتر ہوگیا اور بڑے پیمانے پر بھاری اسلحہ اور ٹارگٹ کلرزو بھتہ خوروں کی گرفتاریوں سے کراچی میں امن قائم ہوا۔ ایم کیو ایم سے جب ان کے بانی مائنس ہوئے تو ایم کیو ایم میں نمایاں دھڑے بندیاں ہوئیں۔ جس کی وجہ سے عام انتخابات میں کم نشستیں ملیں اور سینیٹ میں اسی وجہ سے خسارے میں رہی۔ تاہم شومی قسمت پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لئے ایم کیو ایم سے معاہدہ کرنا پڑا اور ایم کیو ایم نے کنگ میکر بن کر پی ٹی آئی کے وزرات عظمی کا خواب پورا کردیا۔ لیکن عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے حال تک ایم کیو ایم بار بار پی ٹی آئی سے معاہدے کے مطابق عمل درآمد کے مطالبے کر رہی ہے اور متعدد بار حکومت حمایت سے دستبرداری کا اشارہ بھی دے چکی ہے۔ لیکن اپوزیشن کی جانب سے کوئی فعال تحریک نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کو اہمیت نہیں دی گئی تاہم بجٹ منظوری اور اے پی سی کے انعقاد نے ایم کیو ایم کی اہمیت کو دوبارہ زندہ کردیا۔ ایم کیو ایم جہاں کراچی آپریشن پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتی ہے تو کراچی میں تمام عہدوں پر تعیناتیاں ’’میرٹ‘‘ کی بنیاد پر پُر کئے جانے کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں عالمی طرز کی یونیورسٹی کے قیام، سندھ کے شہری علاقوں کے لئے خصوصی پیکج اور پولیس اصلاحات کے ساتھ ’’غیر سیاسی‘‘ اور ’’میرٹ‘‘ پر تعیناتیاں بھی ایم کیو ایم کے مطالبات میں شامل ہیں۔اسی طرح عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کو جن حلقوں پر تحفظات ہوں گے اس کے آڈٹ کا مطالبہ بھی نو نکاتی معاہدے میں شامل تھا لیکن مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی ابھی تک فعال نہیں ہے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس پر مکمل خاموشی ظاہر کررہی ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے’’ دھاندلی‘‘ پر سیاسی جماعتیں سیاست نہیں کرنا چاہتیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کراچی کشمیر کی آواز بن کر گھروں سے نکلے - فریحہ مبارک

پانی کے دیرینہ مسئلے کو حل کروانے میں ایم کیو ایم اور پی پی پی بھی ناکام نظر آتی ہے کیونکہ فراہمی آب کے جاری بڑے منصوبے کے لئے فنڈز کا اجرا کس کو کس طرح کیا جائے گا یہ ایک الگ اہم مرحلہ ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی سندھ حکومت پر الزام عاید کرتی ہے کہ کراچی کو دیے جانے والے فنڈ کو صوبائی حکومت نے درست استعمال نہیں کیا ۔ لیکن صوبائی حکومت وفاق کے الزام کو مسترد کرتی ہے کہ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں مختص رقم کم دی ہے۔ اہم صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کراچی پیکج کے لئے ایم کیو ایم کے ساتھ وعدے کب وفا کرتی ہے اور پی ٹی آئی کے وہ ممبران جو کراچی سے منتخب ہوئے وہ کراچی میں اپنے حلقوں کے لئے کتنا ترقیاتی پیکج حاصل کرپاتے ہیں یا پھر ایم کیو ایم کو دیے جانے والے پیکج کا کریڈٹ لینے پر زور صرف کریں گے۔پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان نو نکاتی معاہدہ پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ اگر حکومت جلد معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرتی تو ایم کیو ایم ان کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ کراچی کئی سنگین مسائل کے ساتھ احساس محرومی و پسماندگی کا شکار ہو رہا ہے۔ وفاق و صوبائی حکومت کو کراچی کی بحالی کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔