پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی - حامد کمال الدین

وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی اور بہنیں پچھلی ستر ایک سالہ تاریخ پر مبنی ’افغانوں‘ کی ’پاکستانیوں‘ اور ’پاکستانیوں‘ کی ’افغانوں‘ کے خلاف ’سازشوں‘ اور ’زیادتیوں‘ سے متعلق دے دے ہلکان ہو رہے ہیں... ان میں سے جو جو بات سچ ہے وہ ’حکومتوں‘ کی سطح کی ہوگی۔ ہر دو طرف کی ’’قوم‘‘ کو اس میں ملوث مت کیجیے۔ ’’پوسٹ کولونائزیشن ایرا‘‘ کی یہاں کچھ تلخ حقیقتیں ہیں؛ خدا را انہیں قوموں کے ’’رگ و پے‘‘ میں تلاش کرنے کی کوشش مت کیجیے۔

اس پوسٹ کولونائزیشن دنیا کا یہ ایک اندوہناک واقعہ ہے کہ حکومتوں کی سطح پر یہاں آپ کا ایک ملک ’’رشین‘‘ بلاک میں تھا اور دوسرا ’’امریکن‘‘ بلاک میں۔ وہ بہت سے ’’حسابات‘‘ جو نبیؐ پر ایمان رکھنے والی اِن دو قوموں کے مابین برابر کروائے جا رہے تھے، ان کا کچھ تعلق ان دو مسلم ’’قوموں‘‘ اور ان کی ’’آبائی خصلتوں‘‘ کے ساتھ نہ تھا۔ (ایک نہایت افسوسناک معاملہ جو مجھے اپنے کچھ بھائیوں کی سوشل میڈیا مہم سے نظر آیا)۔ آپ محسوس نہ کریں تو، ہر دو یا کسی ایک طرف کی اِن حرکتوں کا تعلق جن ’’آباء‘‘ سے تھا ان کا نام تھا ’’رشیا‘‘ اور ’’امریکہ‘‘ جن کی یہاں کی حکومتوں نے پچھلے چند عشروں سے انگلی پکڑ رکھی ہوئی تھی اور ایک ایک قدم وہ ان کے کہنے سے اٹھا رہی تھیں، جس کےلیے کبھی ان حکومتوں نے اپنی ’’قوم‘‘ سے رائے نہیں لی؛ تاآنکہ آپ اِن ’’قوموں‘‘ کو اُن باہر سے نصب کیے گئے ڈکٹیٹرز کے گناہوں کا بوجھ اٹھوائیں۔ ان قوموں کے آباء، جو وسط تا جنوب ایشیا اسلام کے حق میں بہترین کارنامے انجام دے گئے تھے، قبروں میں پڑے، آپ کے اس ’’پوسٹ کولونائزیشن ایرا‘‘ اور اس میں مسلمانوں کو دیے گئے ’’تیسری دنیا‘‘ کے اِس رول سے قطعی لاتعلق تھے؛ خدا کے واسطے ان ’’قومی خصلتوں‘‘ کو زیر بحث لا کر ان آباء کی روحوں کو تکلیف اور آنے والی نسلوں کو ایک بدصورت مستقبل مت دیجیے۔ میں اس خطہ کےلیے ان شاء اللہ جو مستقبل دیکھتا ہوں وہ وسط تا جنوب ایشیا ایک مستحکم مسلم قوم ہے (خواہ ان کے انتظامی یونٹ کس بھی شکل کے ہوں)، جو بالآخر ’’مسلم ہند‘‘ کا اعادہ کرنے والی ہے؛ اور شاید اس بار ’’مسلم ہند‘‘ میں کچھ بہت خوب اضافے کرنے والی بھی، میرے رب کے حکم سے۔ اس میں سب کا حصہ اور سب کا خون پڑے گا۔ یہ ایک پاک صاف، نبیؐ کی محبت کا دم بھرتا، اِس خطے کی سوا ہزار سالہ اسلامی تاریخ سے پھوٹتا ہوا، صالح خون ہے؛ خدا را اس میں اپنے اس ناپاک ’’پوسٹ کولونائزیشن‘‘ کا وقتی زہر مت گھولیے۔

حق یہ ہے، پچھلے چند عشروں کی تاریخ اُس معنیٰ میں ہماری تاریخ ہی نہیں ہے جو گزشتہ (اسلامی) ادوار میں موجود رہا۔ مت بھولیے اِن عشروں میں یہاں دو بلاک لڑ رہے تھے۔ پھر ایسے ’حسین مواقع‘ اور ’بہتی گنگا‘ میں آپ کا ازلی دشمن ’’بھارت‘‘ کیسے مل مل ہاتھ نہ دھوتا! یہاں سے یہ معاملہ دو چند ہو جاتا ہے۔ سو وہ روح فرسا صورتحال جو ان دو بلاکوں کی ہمارے سینے پر چلنے والی اس دھینگامشتی سے سامنے آئی، ’’بھارت‘‘ نامی اس اضافی فیکٹر سے وہ کہیں زیادہ اندوہناک ہو جاتی رہی۔ اس میں بہت بہت شرمناک باتیں آئیں گی جنہیں لپیٹنے کی ضرورت ہے نہ کہ بکھیرنے کی۔ تُطوىٰ ولا تُروىٰ۔ (ہاں کسی بدکار حکمران اور اس کے کارندوں کے حوالے سے ان شرمناک باتوں کا ذکر بےشک کیجیے، کیونکہ وہ فی الواقع ان کرتوتوں میں اپنے لوگوں کے ذہن کا آئینہ دار نہ تھا)۔ کم از کم بھی یہ کہ ’’قوموں‘‘ کو ان میں ملوث نہ کیا جائے۔ کسی ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ زیادتی یہاں ’’قوموں‘‘ کی خواہش اور چاہت کی آئینہ دار ہرگز نہ تھی: یہ نری ’’بلاکوں‘‘ سے وابستہ حکومتوں کی کارگزاری تھی (خصوصاً افغانستان میں تو جہاں حکومت ہی عملاً کے جی بی کی رہی۔ پاکستان کی طرف معاملہ اس برے درجے کا بہرحال نہیں رہا؛ لہٰذا مشرف دور کے ایک خاص عرصے کے سوا ہمارے اِس طرف سے ویسی زیادتیوں کی کوئی تاریخ قابل ذکر موجود نہیں، میری اطلاع کی حد تک)۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان پاکستانیوں کو کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

ہاں کسی وقت کوئی احسان ہوا، یا کوئی قابل ستائش تعاون ہوا، بطور مثال سوویت یونین کی اِس خطہ کے مسلمانوں پر چڑھائی کے وقت یہاں کی دو قوموں کے مابین بہترین تعاون اور شراکتِ کار، تو تعاون اور مددِ باہمی کے اس عمل میں بہت بڑی حد تک وہ اسلامی روح ہی بولتی تھی۔ یہاں تک کہ یہ اسلامی روح خاصی حد تک ’’بلاکوں کی جنگ‘‘ پر حاوی ہو جاتی رہی تھی باوجود اس کے کہ وہ ایک سکۂ رائج الوقت مانی جاتی تھی۔ اس اسلامی روح کے زندہ کرنے میں ہر دو طرف کے صالحین کی بہت محنت پڑی تھی، جس سے عالم اسلام کے احیائی عمل میں ایک نیا رنگ آ گیا تھا اور جس کی صدائے بازگشت بہت جلد کشمیر تا فلسطین ایک ’’انتفاضہ‘‘ کی صورت سنی جانے لگی تھی، یعنی مسلمانوں کے ’’عالمی جہاد‘‘ کی تحریک، جس سے ہر دو بلاک کے اوسان خطا ہو گئے؛ اور جو ایک کانٹے کی طرح آج بھی غاصب بھارت کے حلق میں اٹکا ہوا ہے۔ (خود ہمارا دشمن مانتا ہے، اس نئی انتفاضہ کی جڑ ’’جہادِ افغانستان‘‘ سے پھوٹی ہے)۔

حق یہ ہے، دو قوموں کے مابین اخوت، محبت اور تعاون کا یہ صالح رنگ اس خطہ میں امریکہ کے آ جانے کے بعد بھی کچھ ایسا مدھم نہیں پڑا، بشرطیکہ آپ اس خطہ کی تاریخ نرے ’مشرف و کرزائی‘ کے اندر محصور کر دینے پر بضد نہ ہوں اور اسے کچھ وسیع تر زاویوں سے دیکھ لینے پر آمادہ ہوں۔ ہاں اس مسئلے کی نزاکتیں بےتحاشا ہیں جنہیں ایک جوشیلا سطحی ذہن کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ اس جوشیلے سطحی ذہن کو ’’کیٹر‘‘ cater کرنا سمجھداروں کےلیے اس وقت ضروری بھی نہیں ہے، خواہ یہ بھڑکیلا ذہن ہمارے ’’اسلامیوں‘‘ کی طرف سے ہماری ہر ہر پوسٹ پر ’’وضاحتیں‘‘ مانگنے آئے یا ’’لبرلوں‘‘ کی طرف سے۔ ان سب حضرات کو ’’دو دو جملوں‘‘ میں اس پورے معاملے کو ’’نمٹانے‘‘ دیجیے خواہ یہ جس بھی رخ پر نمٹانا چاہیں! اصل امتحان ہے یہاں ان مخلص سمجھداروں کا، جو ’’پوسٹ کولونائزیشن‘‘ کے ان تمام تر جھکڑوں کے باوجود اس پورے خطے کی وہی اسلامی تصویر دیکھنے اور دکھانے پر یکسو ہیں جو ہمارے حسین ماضی کو ہمارے امید افزا مستقبل کے ساتھ جوڑتی ہے؛ اور جس کے، ’’ذرا نم ہو تو‘‘، بےپناہ امکانات اللہ کے فضل سے عملاً یہاں موجود ہیں؛ اور جن کو بروئے کار لانا بہرحال ایک جان جوکھوں کا کام۔ یہ سمجھدار، عالی نظر اور وقتی رجحانات کو خاطر میں نہ لانے والے باہمت نفوس ہیں ان شاء اللہ یہاں کا طائفہ منصورہ۔

یہ بھی پڑھیں:   ورلڈ کپ اور ٹیم پاکستان - اسماء طارق

آج ’میڈیا‘ سے لے کر اس کے ’تماشائیوں‘ تک جو اِس خطہ میں ’’مسلمان‘‘ کو غیر موجود سمجھ بیٹھے اور یہاں پائی جانے والی مخلوق کو پہنائی گئی رنگ برنگی ’’ٹوپیوں‘‘ ہی میں اس مسلمان کی کل شناخت دیکھتے اور اسی کو اس کی دائمی تصویر مانتے ہیں... ان کے طعنوں، پھبتیوں اور چٹکلوں کو ہرگز خاطر میں نہ لائیے۔ وہ بہت کچھ جو یہ پچھلی ستر سالہ تاریخ کے حوالہ سے بیان کر کر کے مسلمانوں کے مابین استعماری زہر کو گہرا کریں گے، اپنی جگہ ’’حقیقت‘‘ ہونے کے باوجود جس ’’سیاق‘‘ میں فٹ ہونا چاہتا ہے وہ ذرا ایک گہری نظر اور ایک حوصلہ چاہتا ہے اور اس سے پہلے شاید عقیدہ اور تاریخ کے کچھ بنیادی اسباق جو ہمارے ان ’قومی نصابوں‘ کے اندر خاصی حد تک نظرانداز کروائے جاتے ہیں۔ پس کیا تعجب، ان جوشیلے ذہنوں نے جو پڑھا اسی کو اپنے ’’تبصروں‘‘ اور ’’تجزیوں‘‘ کے اندر سامنے رکھا اور اسی کو بنیاد بنا کر ہم ’’قدامت پسندوں‘‘ کا محاکمہ شروع کر دیا۔ ان کو عذر دیجیے اور ان قوموں کے اندر ’’مسلمان‘‘ کو بیدار کرنے کے اپنے اس کٹھن دشوار مشن کو جاری رکھیے، وقتی نتائج سے قطعی بےپروا ہو کر، خالص اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔

رنگ برنگی ٹوپیوں کے اِس مجمع کو نظرانداز کر کے یہاں ایک ’’امت‘‘ کو دیکھنا اور اسی کے اعادہ پر یکسو ہو جانا ایک ہمت اور نظر چاہتا ہے؛ جو نیشنلزم کے اِس میلے میں نہایت کمیاب ہے۔ ایک نعمت سے محروم لوگ اس کا مذاق اڑائیں تو اس پر افسوس ہو سکتا ہے تعجب نہیں! اور دل چھوڑنا تو ہرگز مسلمان کے لائق نہیں۔