باپ سے دو روپے کے حصول کی سزا - ڈاکٹر افتخار شفیع

یہ کہانی ایک بےگھر اور بےزمین ماں کے بچے کی ہے جو چھوٹے سے قصبے کے ایک واحد پرائمری سکول میں پڑھتا تھا۔ اس کے سکول کے ساتھ ہی قصبے کے مکینوں کا آبائی قبرستان بھی تھا۔ قبرستان کےچیونٹے جب مردہ جسموں کی فراہم کردہ قدرتی خوراک سے اپھارے کا شکار ہو جاتے تو مختصرسا فاصلہ طے کر کے اس سکول میں چلے آتے اور تازہ لہو سےلذت کشید کرتے۔ سکول کے محنتی اساتذہ کسی لوبھ اور لالچ کے بغیر رات دن کی پروا نہ کرتے ہوئے سخت محنت کرواتے تھے۔ اس بچے کو سائنس اور ریاضی سے چڑ تھی۔ اردو اس کا پسندیدہ مضمون تھا۔ ٹیچر نے اس کی دل چسپی کے پیش نظر اردو کی ٹیکسٹ بک کی ریڈنگ اس کے ذمہ لگا دی۔ جس سے یہ شوق اور بھی دوبالا ہوگیا اور اس کا تلفظ بھی ٹھیک ہوتا چلا گیا۔

اس زمانے میں سکولوں میں چھوٹی چھوٹی جنتریاں بیچنے والےآیا کرتے تھے۔ معمول کے مطابق ایک روز جنتری بیچنے والا آیا اور اس بچے نے اپنی پاکٹ منی سے ایک جنتری خرید لی۔ سکول سے چھٹی کے بعد اس نےگھر آکرجنتری کا بہ غور مطالعہ کیا تو اس میں اسے ایک ہی چیز کام کی نظر آئی۔ .یہ تاجدار ہند حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی کے بارے میں چار جلدوں میں شائع ہونے والی ایک کتاب .....آفتاب اجمیر....کا اشتہار تھا۔ اس چوتھی جماعت کے بچے نے اپنی سرخ رنگ کے کاغذوں والی رف کاپی سے ورق پھاڑا اور پبلشر شیخ بشیر احمد تاجر کتب اردو بازار لاہور کے نام بہ ذریعہ وی پی کتاب بھجوانے کا خط لکھ دیا۔ ان چاروں جلدوں کی قیمت دس روپے تھی۔ اس نے اپنی پاکٹ منی سے دس دن میں یہ رقم پس انداز کر لی۔ کچھ دن بعد ڈاکیا آیا تو آنے والا پارسل انتیس روپے کا تھا۔ اس کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ افسردہ دلی کے ساتھ گھر آیا اور باقی رقم کسی نہ کسی طرح اپنی والدہ سے منت سماجت کر کے اینٹھ لی۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اس کا والد اپنی دوسری بیوی اوربچوں کے ساتھ دنیا کے ایک امیرترین ملک میں رہتا تھا۔ اتفاق سے ان دنوں وہ کچھ عرصے کے لیے آیا ہوا تھا۔ بچے کی ان پڑھ والدہ نے مشورہ دیا کہ اب یہ کتابیں تو تم نے خرید لی ہیں۔ ان کا مجلد ہونا ضروری ہے۔ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور اس سے جلد کے پیسے لو، جو تقریباً دو روپے تھے۔ باپ اپنی پیاری بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ جب اس نے کتابیں دیکھیں اور ان کوجلد کروانے کے لیے دو روپے کی فرمائش سنی تو اس نے اپنی نو بیاہتا دلہن کے ساتھ ایک زہریلی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا۔ باپ کتابیں جلد کروانےکے لیے دو روپے صرف ایک شرط پہ دینے کے لیے تیار تھا... یہ ظہر کاوقت تھا... وہ بچہ عصر کے وقت تک سورج کی طرف منہ کر کے ہینڈز اپ کی حالت میں ہاتھ کھڑے رکھے تب.. اس بچے نے ایسا ہی کیا اور کچھ دیر بعد ترس کھا کر اسے دو روپے بخش دیے گئے۔ اس بچے کی اس کامیابی پر خوشی دیدنی تھی۔ یہ واقعہ میں کب کا بھول چکا تھا، نہ جانے کیوں فادر ڈے کی مناسبت سے مجھے شدت سے یاد آگیا ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • افسوسناک ۔۔۔۔ یہ محرومی میں بارہا اس بچے کی ذات میں محسوس کر چکا ہوں نہ صرف محرومی بلکہ اس رشتے کے حوالے سے نفرت نما تلخی بھی ۔ میں نے نفرت اس لیۓ نہیں لکھا کہ وہ بچہ اب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور اس شعبے سے وابستہ ہے جہاں بچے ۔ نوجواں اس سے سیکھتے ہیں اس لییۓ اس منصب کے حوالے سے اس رشتے سے نفرت کا لفظ اچھا نہیں ۔ نفرت تھی بھی نہیں نفرت نما اذیت تھی ۔۔۔ اللہ بڑا کارساز ہے وہ ماضی کی محرومیوں کو خوشحالی میں بدل دیتا ہے اور ایسا ہی ہوا ۔۔۔ کتاب سے محبت جس کی خاطر توہین آمیز سزا بھگتی اسی محبت نے اس بچے کو کتابیں لکھنے والا بنا دیا ۔۔۔
    اللہ بہت عزت دے ۔ ترقی دے اور اس بچے کا دل ا ً ان ً جیسا بننے سے بچائے
    آمین