حقیقی سپوت کون؟ مسلمان فاتحین یا مقامی مہاراجے؟ ڈاکٹر اسامہ اکرم غوری

کچھ دن قبل بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کی چھاؤں میں پنجاب کے ایک سابق سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ بنا کر لگایا گیا ہے تب سے سوشل میڈیا پر دوبارہ بحث چل نکلی ہے کہ اس دھرتی کا اصل سپوت اور ہیرو کون تھا۔گزشتہ دو دہائیوں سے احساس کمتری اور مرعوبیت کا شکار چند فارن سکالرشپ ہولڈرز اور یونیورسٹی گریجویٹس کی طرف سے ایک نیا چلن شروع ہوا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے سابق ہندو اور سکھ راجوں کو ہیرو بنا بنا کر پیش کیا جائے اور یہاں پہ آنے والے مسلم فاتحین کو ایک راہ گزر اور لٹیرا باورکروایا جائے۔ لہذا آج ہم سابق راجاؤں، مہاراجوں اور مسلم فاتحین کا تھوڑا سا تقابلی جائزہ پیش کریں گے کہ اس دھرتی کا اصل سپوت کون ہے؟

اس خطے میں مسلمان فاتحین کے آنے سے قبل حالات کچھ اس طرح تھے کہ ہندو راجے اور مہاراجے اپنی عیش و عشرت کا سامان جمع رکھنے کے لیے اس مٹی کے اصل وارث، غریب کسانوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑا کرتے تھے۔ راجہ کے سپاہی غلہ، اناج اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے زیر قبضہ علاقوں میں چکر لگاتے رہتے تھے۔ اور رعایا میں سے کسی کی کوئی بھی اچھی یا قیمتی چیز نظر آتی، اس پہ راجہ کا حق سمجھا جاتا تھا، چاہے وہ کسی کی خوبصورت بہن، بیوی یا بیٹی ہو یا خوبصورت سواری ہو۔ الغرض ایسی اندھیر نگری چوپٹ راج تھا کہ جس میں کوئی جوابدہ نہ تھا۔

اس خطے کے راجے اور مہاراجے ہر وقت ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور ہمسایہ راجے پہ جنگ مسلط کیے رکھتے تھے، یوں خون کی نہروں کا بہنا اور مخالف راجہ اور اس کی عوام کا مال، دولت، عزت، بہن، بیٹی سمیت ہر چیز پہ، فتح پانے والے مہاراج اور اس کی سفاک فوج کا حق ہوتا تھا۔ جبکہ عوام کے حقوق تو دور کی بات، ان ہندو اور سکھ راجوں کے سامنے انسان کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ مخالفین کے ماورائے عدالت قتل، شیروں اور کتوں کے آگے ڈالنا تو معمول کی کارروائی تھی۔ ان راجوں، مہاراجوں، راجپوتوں اور برہمنوں کے سوا ساری عوام دلت اور شودر تھی جن کے حقوق ''کتوں'' سے بھی کمتر تھے۔ عورتوں کے حقوق کا حال یہ تھا کہ عورت کو وفات پانے والے مرد کے ساتھ ستی کر دیا جاتا تھا کیونکہ بیوہ نحوست کی علامت تھی۔ کنواری لڑکیوں کو برہمن پنڈتوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا جو کنواری دوشیزاؤں کے ساتھ ہفتوں جبری ہم بستری کرنے کے بعد ان کو کالی ماتا کے چرنوں میں خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ذبح کر دیا کرتے تھے۔ لڑکیوں کی کتوں، سانپوں، مینڈکوں اور ہاتھیوں کے ساتھ شادی کرنا تو معمول کا کام تھا۔ اس سب سے ہٹ کر ان راجوں کی اخلاقی گراوٹ اور بدنیتی کا حال یہ تھا کہ اپنی سلطنت اور حکومت کو دوام دینے کے لیے سندھ کے راجہ داہر نے اپنی بہن ''بائی رانی'' سے شادی کر کے اسے اپنی بیوی بنا لیا اور لالچ کا عالم یہ تھا کہ اس نے باقاعدہ ڈاکو اور لٹیرے پال رکھے تھے جو سمندر اور خشکی کے تجارتی قافلوں کو لوٹا کرتے تھے، حتی کہ راجہ داہر نے دیار غیر کے مسافر مسلمان عورتوں اور بچوں تک کا بحری تجارتی قافلہ بھی لوٹ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا رانا سانگا اور راجہ داہر ہمارے ہیرو ہیں؟ ابوبکر قدوسی

اب ابھی کے تازہ تازہ بنائے جانے والے ہیرو رنجیت سنگھ کے ''سنہری دور '' پہ ہلکی سی بات کر لیتے ہیں جو تاریخ کے سیاہ باب کا حصہ ہیں۔ مغلیہ سلطنت کے زوال نے سکھوں کے حوصلے بلند کر دیے جس کی وجہ سے جگہ جگہ سکھ بغاوتیں اور ان کی ڈھائی اینٹ کی سلطنتیں بننے لگیں تھیں۔ انھی میں سے ایک رنجیت سنگھ تھا جو گوجرانولہ میں پیدا ہوا اور اپنی سلطنت کو بڑھاتے ہوئے لاہور، پشاور، دلی اور کشمیر تک لے گیا۔ اس کے دور میں اسی دھرتی کے سپوتوں پنجابی مسلمانوں کا بےدردی سے قتل عام کیا گیا، مسلمان گھروں کے اندر سکھ دستے جبراَ داخل ہو جاتے اور لوٹ مار مچانے کے بعد مسلمان لڑکیوں کو زبردستی اٹھا کر لے جاتے، بہت سی مساجد کو مسمار کر دیاگیا اور کئی ایک کو گوردوارہ میں بدل دیا گیا حتیٰ کہ لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کو سکھ فوج کے گھوڑوں کے اصطبل میں بدل دیا گیا جو کہ سب تاریخ کا حصہ ہے، جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اسی سب ظلم و بربریت کا نتیجہ تھا کہ ’’دھرتی کے اصل سپوت اور ہیرو تحریک المجاہدین کے امیر سید احمد شہیدؒ‘‘ نے تصدیق اور تفصیلی رپورٹ کے لیے شاہ اسماعیل شہیدؒ کو پنجاب کے خفیہ دورے پر بھیجا جنھوں نے اس سارے ظلم کی تصدیق کی تو پنجاب کی دھرتی کو اس ظلم و بربریت سے بچانے کے لیے رنجیت سنگھ کے خلاف تحریک جہاد شروع ہوئی۔ اور رہی بات انگریز استعمار کے خلاف رنجیت سنگھ کی جدو جہد کے شوشہ کی تو اس میں حقیقت یہ تھی کہ انگریز نے جب رنجیت سنگھ کو دریائے جہلم سے آگے بڑھنے سے منع کر دیا تو بلا چوں چراں، اس نے وہاں سے اپنی فوجیں واپس موڑ لیں۔

یوں ایک لمبی فہرست ہے ان سب درج بالا حقائق کی جو آج بھی موجود ہیں۔ الغرض مسلمان حکمرانوں سے قبل اور بعد اس خطے کے لوگ پتھر کے دور میں رہ رہے تھے۔ جن مسلمان فاتحین کو ہم لٹیرے کہتے نہیں تھکتے، ان کے اس خطے پر اتنے احسانات ہیں کہ شمار ندارد، عرب و ترک مسلم فاتحین نے اس خطے کو تہذیب و تمدن، علوم و فنون کا گہوارہ بنایا کیونکہ وہ ترقی یافتہ ہزار سالہ دنیا کی سپر پاور اسلامی خلافت کے امین تھے۔ مسلمان بادشاہوں کی بدولت اس خطے نے ترقی کی شاہراہ پہ قدم رکھا حتیٰ کہ انھوں نے اسے تجارتی مرکز بنا ڈالا۔ انگریز کے آنے تک مسلمان بادشاہوں نے شرح خواندگی کو 100فیصد کیا ہوا تھا نیز مسلم فاتحین کی طرف سے علاقائی زبانوں، ثقافتوں اور تہذیب و تمدن کی سرپرستی کی گئی۔ یہاں تک کہ دہلی، لاہور، لکھنؤ، بنارس، کلکتہ، ڈھاکہ عالمی شہرت یافتہ شہر بنا دیے گئے۔ بیروزگاروں کو شاہی خزانے سے وظیفے جاری کیے گئے۔ مسلمانوں نے ہند پہ اپنے ہزار سالہ دور حکمرانی میں کسی ایک بھی غیر مسلم کو جبرا تلوار کی نوک پہ اسلام قبول نہیں کروایا، حالانکہ اگر وہ چاہتے تو آج اس دھرتی پہ نہ کوئی ہندو بچا ہوتا نہ کوئی سکھ، بلکہ تمام غیر مسلموں کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے۔ مسلمان فاتحین محمد بن قاسمؒ، شہاب الدین محمد غوریؒ، محمود غزنوی ؒاور قطب الدین ایبک ؒ نے برہمن راج توڑ کر ظلم کی چکی میں پستی انسانیت، دلت اور شود کو انسانیت کا مقام دلا کر مکمل مذہبی آزادیاں دیں، اور یہاں کر اس مٹی سے ایسی انمٹ محبت کی کہ اسی میں ہی دفن ہونا پسند کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا رانا سانگا اور راجہ داہر ہمارے ہیرو ہیں؟ ابوبکر قدوسی

مسلمان حکمرانوں کے ہزار سالہ دورِ اقتدار میں ایک بھی دفعہ ہندوؤں یا سکھوں کا قتل عام نہیں ہوا جو آئے روز گجرات، احمد آباد، حیدرآباد اور کشمیر میں آج بھی ہندوتوا کا علمبردار مسلم اور دوسری اقلیتوں کا کر رہا ہے۔ مسلم فاتحین اگر صرف مال و زر کی ہوس میں اس خطے پہ حملہ آور ہوتے تو یہاں پہ اپنی باقاعدہ سلطنت قائم نہ کرتے، نہ راستوں کو خطروں سے پاک اور عوام الناس میں عدل و انصاف اور امن کا بول بالا کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ تین ہزار کے لشکر کے ساتھ آنے والے محمد بن قاسم کے ساتھ اس کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر چند ہی دنوں بعد یہاں کے مقامی باشندوں اور راجپوتوں کا بارہ ہزار کا لشکر تھا جو مسلمانوں کی طرف سے ان ظالم راجہ داہروں اور رنجیتوں کے خلاف لڑتا رہا۔ آخر وہ کون سا احسان تھا جو اس پرائی مٹی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانے والے عرب و ترک مسلمان فاتحین نے اس پر نہیں کیا۔اب غیر جانبدار ہو کر بتائیے کہ اس مٹی کے حقیقی سپوت اور ہیرو کون تھے؟ وہ کہ جنہوں نے اسے امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا یا وہ راجے، مہاراجے کہ جنہوں نے یہاں پہ ظلم و بربریت کو بھی شرمندہ کیے رکھا تھا۔؟