عقلمند کون ؟ ڈاکٹر رضوان اسد خان

قیامت کے روز مجرمین کا جہنم میں ڈالے جانے کا ایک منظر سورۃ الملک میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے: كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَ لَهُمْ خَزَنَـتُهَاۤ اَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيْرٌ
قَا لُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ ۙ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۖ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ وَقَا لُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ (سورۃ الملک؛ آیات 8، 9، 10)
: "ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو، اور وہ کہیں گے کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے."

یہاں قابل غور لفظ ہے "نعقل"... یعنی "ہم عقل سے کام لیتے"... ان مجرمین میں وہ احمق لوگ تو شامل ہوں گے ہی جنہوں نے عقل کو بالکل ہی لات مار دی اور شرک کیا اور بتوں، جانوروں، اجرام فلکی اور قبروں کو مختلف بہانوں سے پوجتے رہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان میں وہ ملحدین بھی شامل ہوں گے جنہوں نے اپنے تئیں عقل کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کیا ہوگا. جو اپنے آپ کو "ریشنل تھنکر" کہلواتے تھے، یعنی عقل اور منطق سے سوچنے والے. جن میں بڑے بڑے فلسفی ہوں گے جو ساری عمر دماغ پر زور ڈالتے عقل استعمال کرتے مختلف گتھیاں سلجھاتے مر گئے ہوں گے. وہ بڑے بڑے سائنس دان بھی جو عقل کی بنیاد پر ہر مافوق الفطرت عمل یا ما بعد الطبیعی وجود کا انکار کر چکے ہوں گے....

لیکن جب عقل ٹھکانے آ جائے گی تو کہیں گے کہ کاش ہم عقل استعمال کرتے.! یہ بہت اہم نکتہ ہے. یعنی اللہ جا بجا قرآن میں عقل کے استعمال کی دعوت دیتا ہے لیکن جو لوگ عقل کے استعمال سے توحید جیسے بنیادی عقیدے کو اور رسالت کے پیغام کو نہیں پہچان پاتے، انہیں عقل سے پیدل قرار دیتا ہے خواہ ان کے پاس پی ایچ ڈی کی دو دو ڈگریاں ہوں اور دنیا کے بیش بہا عقلی اعزازات ہوں اور لوگ ان کی عقلیت کی مثالیں دیتے ہوں. عقل کبھی تضادات کو نہیں مانتی.

1. آپ نیچر اور کائنات کو طبعی قوانین کے رکھوالے قرار دیں، کائنات کے آغاز اور پھیلاؤ کو بغیر دیکھے مانیں اور اس کے سرے پر ان کہکشاؤں کے وجود کو بھی مانیں جنہیں آپ کبھی نہیں دیکھ سکتے، جہاں آپ روشنی کی رفتار سے بھی نہیں پہنچ سکتے کیونکہ آپکا ماننا ہے کہ کائنات روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے..... لیکن خدا کے وجود، حتی کہ اسکے امکان کا بھی انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

2. آپ آئن سٹائن اور اس جیسے مہا پرشوں کی ان باتوں کو بھی مانیں جو آپ کو سمجھ بھی نہیں آتیں لیکن رسولوں کا انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

3. آپ ایلینز کے وجود کے امکان پر یقین رکھیں اور باقاعدہ انکو تلاش کرنے کی کوشش کریں، ان پر کہانیاں اور فلمیں بنائیں، ان پر سازشی اور حقیقی تھیوریوں سے انٹرنیٹ کو بھر دیں.... لیکن فرشتوں اور جنات کا سرے سے ہی انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

4. آپ ہزاروں سال پرانے غاروں اور اہراموں کی تحریروں کو سمجھنے اور ان میں حکمت کے موتی تلاش کرنے کی کوششوں میں لگے رہیں پر سامنے پڑے قرآن کی حکمتوں کا انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

5. آپ کائنات کی بالآخر مکمل تباہی پر یقین رکھیں پر روز قیامت کا انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

6. آپ وقت کی مروجہ تھیوریوں کے مطابق یہ یقین رکھیں کہ ماضی، حال اور مستقبل کے تصورات محض ہمارے دماغ کی اختراع ہیں اور ایک مخصوص معنی میں ٹائم ٹریول ممکن ہے کیونکہ ماضی اور مستقبل میں بھی واقعات اسی طرح ہمہ وقت رونما ہو رہے ہوتے ہیں جیسے حال میں. اور آپ کوانٹم فزکس کے تحت "حقیقت" کے لامتناہی ممکنہ متبادلات پر یقین رکھتے ہوں لیکن تقدیر کا انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

7. آپ مرنے کے بعد شعور اور یادداشت کو کمپیوٹر میں محفوظ رکھنے اور کسی کلون میں منتقل کر کے اور اس سلسلے کو چلائے رکھ کر ہمیشہ کی زندگی کے امکان کے قائل ہوں پر دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کر دیں تو آپ بے عقل ہیں.

آمَنْتُ بِاللهِ ، وملائكته ، وَكُتُبِه ، وَرُسُلِه ، وَالْيَوْمِ الْاخِرِ ، وَالْقَدْرِ خَيْرِه وَشَرِّه مِنَ اللهِ تَعَالى ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.