یہ شادی نہیں ہوسکتی - عارف رمضان جتوئی

شادی کی تیاریاں دھوم دھام سے جاری تھیں۔ رخصتی کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی تھیں۔ زندگی کے آخری لمحات میں اچانک کوئی مل جائے پھر ہنگامی طور پر محبت بھی ہوجائے اور پھر اس کے ملنے کے اسباب بھی بن جائیں اور ملن کی گھڑیاں چند لمحوں کے بعد آنے والی ہوں تو ایسے میں سانس چلنے سے گریزاں ہوجاتی یہاں دھڑکنیں ہی تیز ہوئی تھیں۔

پہلی شادی کے بوجھ تلے دبا آج میں اپنی زندگی کے حسین ترین ہر لمحے کو اپنے اندر جذب کرنا چاہتا تھا۔ ہر پل الگ تھا ، نمایاں تھا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اچانک زمین سے آسمان کا سفر ہوچلا ہو ۔ نام کو دوسری شادی تھی حقیقت میں تو زندگی ہی اسی کا نام تھی ۔ ظالم سماج اور بے ذوق لوگ میرے جذبات کو کہاں سمجھ سکتے تھے ۔ مجھے کسی کی تنقیدی نگاہوں کی پروا بھی نہیں تھی ، وہ کچھ ہی پل میں ہمیشہ کے لیے میری ہونے والی تھی ۔ لمحات تھم سے گئے تھے ۔ نہ جانے کب وقت پورا ہوگا دل صابرین کی فہرست سے نکل چکا تھا ۔ ایسے حالات میں تو انسان اوقات اور انسانیت کی فہرست سے بھی خروج کرلیتا ہے یہ تو پھر بھی دل تھا، صبر کہاں ممکن تھا ۔ ” ٹھہریں یہ شادی نہیں ہوسکتی “ کسی نے گرج دار آواز میں کہا ۔ ایسے محسوس ہوا کہ جیسے کسی بالی ووڈ فلم کے ویری ہارٹ ٹچنگ سین کی طرح ولن کا ڈیڈ پولیس لیے آدھمکا ہو ۔ سب کی سانسیں تھم گئیں ۔ میں تو جیسے کلٹی (مرنے) ہونے والا تھا ۔ ” آپ نے دوسری شادی کا اجازت نامہ نہیں لیا “ افسر نے آگے بڑھ کر مجھ سے پوچھا ۔ جی سر لیا ہوا ہے بلکہ میری پہلی بیوی بھی یہی موجود ہیں ۔ ان کی مکمل اجازت اور ہر ممکن اخلاقی حمایت مجھے حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   باپ سے دو روپے کے حصول کی سزا - ڈاکٹر افتخار شفیع

”محترم ! بیوی سے نہیں حکومت سے اجازت لی ہے“۔ ”حکومت مطلب سمجھا نہیں“۔ ”مصالحاتی کمیٹی سے دوسری شادی کا اجازت نامہ لینا اب ضروری ہے۔ آپ نے لیا کیا؟ نہیں سر وہ تو نہیں لیا“۔ ”اجازت نامہ لیے بغیر شادی غیرقانونی ہے۔ تب تک یہ شادی نہیں ہوسکتی ۔ آپ کو ساتھ چلنا ہوگا “ ۔ افسر کے جملوں نے میرے قدموں کی زمین کھینچ لی تھی۔ سب کچھ آنا فانا ختم ہوگیا۔ دو اہلکار آگے بڑھے اور میری محبت کی ڈولی کی جگہ مجھے ڈولی میں بیٹھا کر لے گئے ۔ درد اور کرب اتنا شدید تھا کہ خواب میں بھی میرے حقیقی آنسو نکل آئے تھے۔

خود کو بستر پر ٹھیک حالت میں پاکر پہلی بار مجھے بھیک مانگنے کی غرض سے دروازہ پیٹنے والے پر پیار آیا ۔ جو مجھے اکثر خوابوں سے نکال کر حقیقت میں لا کھڑا کرتا ہے ۔ آج وہ نہیں آیا تھا مگر آنکھ کھلنے پر خوشی بہت ہوئی ۔ خوار محبت کی بھری محفل میں یوں تذلیل کون برداشت کرسکتا تھا ۔ میں سلامت تھا ، محبت کا کیا ہے سمجھا بجھا کر سلا دیں گے ۔ اگر جیل پہنچ جاتے تو جو تھی وہ بھی میکے سدھار جاتی اور گھر میں ہماری عدم حاضری پر الو پہرا دیتے ۔ محبت پانے کے خواب دیکھنے ختم کیے تھے محبت تو باقی ہی تھی۔ اظہار خیال میں سَنّی جذباتی ہوجاتا ۔

آج بھی وہ مسلسل کہہ جا رہا تھا۔ شادی کرلے محبت کی تو ڈرنا کیا۔ اس کے بار بار کہنے پر میں نے جھنجھلا کر کہا، ”اب پکا میری دوسری شادی ہو ہی نہیں ہوسکتی، تم بھی اب یہ فضول باتیں کرنا بند کردو۔ میں کب کا دل کے قبرستان میں محبوبہ کو لال جوڑے سمیت دفن کرچکا“۔ ”کیوں نہیں ہوسکتی؟ ہم ہیں نہ کروائیں گے۔ تمام بندوبست ہوجائے گا، تم گھبراو نہیں“، سنی نے پھر سے ہمت بندھوائی۔ یہ دوست بھی بہت .... ہوتے ہیں۔ انسان کو ہر صورت گڑوانے کے چکر میں رہتے ہیں اور اپنی جان پر کھیل کر دوسرے کی پوری زندگی اجیرن بنانے میں کسر نہیں چھوڑتے۔

یہ بھی پڑھیں:   دوسری شادی، اسلام آباد ہائی کورٹ کا غلط فیصلہ - شمشیر علی شاہد

نہیں بھئی اب یہ گیند اپنے کورٹ سے باہر نکل گئی ہے۔ پہلے پہلی کو پٹاﺅ (راضی) پھر مصالحاتی کمیٹی کو پٹاﺅ پھر دوسری کو پٹاﺅ پھر اس کے گھر والوں کو پٹاﺅ پھر رخنہ ڈالنے والے ماما کو پٹاﺅ۔ سنی اب یہ شادی نہیں ہوسکتی۔ شادی کب ہوگی جب پوری زندگی پٹنے پٹانے میں ہی نکل جائے گی بلکہ میرا تو سب کے لیے یہی مشورہ ہے جو دوسری محبوبہ کے چکر میں ہیں اب چپ چاپ پھپو، چاچو کی لڑکی سے شادی کرلیں اور دوسری کا خیال ترک کر کے چھچور پنے کی محبت کو مصالحاتی کمیٹی کے دروازے پر چھوڑ آئیں۔ یہ کمیٹی اس سے کہیں زیادہ نچوڑ لے گی جتنا دوسری پر خرچ بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ اس لیے نامراد محبت کو کرو بائے بائے اور دھندے پر لگ کر پہلے والی کے سوکھتے باغ ہرے کرو۔

”ہائیکورٹ کو بھی ابھی فیصلہ دینا تھا“، میں نے دل ہی دل میں خود سے پوچھا اور پھر اگلی کتاب کا ٹائٹل لکھنے بیٹھ گیا ”میں نے بند آنکھوں کے خوابوں کو مصالحالتی کمیٹی میں چکنا چور ہوتے دیکھا“ کتاب کا ٹائٹل تجویز ہوچکا تھا۔ اب صرف محبوبہ کا سراپا تحریر کرنا باقی تھا۔ کتاب تو عدالت کے اسی جج کے نام کروں گا جس نے میری محبت کی کشتی میں آخری کیل ٹھونکا۔