ہسپتالوں کا فضلہ کہاں جاتا ہے؟ آصف محمود

کیا کبھی ہم نے سوچا ہسپتالوں کے باہر جو منوں کے حساب سے فضلہ پڑا ہوتا ہے، یہ کہاں جاتا ہے؟ اہل سیاست کو اپنے حساب سودو زیاں سے فرصت نہیں اور اہل فکر نے بھی گویا طے کر لیا ہے کہ ہر روز سیاست پر ہی مضامین باندھنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سماج کو کیا ہوگیا؟ سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوانوں کی عالم آرائی کی انتہاء کیا یہی ہے کہ کسی ایک قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں کے ساتھ مل کر کسی دوسرے قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں سے الجھتے رہیں؟ حریت فکر کہاں کھو گئی؟ لوگ اپنے حقیقی مسائل پر بات کیوں نہیں کرتے؟

کیا ہمیں معلوم ہے پاکستان بھر کے ہسپتالوں سے ہر روزکتنا فضلہ نکلتا ہے؟ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جرنل ( جے پی ایم اے) کے مطابق اس کا کوئی ریکارڈ کہیں موجود ہی نہیں۔ البتہ ورلڈ ہیلتھ آ رگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے ہسپتالوں سے آٹھ لاکھ ٹن فضلہ ہر روز نکلتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا یہ فضلہ کہاں جاتا ہے؟ کیا ہم جانتے ہیں اس کا کیا استعمال کیا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں کچھ خبر ہے ہسپتالوں سے پھینکی گئی یہ خون آلود بوتلیں، سرنجیں اور جانے کیا کیا چیزیں کدھر جاتی ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں ہسپتالوں کے فضلے سے پلاسٹک مصنوعات بنانے والی کتنی فیکٹریاں لاہور میں کام کر رہی ہیں؟ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق قریبا چالیس۔ کیا ہمیں معلوم ہے ان فیکٹریوں میں کیا کچھ تیار ہو رہا ہے؟

یہ فیکٹریاں پلاسٹک کی ہر چیز تیار کر رہی ہیں۔ گلاس، پلیٹیں، مگ، جگ، بالٹی حتی کہ جوس پینے کے لیے ہم جو سٹرا استعمال کرتے ہیں وہ بھی انہی فیکٹریوں سے تیار ہو کر آتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو جو کھلونے خرید کر دیتے ہیں وہ بھی ہسپتالوں کے اسی فضلے سے تیار کیے جاتے ہیں۔ سارا دن بچے ان کھلونوں کو منہ میں لیے پھرتے ہیں۔ وہ جیئیں یا کھیل ہی کھیل میں مر جائیں، ہمیں پرواہ نہیں۔ اپنے بچوں سے زیادہ ہمیں آصف زرداری اور نواز شریف کے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔

لاکھوں سرنجیں استعمال کر کے پھینک دی جاتی ہیں۔ انہیں دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہسپتالوں میں ڈاکٹر ہمیں انجکشن لگانے کے بعد ہمارے سامنے جب یہ سرنجیں توڑ دیتے ہیں تو گویا اب معاملہ حل ہو گیا اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن کیا ہم اس حقیقت سے لا علم ہیں کہ لاہور میں قائم درجنوں فیکٹریاں انہی ٹوٹی سرنجوں سے ہمارے بچوں کے فیڈر بنا رہی ہیں اور ہم بڑے شوق سے یہ رنگ برنگے فیڈر خرید کر اپنے بچوں کا قتل کر رہے ہیں۔ کیا عجب یہ فیکٹریاں سرنجیں بھی تیار کر رہی ہوں۔

ان فیکٹریوں میں صرف لاہور نہیں پنجاب بھر کے ہسپتالوں کا فضلہ جاتا ہے۔ یہ سارا فضلہ سڑک کے راستے پہنچایا جاتا ہے۔ فیکٹریاں کھلے عام کام کر رہی ہیں۔ نہ کبھی اس فضلے سے بھرے ٹرکوں کو کسی نے ایک شہر کی حدود سے نکلتے وقت روکا نہ کسی نے انہیں فیکٹریوں میں گھستے وقت پکڑا۔ ہاں کبھی کبھی ایک خبر چھپ جاتی ہے: ہسپتال کے فضلے سے پلاسٹک کی اشیاء تیار کرنے والی فیکٹری پکڑی گئی۔ یہ واردات بھی شاید اس لیے ڈالی جاتی ہے کہ باہمی دلچسپی کے جو امور طے ہوئے ہوتے ہیں، فیکٹری کا مالک ان کی خلاف ورزی کرتا ہے اور حکومتی عمال تک مال پانی نہیں پہنچاتا یا اس کام میں تاخیر کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حکومت کے کسی وزیر مشیر یا کسی افسر نے آج تک عوام کو یہ نہیں بتایا ایسی فیکٹری کا مال کہاں کہاں پڑا ہے تا کہ عوام اس کو خریدنے سے اجتناب کریں۔ ایسا مال کبھی کسی مارکیٹ سے ضبط کیوں نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو کبھی کوئی سزا ملی یا نہیں اس کی بھی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ چالیس پچاس فیکٹریوں میں صرف گستاخ اور کنجوس مالک کی فیکٹری پر چھاپہ پڑتا ہے اور سخاوت کے وعدے کے بعد سب ہنسی خوشی رہنا شروع کر دیتے ہیں۔

ظلم کی انتہاء دیکھیے ہسپتالوں کا فضلہ اٹھانے اور تلف کرنے کے لیے ہمارے پاس تربیت کا کوئی انتظام ہے نہ ڈھنگ کا کوئی تربیت یافتہ عملہ۔ سویپر اسے اٹھاتے ہیں اور ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق ہر روز اس کام میں سات سے آٹھ سویپرز کو استعمال شدہ سرنج کی سوئی چبھ جاتی ہے۔ چنانچہ سویپرز کا بیس فیصد ہیپا ٹائٹس کا مریض بن چکا ہے۔ ہیپا ٹائٹس کے یہ مریض جب ہسپتالوں کی صفائی کرتے ہوں گے تو کیا عالم ہوتا ہوگا۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے جب انہوں نے پاکستان کے ہسپتالوں میں سروے کیا تو معلوم ہوا 70 فیصد ہسپتالوں کے پاس فضلہ تلف کرنے کی کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں تھی، اور 90 فیصد ہسپتالوں کے پاس کوئی ریکارڈ نہ تھا کہ فضلہ کب ضائع کیا اور ضائع کیا بھی یا مارکیٹ میں بیچ دیا گیا۔ نواز شریف یونہی تو نہیں کہتے علاج بیرون ملک سے کروانا ہے، انہیں بخوبی علم ہے اس ملک کے ہسپتالوں کے ساتھ وہ کیا کر چکے ہیں۔

آپ ہسپتالوں میں جا کر دیکھیے کھلے آسمان تلے فضلہ پڑا ہوتا ہے۔ اس میں پرندے چونچیں مار رہے ہوتے ہیں۔ یہی پرندے اس کے بعد لوگوں کے گھروں اور مارکیٹوں میں بھی جاتے ہوں گے۔ انفیکشن اور امراض پھیلنے کے امکانات پر ذرا غور فرما لیجیے۔ جو ہسپتال کوڑا تلف کرتے ہیں، ان میں سے کئی اسے زمین میں ڈمپ کر دیتے ہیں۔ اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔ یوں سمجھیے آپ زمین کی رگوں میں زہر انڈیل رہے ہیں۔ زمین اس کے بعد جو اگلے گی اس میں زہر ہوگا۔ بعض اوقات یہ فضلہ جلا دیا جاتا ہے۔ غیر محتاط انداز سے یہ فضلہ جلانے سے بھی کئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال گلی کوچوں میں قائم ہو چکے ہیں وہ اپنا فضلہ گلی کے کوڑا اٹھانے والوں کو دے دیتے ہیں۔ ان کے پاس اسے الگ سے تلف کرنے کا کوئی اہتمام ہی نہیں۔

ہماری نسلوں کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے لیکن ہمیں کیا؟ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ بلاول تقریر بہت اچھی کرتا ہے، مریم کی سیاسی تقریر میں اب نکھار بہت آ گیا ہے اور عمران خان ہینڈ سم بہت ہے۔ رہ گئے ہمارے بچے تو ان کا کیا ہے۔ رعایا تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوتی ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.