ناچ میری قوم - طاہرہ فاروقی

”بھئی پھرآپ ایساکریں ٹی وی دیکھنا چھوڑدیں!!!!“ رملہ نے چڑکر کہا
”پھریہ ہے کس لیے؟“ نور نے تیوری چڑھا کر کہا ”یا تو پھر جو بھی آئے دیکھتے رہیں اورمخالفت نا کریں ۔۔۔“ رملہ لاپرواہی سے بولی ”
اگر ایسے پروگرام پیش کیے جائیں جو دیکھنے کے قابل ہوں تو کیوں مخالت کی جائیگی ؟“ نور کا استدلال تھا

”اب اکیلے آپ کے لیے تو پروگرام بننے سےرہے۔۔۔۔“ رملہ نےاسکی اوقات جتائی .... ” اکیلی میں کیوں ہوئی جس سے بات ہوتی ہے سب ہی کوفت کھا رہے ہوتے ہیں کل ہی جب پڑوس کی شادی میں گیے تھے وہاں شادی کی رسموں کی غیر ضروری طوالت لڑکیوں کی بےحیائی اور مہمانوں کی بوریت کا ذکر نکل آیا تو سب عورتیں بیزار تھیں کہ سب نحوست میڈیا چینلز کی ہے ۔نت نئی جدتیں گھَڑگھَڑ کہ لاتے ہیں اور لوگ نئی ایکٹیوٹی کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔۔۔ اب کسی کے پاس توکمائی کا کھلا کھاتہ ہے وہ تواپنی دولت کی شو آف کرنے کا موقع پالیتا ہے ، اور جسکی محدود آمدنی ہے اسکے بچے ضد کرتے ہیں کہ ہم بھی خوشی منائینگے۔ اب خوشی کاپیمانہ صرف ڈانس ہی رہ گیا ہے۔۔۔بس ۔۔ناچو۔۔ناچو۔۔اور۔ناچو انڈین فلموں کی دیکھا دیکھی یہاں بھی ابا اماں دادا دادی سب ہی ناچنےلگے ہیں اور جوان لڑکے لڑکیوں کوتو بس اب صبر ہی کر لو۔“ نور روہانسی ہوچلی تھی
”ہاں اپنے بچے کنٹرول نہیں ہوتے تو قصور ٹی وی کا۔۔۔!!! “ رملہ نور کی بےعزتی نہیں چاہتی تھی مگر وہ سمجھتی تھ کہ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے والی عورتیں دوسروں کے سرالزام دیتی ہونگی۔ ”بھئی ظاہر ہے اور کیا یہ ناچ گانا ہم نے سکھایا ہےکیا؟ ہماری دس پشتوں میں کوئی نہ ناچا۔۔۔

اب سارادن علاوہ ناچ اور گانے کے کوئی چیز ہی نہیں دکھانے کی، دوسرے ملکوں میں معلوماتی پروگرام بھی ہوتے ہیں ، تعلیمی پروگرام بھی ہوتے ہیں خبریں ہوتی ہیں تو ان میں خبریت ہوتی ہے یہاں تو خبر نامہ بھی ان ہی بے ہودگیوں سے بھراہوتا ہے ۔ یہ ہروقت کاناچ گانا بےحیائی قوم کوکہاں لے جاۓ گی مجھے تو لگتاہے اس قوم کو اجتمائی خودکشی کے راستے پر ڈال دیا گیاہے۔۔۔ لڑکیوں کابس نہیں چلتا کہ جسم کا ہرہر رواں کھول دیں اب لڑکوں کے لباس بھی کم ہونے لگے ہیں پہلے سینہ کھلا پھر بازو پھر ٹانگیں بھی کھلنے لگی ہیں ان مختصر لباسوں میں جوان لڑکے لڑکیاں بے ہنگم مخلوط حیاسوز رقص کرینگے اور اب تو باقائدہ شراب نوشی کی پروموشن کی جارہی ہے۔۔۔ دل خون کے آنسو روتاہے کہ یہ تو برباد ہونے والی قوموں کے طریقے ہیں۔۔!!!
انڈونیشیا میں یہی کچھ ہورہا تھاجب سونامی آگیا تھا۔۔۔ امریکہ کی جس ریاست میں سیلاب آیا تھا وہ ہم جنسی اور خودلذتی کے لیے بدنام تھی۔۔۔
ابھی پچھلے دنوں ہی کسی نائٹ کلب میں کیسا عذاب آیا ہے۔ کیلیفورنیا کی آگ، برما کی آتش بازی میں آتش زدگی کوئی ایک دو ہوں توگنواؤں بھی مجھے ہروقت خوف آتا ہےکہ ہمیں میڈیا کے ذریعے اللہ کے عذاب کے سپرد کیا جا رہا ہے اور ہماری خود سپردگی پر افسوس ہے اور حیرت بھی۔۔۔۔!!!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اور ان پروگراموں سے کسی کااسلام خطرے میں نہیں آتا۔اسلام کو خطرہ صرف ان اشتہاروں سے ہوتا ہے جن میں صاف ستھری، پورے کپڑے پہنے شہری خواتین باعزت پروفیشن اختیار کرنے کی راہ دکھاتی ہیں ۔