ابا! کیا یہ دل بھی ٹوٹنے کی چیز تھی؟ - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

سردیوں کی میٹھی دھوپ میں اماں ٹب میں پانی اور شیمپو ڈال کر ابا کے پاؤں اس میں ڈبو کر دیگر کاموں میں مشغول ہو جاتیں۔ ابا اخبار کی ہر ہر خبر پڑھتے اور کچھ پر بلند تبصرہ بھی فرماتے۔ اماں گھنٹے تک پلٹ کر پاؤں کی ایڑھیاں رگڑنے آ جاتیں۔

ابا کو دھوپ کی طرف منہ کیا ہوا دیکھتے اماں کا سٹپٹانا جائز تھا۔جز بز ہو کر کہتیں، اللہ جانے کنے انجینئر بنایا سی تہانوں۔ ابا اخبار کے پیچھے سے تحمل سے کہتے UET والوں نے۔ اب سورج کے ساتھ اماں کی تپش میں اضافہ ہو جاتا۔ منہ سورج کی طرف کیوں کیا ہوا ہے؟ ابا اپنے بالوں سے خالی سر پر ہاتھ پھیرتے اور سکون سےکہتے، ٹنڈ پر دھوپ زیادہ لگتی ہے۔ ہم اردگرد کوئی کام کرتے یا رسالہ پڑھتے، دبے دبے ہنستے رہتے۔ اماں ابا کے پاوں رگڑتے ہوئے بڑبڑاتی رہتیں۔ کوئی عقل دی گل وی کریا کرو۔ ابا اخبار لپیٹ دیتے اور ہم ہمیشہ کی کہانی ہزارویں بار بھی سننے کو شوق سے پاس آ جاتے۔

ابا کہتے: عقل کا فرشتہ عقل بانٹنے ہمارے گاؤں آیا تو ہم سب نے لے لی، اماں کے گاؤں والوں نے فرشتے کو لفٹ نہ کروائی۔ کچھ عرصے بعد اماں کے گاؤں میں سب کو حماقت کا احساس ہوا۔ اللہ نے اگلی مرتبہ بے وقوفی بانٹنے بھیجی تو اماں کے گاؤں نے ٹرنک بھی بھر لیے۔ اماں اب تولیے سے پاؤں صاف کرتے ہوئے کہتیں، بالکل جی! ہم کہاں عقل والے، بس سلہریا ہی سمجھ دار ہیں۔ ابا دوبارہ اخبار کھول کر کسی خبر میں گم ہو جاتے، ہمیں کھی کھی کرتا دیکھ کر اماں چیختیں۔ چلو بھاگ کر ویزلین لاؤ، ورنہ ایڑھیوں کو اتنا رگڑنے کا کیا فائدہ۔ چھناک ۔۔۔ اندر ویزلین پکڑتے پرفیوم کی بوتل زمین پر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تھی۔ اماں کی توپوں کا رخ بدل گیا۔ اور توڑو، شاباش سب مفت کا ہے، اور ابا اونچی سے کہتے۔۔ good goodian ۔ ٹوٹنے کی چیز تھی۔کوئی بات نہیں۔ اماں کی ڈانٹ کا خوف کم ہو گیا۔ سب کرچیاں اٹھا کر پھینک دیں اور آٹے کا پیڑہ بنا کر جائے وقوعہ پر آہستہ آہستہ دبا کر کسی باقی ماندہ کرچی کو صاف کر دیا تاکہ کوئی زخمی نا ہو جائے۔

لیکن ابا، اب اتنی دور چلے گئے ہیں۔ اماں کی بڑبڑاہٹ صرف منمناہٹ میں بدل گئی ہے۔ اب زمانے کی تپش میں جلتے بھنتے میں سوچتی ہوں۔ سامنا تو کرنا ہے، اس جلن کا، اس تپش کا۔ لیکن جب دانستہ کوئی تکلیف دیتا ہے اور چھناک سے دل ٹوٹتا ہے تو میں چپ چاپ کرچیاں سمیٹ دیتی ہوں۔ حوصلے کے پیڑے سے دبا دبا کر ہر کرچی چننے کی کوشش کرتی ہوں، پھر اک آس سے آسمان کی طرف دیکھتی ہوں۔ ابا ادھر ہی کہیں ہیں، نہیں، لگتا ہے ابا ساتویں آسمان پر ہیں، اسی لیے ان تک اس چھناک کی آواز نہیں پہنچی ۔ورنہ وہ ضرور کہتے good goodian ۔ شاید تکلیف کچھ کم ہو جاتی، لیکن میں ان سے یہ ضرور پوچھتی، ابا کیا یہ دل بھی ٹوٹنے کی چیز تھی؟😞