بسا آرزو کہ خاک شد - صالحہ نور

استنبول میں شکست کے بعد دوسرے شہروں میں جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی کی پوزیشن کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں رہا. ..استنبول کی حاکمیت سے محرومی کہیں اردگان کی پارٹی کی تنزلی کا آغاز تو نہیں؟؟؟ ترک عوام کی اکثریت اردگان کی پالیسیوں سے نا خوش ہے جس کا ثبوت استنبول کے حالیہ دوبارہ منعقد کیے گئےانتخابات ہیں.؟؟

یہ وہ سوالات و خیالات ہیں جو معمولی ردوبدل کے ساتھ بڑے شد و مد سے انٹرنیشنل میڈیا کی زينت بنے ہوئے ہیں...جمهوريت کی گذشتہ اور حالیہ تاریخ اس طرح کے انتخابی نتائج سے بھری پڑی ہے جس میں بر سر اقتدار ہونے کے باوجود کوئی پارٹی اپنی اھم ترین نشست کھو بیٹھتی ہے. سبب کچھ بھی ہوسکتا ہے. پالیسییز پر عوام کا عدم اعتماد. .پارٹی کے انتخابی ڈھانچے کی کمزوری. ..غیر موثر الیکشن کیمپین. .یا پارٹی کا کوئی خاص موقف جس نے عام ووٹر کو مایوس کردیا ہو. اردوگان کی پارٹی کی شکست جہاں قابل تشویش ہے وہاں ان نام نہاد عالمی تجزیہ نگاروں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو ہر فورم پر واویلا مچاتے رہے ہیں کہ ترکی میں عملا ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے اور صدر اردگان در حقیقت جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ایک ڈکٹیٹر ہیں
دوسری طرف اگر انٹرنیشنل تھنک ٹینکس اور عالمی سامراج کےماتحت میڈیا کے ترک انتخابات سے متعلق تجزیاتی فیچرز پر نظر دوڑائی جائے تو اردگان سے ان کی نفرت چھلک رہی ہے یاجسے اردگان کی طاقت ور لیڈر شپ سے چھٹکارے کی آس كہا جائے تو بے جا نہ ہوگا.مشرق وسطٰی کی سیاست ہو یا جنگ سے متاثرہ شام کے علاقے یا اسلام اور مسلمانوں سے متعلق ایشوز ہو نہ چاہتے ہوئے بھی مغرب ترک صدر کے فیصلہ کن کردار کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے. . یہی وجہ ھیکہ 2016 کے ناکام انقلاب کے بعد اب مغرب کی تمام تر امیدیں ترکی کی اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   ترکی مخالف ہر طرح کے پراپیگنڈا کو باہمی یکجہتی سے ناکام بنا دیا گیا ہے، صدر ایردوان

یہ الگ بات ھیکہ قومی ایشوز پر ہمارے اکثر ایشیائی ممالک کے برعکس ترک حزب اختلاف اور اقتدار کے اراکین عموما ایک سی رائے رکھتے ہیں جس کی جھلک آپ نومنتخب میئر اکرم امام اوغلو کے بیانات میں دیکھ سکتے ہیں. .یوں اپوزیشن کارڈ بھی بظاہر کامیابی سے کوسوں دوری پر ہے ..الیکشن اور اپوزیشن کے بعد زمینی خدائی کے زعم میں مبتلا طاقتوں کے پاس لے دے کے میڈیا کا آسرا ہی رہ جاتا ہے جس کے وہ خود کرتا دھرتا ہیں..اب ان کی تمام تر کوشش یہی رہے گی کہ حالیہ انتخابی نتائج کو بنیاد بنا کر مستقبل بعید کے ترکی کی ایسی منظر کشی کی جائے جس میں اردگان کی طلسماتی شخصیت اور شہرت ان کی پارٹی کے ساتھ ماضی کا گمشدہ نہ سہی فراموش کردہ حصہ ضرور بنا دیا جائے . در اصل وہ اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں کہ وہ چاہے جتنی سازشیں کرلیں جتنے مہرے استعمال کرلیں آنے والا وقت کٹھن سہی مگر اس بساط کے بازیگر اسلام پسند ہی ہونگے .. اردگان اینڈ کمپنی ان کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی اور ان کے بعد آنے والی تازہ دم قیادت ان شاءاللہ ترکی کی سیاست میں رہے سہے بیرونی کردار بھی ختم کردےگی . یوں یہ اپنی ناکامیوں کے ساتھ رسوا ہو کر اپنے ان بلوں میں واپس گھس جائنگے جہاں سے اپنی حیثیت کا ادراک کئے بغیر سلطنت کا خواب لیکر نکلے تھے یہ جانے بغیر کہ ترکی کی سلطنت تو فقط سلطان محمد فاتح کے حقیقی جانشینوں کو ہی زیب دیتی ہے