یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے - افشاں نوید

رات کے تین بجے جہاز کے اندر اور باہر ایک جیسا اندھیرا تھا۔ اس کی ٹرے میں چار جوس کے گلاس تھے۔ اس نے دیکھا میں جاگ رہی ہوں تو ٹرے ایک دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ میرے سامنے کردی۔ زندگی میں پہلی بار نصف شب کے بعد کسی کایہ خدمت گارانہ رویہ دیکھ کر دل مسرور ہوگیا۔ ورنہ اگر کبھی بچوں کورات کے اس پہر بحالت مجبوری پکارا تو باڈی لینگویج کی بے بسی دیکھ کر دوبارہ پکارنے کہ ہمت نہ ہوئی ۔

جی چاہا کہوں, سنو! تم بھی سوجاؤ ۔ ابھی تو رات باقی ہے۔ مگر وہ کیسے سو سکتی ہے وہ تو ڈیوٹی پر ہے۔ چودہ گھنٹے سے وہ پانچ چھ دھان پان سی لڑکیاں جیسے دھنکی ہوئی روئی ، نرم ونازک ، کیسے نخرے اٹھا رہی ہیں سب کے ۔ کمال کی بات یہ کہ نہ میک اپ ماند پڑا ۔ نہ ہئیر اسٹائل ، نہ شکن لباس پر نہ ماتھے پر۔۔۔۔یہاں سے وہاں اتنی لمبی تو تھی جہاز کی راہداری جتنی ہمارے پرانے محلہ کی گلی۔ وہ ہیل کے جوتے پہنے کتنی مہارت سے اس راہداری کو ناپ رہی تھیں۔۔ایک طویل سفر میں کھانا پینا بھی ٹائم پاسنگ کا اچھا بہانہ ہوتا ہے ۔
بھرے جہاز کے ہر مسافر کو چھ سے آٹھ بار کچھ پیش کیا انھوں نے پانی، ٹافیاں، اخبار، مہکتے ٹشوز، ناشتہ ، لنچ ، ڈنر،چپس ، آئسکریم ، کولڈ ڈرنکس ، عند الطلب الگ حاضر ہو رہی تھیں۔ کسی کو مزید تکیہ درکار ہے۔ کسی کو کافی یا چائے۔ کسی بزرگ کی طبیعت ناساز ہورہی ہے تو کسی میم کا بچہ چین نہیں لینے دے رہا۔ وہ ہر کال پر ایک سی مسکراہٹ سجائے حاضر۔۔
سفر سولہویں گھنٹے میں داخل ہوگیا اطراف میں سب کمبلوں میں سمٹے پڑے تھے۔کچھ خوابیدہ ،کچھ نیم خوابیدہ ، کچھ کے خراٹے دوسروں کے لئے وبال جان کہ بس چلے تو جہاز کی کھڑکی سے نیچے پھینک دیں۔جی چاہا کہ اس سے پوچھوں تمہیں سردی نہیں لگتی؟ اس کی اسکرٹ جو ٹخنوں سے اوپر تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمت، جرات اور عورت - زرین آصف

کئ بار میں نے اپنی دانست میں دیکھنے کی کوشش کی کہ ایسا کون سا جیل یا لوشن لگایا ہے کہ پنڈلیوں پر شدید سردی کا اثر نہ ہو۔ کیسے ظالم ہیں سردیوں کا لحاظ کرکے ہی ڈریس کوڈ میں کچھ ترمیم کردیتے۔ ائیرپورٹ پر بھی جہاں لوگ مفلر، جیکٹ، جرسیوں میں ملبوس تھے یہ دکھیاریاں اسی حلئے میں نظر آئیں۔۔ گھروں میں تو چار چھ افراد کی خدمت ہمیں کتنی کھلتی ہے۔ کوئی بیٹی اپنے گھر میں خدمت کی یہ مثال پیش نہیں کرسکتی۔ کیسا سراب ہے یہ۔ یہاں سڑکوں پر کہتی ہیں ۔ ہم روٹی کیوں پکائیں، ہم موزہ کیوں ڈھونڈیں، ہم خدمت کیوں کریں، ہم کس صلاحیت میں کم ہیں۔ جواب میں سماج نے یہ رول ان کے حوالےکیا ہے۔صبح چھ بجے دوہا ائیرپورٹ تھا۔ اگلے دن چھ بجے سڈنی ائیرپورٹ۔ خواتین اور مرد ایک جیسے یونیفارم میں جابجا کاؤنٹرز اور راہداریوں میں موجود۔ کتنی گراں ہے یہ نائٹ ڈیوٹی۔ جہاں مجبور ہوں وہاں حالت اضطرار میں جائز۔مساوات کی طلب میں جو گھر چھوڑا تو سماج نے بھی کمر توڑ دی اس صنف نازک کی۔ وہ سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ہم اس سراب کو چشمہ حیات سمجھ کر لپک رہے ہیں۔۔ دودن قبل آسٹریلیا کے فیڈرل الیکشن کا رزلٹ آیا ہے۔انتخابی منشور کے تین اولین نکات تھے ۔ماحولیات، معیشت، ڈپریشن سے نجات۔ جس کے لئے لبرل پارٹی نے اربوں ڈالر مختص کرنے کاوعدہ کیاہے جس سے بالخصوص نوجوان نسل کے نفسیاتی عوارض اور ڈپریشن کا علاج ہوگا۔ گھر کا سکون کھو کہ پایا تو کیا پایا۔۔۔۔
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے۔۔

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.