سلطانی جمہور کے دعوے اور تاریخ کی درست سائیڈ - شمس الدین امجد

اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف کا تختہ الٹ کر انھیں قید اور بےنظیربھٹو کو خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور کیا۔ کچھ عرصہ گزرا تھا کہ کلثوم نواز کی قیادت میں تحریک شروع ہوئی، اے آر ڈی بھی، پیپلزپارٹی جس کا حصہ تھی، نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں اس کے ساتھ آ ملی۔ عمومی طور پر یہ سمجھا گیا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور آمریت سے نجات کے لیے متحد ہوئی ہیں، اب سلطانی جمہور کا وقت ہوا چاہتا ہے، اور مستحکم جمہوریت کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ مگر ابھی اس سلطانی کے بال و پر بھی نہ نکلے تھے کہ شریف برادران مشرف سے ڈیل کرکے یہ جا وہ جا ہوئے، نوابزادہ نصراللہ خان صاحب سمیت پوری سیاسی قیادت ہکا بکا رہ گئی۔ معلوم ہوا کہ تحریک کا مقصد ڈیل کے علاوہ کچھ نہ تھا، مگر سونے پر سہاگہ یہ کہ شریف خاندان اس معاہدے سے انکاری رہا، یہاں تک کہ سعودی انٹیلی جنس چیف مقرن بن عبدالعزیز نے معاہدے کی کاپی اسلام آباد میں لہرا کر انھیں خاموش کروایا۔

اس اقدام سے بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی جسے دور کرنے میں کئی سال لگے۔ پھر میثاق جمہوریت کا غلغلہ اٹھا۔ ہر طرف ایک شور سا تھا۔ نوازشریف اور بےنظیر بھٹو کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر جمہوریت کے متوالوں کی آنکھیں بھر آئیں، اور ایک یقین سا ہو گیا کہ دونوں بڑے لیڈر ایک ساتھ آ ملے ہیں، پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا، اب ایک دوسرے کو دھوکہ دیں گے نہ جمہوریت کے خلاف کبھی کوئی سازش کریں گے۔ آمریت کا خاتمہ اب بس دنوں کی کہانی ہے، پھر کبھی اس ملک میں خلائی مخلوق مداخلت کیا، اس کا سوچ بھی نہیں سکے گی۔ مگر اب ساری کہانی کھل گئی ہے اور ہر چھوٹے بڑے کو معلوم ہے۔ بالعموم کہا جاتا ہے کہ معاہدے کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ خلاف ورزی کر ڈالی، مگر یہاں معلوم ہوا کہ معاہدے سے پہلے ہی اس کی خلاف ورزی جاری تھی، اور میثاق جمہوریت این آر او کے حصول کےلیے مشرف پر دباؤ ڈالنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ بعد کے برسوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی، کہ رابطے تو 2002ء کے الیکشن کے بعد ہی بحال ہو گئے تھے، اور باوجودیکہ پیپلزپارٹی سے 18 پیٹریاٹ نکال کر جمالی صاحب کو وزیراعظم بنایا گیا تھا مگر بےنظیر بھٹو صاحبہ اس سے بےمزہ نہ ہوئیں۔ اس دوران ان کی پہلے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پھر خود پرویز مشرف سے دبئی میں ملاقاتیں ہوئی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ این آر او جو 2007ء میں ہوا، وہ 2004ء میں ہی ہو گیا ہوتا، اگر کچھ مسائل نہ درپیش ہوتے۔ مگر خیر معلوم ہوا کہ میثاق جمہوریت بھی این آر او کے حصول کے لیے دباؤ ڈالنے اور اپنی قیمت بڑھانے کے سوا کچھ نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

2007ء میں اے آر ڈی سے اختلافات کے بعد میاں صاحب نے اے پی ڈی ایم بنائی۔ طے ہوا کہ باوردی صدر کے تحت الیکشن میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ چنانچہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بائیکاٹ پر یکسو ہو گئیں، مگر عین موقع پر معلوم ہوا کہ وردی میاں صاحب کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے، اور ان کی جماعت الیکشن میں حصہ لے گی۔ جماعت اسلامی کو اس دھوکے سے جو نقصان ہوا، اس کا ازالہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ پرویز مشرف نے جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹا دیا تو ملک میں وکلا تحریک شروع ہوئی۔ عین اس دن جب جماعت اسلامی کے سابقہ جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ اور موجودہ سیکرٹری جنرل امیرالعظیم (اس وقت لاہور جماعت کے امیر) مال روڈ پر آنسو گیس کے شیل کھا رہے تھے، میاں نوازشریف راستہ بدل کر گوجرانوالہ جا پہنچے تھے اور جنرل کیانی کی کال پر واپس تشریف لے گئے تھے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ وہ ماڈل ٹاؤن سے ہی یقین دہانی کے بعد نکلے تھے۔ اور یہ یقین دہانی شہبازشریف اور چوہدری نثار کی رات کے اندھیرے میں کی گئی خفیہ ملاقاتوں کا نتیجہ تھی۔ پھر یہ زمزمہ ایسا بہا کہ قوم نے دیکھا کہ میمو گیٹ کیس میں میاں نوازشریف کالا کوٹ پہن کر خود عدالت جا پہنچے اور مقدمہ لڑتے دکھائی دیے۔ 2013ء کے الیکشن میں جو ہوا، وہ بھی سامنے ہے اور اب یہ راز نہیں رہا اور سینئر صحافیوں نے رپورٹ کیا کہ اس عرصے میں شہبازشریف اور چوہدری نثار کی درجن سے زائد ملاقاتیں ہوئیں۔ اس پر سید منور حسن نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ کچھ عرصہ گزرے گا کہ الیکشن مینیج کرنے والوں کو پشیمانی ہوگی کہ انھوں نے جیتنے والوں کو زیادہ جتوا دیا ہے اور ہارنے والوں کو زیادہ ہروا دیا ہے۔ یہ پشیمانی پھر اسلام آباد میں مسلسل دھرنوں کی صورت میں دیکھی گئی۔

پھر یہ 2018ء کے الیکشن سے ذرا پہلے کی بات ہے۔ بلوچستان میں حکومت تبدیل ہوئی، اور آصف زرداری صاحب بڑھکیں مارتے پائے گئے کہ بلوچستان کے بعد اب پنجاب کی باری ہے۔ وہاں بھی شریف خاندان سے حکومت چھین لیں گے۔ سینٹ الیکشن ہوا تو قوم نے دیکھا کہ آصف زرداری اور عمران خان ایک لائن میں لگ کر چیئرمین سینٹ کو ووٹ دیتے پائے گئے۔ اس موقع پر سراج الحق صاحب نے ''اوپر سے اشارہ ہے'' والا مشہور زمانہ بیان دیا تھا۔ یہ اشارہ اب کھل گیا ہے، سارا کھیل کیسے ہوا، وہ اب کوئی راز کی بات نہیں، سب کھلی کہانی ہے اور خود پیپلزپارٹی اس کا اعتراف کر رہی ہے۔ اس کے بعد صدارتی انتخاب کا مرحلہ آیا تو پیپلزپارٹی کے رہنما کہتے پائے گئے کہ ڈاڑھی والے کو ووٹ نہ دیں گے، یوں تحریک انصاف کے صدر کی راہ ہموار کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

ابھی کچھ دن پہلے ہی شہبازشریف ووٹ مانگتے ہوئے قوم کو بتا رہے تھے کہ آصف زرداری کو لاڑکانہ اور لاہور کی گلیوں میں گھیسٹیں گے اور پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت نکالیں گے۔ مریم نواز بتا رہی تھیں کہ آصف زرداری اور عمران خان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ نوازشریف جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں، اور آصف زرداری کہتے تھے اس بار نواز کو معاف کیا تو خدا بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ مگر دونوں پھر سے ایک پیج پر ہیں۔ دوسرے کے زور پر باقی جماعتوں کو اکٹھا کرکے طاقت کے اصل مرکز سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ دکھاتے کہیں ہیں مارتے کہیں ہے۔

دوسروں کے زور پر ذاتی مفادات کے حصول کی یہ طویل کہانی ہے۔ ایوب اور ضیاء الحق کے بجائے گزرے بیس سالوں کی دیگ کے چند چاول آپ کے سامنے پیش کیے ہیں جو تمام دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسے درجنوں مزید واقعات گنوائے اور پیش کیے جا سکتے ہیں۔ آج بھی جب بعض دانشور تاریخ کی سیدھی الٹی سمت بتائے پائے جاتے ہیں، عین اسی وقت شہبازشریف اپنی مشہور زمانہ مفاہمانہ سیاست کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہ جلوس لے کر لاہور کی سڑکوں پر مٹرگشت کرتے رہتے ہیں، ائیرپورٹ نہیں پہنچ پاتے، جبکہ پارلیمنٹ پہنچ کر کبھی ایک میثاق اور کبھی دوسرے میثاق کی بات کرتے ہیں۔ اندھیروں اجالوں میں ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں جس کا دعوی خود ن لیگی رہنما کرتے ہیں۔ یہی عالم پیپلزپارٹی کا ہے۔ آصف زرداری نے 2007ء کے بعد ساری سیاست مفاہمت والی کی ہے، ہر حکم بجا لائے ہیں، اور اب بھی ذرا سی چھوٹ اور اشارے کے منتظر ہیں۔

اس سارے پس منظر میں جب اپنا چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے راستے پر کیا چلنے، اس کی بات سننے کو تیار نہیں ہے، کوئی جماعت اسلامی کو سبق دیتا دکھائی دیتا، اور سلطانی جمہور کا سورج طلوع ہونے کا دعوی کرتا ہے، تو بس حیرانی سی حیرانی ہوتی ہے۔ کیا آپ کو بھی؟