گلبدین حکمتیار اور رجب طیب اردوغان - عمرجنجوعہ

گلبدین حکمتیار بلاشبہ ایک ذہین اور سمجھدار انسان ہے ، وہ انسان جس کے پاس افرادی قوت ہو، اسلحہ ہو ، تجربہ ہو ، اورکنٹرول ہو اس کا اپنے خلاف اٹھنے والے فتنے کا مقابلہ نہ کرنا اور اسے راستہ دیتے جانا ایک بہت کٹھن اور مشکل کام ہے .

یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جسے اللہ نے مومنانہ فہم و فراست سے سرفراز کیا ہوا ہو۔ ۱۹۹۶ میں بینظیر کی حکومت کے دور میں اچانک طالبان نے افغانستان کے ان علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا جو گلبدین کے کنٹرول میں تھے ، مدرسوں سے نکلے ہوئے طلبا نے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر اڑانا شروع کر دیئے . چند جھڑپوں اور کابل اور جلال آباد کے درمیانی علاقے میں ایک شدید جنگ اور طالبان کے پہلے لیڈر ملا بورجان کی ہلاکت کے بعد طالبان کے روپ میں شیطان کا اندازہ ہو چکا تھا چنانچہ اسنے بہت مشکل فیصلہ کیا ، طالبان کے سامنے اپنے مجاہدین کو مزاحمت نہ کرنے کی تلقین کی اور خود ایران میں بیٹھ کر حالات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ۔ دشمن کو جب یہ اندازہ ہو گیا کہ اب گلبدین کا پتہ کاٹا جا چکا ہے تو وہ ٹھنڈی نیند سو گیا ، تب یہ مجاہد بیدار ہوا اور اسنے اسی قوت کو جہاد فی سبیل اللہ کا درس دینا شروع کیا اور عرب مجاہدین کو انکے حوالے کر کے انکی ذہنی تربیت ذمہ بھی دے دیا اور پھر بڑے شیطان کو ایک زور دار تھپڑ رسید ہوا جس نے اسے چکرا کر رکھ دیا ، اپنے بنائے ہوئے طالبان سے ایسا تھپڑ کھانے کے بعد شیطان پاگل ہوگیا اور طالبان پر چڑھ دوڑا ، بنانے والے اپنے ہی روبوٹ میں آنے والے وائرس کا شکار ہو چکے تھے .گلبدین کی افرادی قوت قائم ہے ۱۹ صوبوں میں گورنر گلبدین کے ہیں سابق افغان انٹیلیجنس سربراہ حزب اسلامی کا تھا ۔ بیوروکریسی میں کثیر تعداد حزب اسلامی کے لوگ موجود ہیں ۔ گلبدین ایک حقیقی قوت کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے ۔ اسلام پسندوں کے لیئے خوشی کی خبر ہے .

یہ بھی پڑھیں:   پاک افغان مخاصمت ، چند مشاہدات- محمد عامر خاکوانی

دوسری طرف ترکی میں استنبول کے الیکشن میں اسلام پسندوں کے مقابلے میں لبرلز کی جیت ایک بری خبر ہے ۔ ترکی دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ سے کیئے جانے والے سو سالہ معاہدے سے ۲۰۲۳ میں باہر آنے والا ہے ، یورپ ۲۰۲۳ سے پہلے پھر ایک اتاترک کی تلاش میں ہے جو پھر سو سالہ معاہدہ کر کے ترک قوم کے مزید سو سال کے لیئے ہاتھ باندھ دے . اسی کام کے لیئے پہلے فوجی بغاوت کے ذریعے طیب اردوگان کو ہٹانے کی سازش کی گئی پھر اس سازش کے ناکام ہونے کے بعد ترک عیسائیوں پر کام کیا گیا اور انہیں مالی امداد دے کر استنبول منتقل کیا گیا تاکہ وہ وہاں کے الیکشن پر اثر انداز ہو سکیں . انکا یہ وار کامیاب رہا ہے . دیکھنا یہ ہے کہ طیب اردوگان کیسے اس معاملے کو ہینڈل کرتا ہے ۲۰۲۳ کے لیئے اسکی تمام تیاریاں ایک طرف اور اسے ۲۰۲۳ سے پہلے منظر سے غائب کرنے کی تیاریاں دوسری طرف عروج پرہیں
رسول اللہ کہ پیشیں گوئیوں کے مطابق اسلام اور اسلامی تحریکوں کے ابھرنے کے کوئی روشن آثار نظر نہیں آتے اور جبکہ اکثر مسلمان ملکوں پر جھوٹے ، منافق ، بھکاری اور قاتل حکمران مسلط ہیں جن کے اپنے کرداروں پر سیاہ دھبے ہیں ، مسلمانوں کی اپنی اکثریت بھی دین بیزار ہے ، ایسے حالات میں گلبدین اور طیب اردوگان جیسی خوشیاں زیادہ پائیدار نظر نہیں آتیں ۔
حالات نسیم حجازی کے لکھے ناول اندھیری رات کے مسافر جیسے بے یقینی سے ہیں ۔ جہاں ایک طرف مسلمانوں کو کوئی فتح حاصل ہوتی تھی تو دوسری طرف کوئی غدار بک کر شکست خوردہ صلیبیوں کو فتحیاب کر دیا کرتا تھا . اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان دونوں عظیم مسلمان راہنماوں کو لمبی عمر دے اور انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے.