امتحان یا آزمائش - ہمایوں مجاہد تارڑ

امتحان یا آزمائش بس ظرف آزمانے کی حد تک ہے۔ مائی ھاجرہ و ننّھےاسماعیل کو پیاس کی شدّت سے مار ڈالنا مقصود نہ تھا۔ نہ سچّے ابراھیم کو آگ کے الاؤ میں پھینکوا کر بھسم کر ڈالنا۔ اور نہ نوجوان اسماعیل کے گلے پر اصلاً چھری پھروا کر اُس کا گلا کاٹنا ہی۔ یہ "سسٹم" کچھ ایسا ہے کہ آپ سے اچھائی، خیر، سچّائی کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اذان دینا مانگتا ہے۔

اذان دے کر اپنی کہی بات، لئے ہوئے سٹینڈ پر تھوڑا ڈٹے رہنے کی۔ نتیجتاً گردوپیش سے منفی ردّ عمل آتا ہے۔ آپ برداشت کی حد والی لکیر سے نزدیک جا پہنچتے ہو۔ برداشت کی حد ختم ہونے لگتی، ہتھیار ڈال کر کمپرومائز کر جانے والی سروائیول کی جبلّت آپ پر غالب آنے لگتی ہے۔۔۔اِسے زندگی کی گُھمر گھیریوں اور مسائل کے اعتبار سے یوں دیکھ ڈالیں۔ ایک بے آسرا خاتون گھر چلانے کو بجٹ ناکافی پا کر گھبرا جاتی ہے۔ راشن صرف دو دن کا باقی رہ گیا ۔ گھر میں دستیاب کیش صرف اڑھائی سو روپے۔ اگلی تنخواہ یا وظیفہ (جو بھی سورس آف اِنکم ہے) دس روز بعد ملے گا۔ گھر کا کرایہ ، بجلی، پانی ، گیس کے بِلز ۔۔۔ یہ سب کہاں سے پورا ہو؟ ایسے میں " غلط " آپشنز اختیار کر جانے والے رجحان کی دل و دماغ پر یلغار... یہی وہ مقام ہے جہاں اذان ہے۔ اڑھائی سو روپے ابھی باقی ہیں۔ دو دن کا راشن ابھی باقی ہے۔ اللہ کو پکارنے والی زبان اور توانائیاں ابھی باقی ہیں۔
آپ کے اختیار میں بس اتنا ہے کہ آخری روپیہ خرچ ہو جانے کے بعد بھی آپ "غلط" آپشن پر جانے سے صاف انکار کر دو ۔ کسی طور اِس غلط فہمی سے باہر آجاؤ کہ آپ تنہا ہو۔ پیدا کرنے اور ہر ساعت آپ پر نگاہ رکھنے والا جانتا ہے آپ "کِس" مقام پر کھڑے ہو۔ یعنی برداشت کی لکیر کے پاس۔ آپ کی ذمّہ داری صرف اتنی سی ہے کہ "اِنکار" کر کے دکھاؤ۔

اُس کا حکم یہ ہے کہ آپ غلط آپشن کو فرِیز کردو ۔۔۔ پگھلتے ہوئے حوصلے کے پہاڑ کو یکجا و منظّم رکھنا، ذرا تھام تھام رکھنا۔۔۔ مجھے احمد رفیق اختر صاحب کے یہ الفاظ بہت پسند ہیں: "جہاں آپ کے صبر کی حد ختم ہو رہی ہے، وہیں سے اللہ کی مدد شروع ہو رہی ہے۔" اللہ کے امدادی لشکر حرکت میں آجایا کرتے ہیں۔۔۔ وَما یعلمُ جُنودَ ربّکٔ الا ھُو۔۔۔ تیرے رب کے لشکروں کو تیرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
پیغمبر علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زبان سے ادا ہوئی یہ دعائیں کیسی پیاری ہیں:
اللّٰھُمَّ أَکْفِنِيْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔
الّلھم الرزُقنِی مِن حیثُ لا اَحتَسِب۔
خاتون والی بات صرف ایک مثال ہے۔ یہ کُلیہ ہر مرد و زَن پر ہر مشکل صورتحال میں برابر ایپلائی ہوتا ہے۔ آزما دیکھیں۔
مشکل کا شکار ہر ایسے انسان کو اللہ توفیق بخشے کہ کسی طور وہ محض ظرف کے آزمائے جانی والی بات کا فارمولا جان لے۔ اللہ پورا وزن آپ پر کبھی بھی نہیں ڈالتا۔ پورا وزن شاید ایک ہی ذاتِ گرامی پر ڈالا گیا تھا ۔۔۔ آزمائش کے سارے ہَیڈز یکلخت کھول دئیے گئے تھے۔۔۔ اِمامِ کرب و بلا پرــــ حُسین!!
یُوں زمانے میں رواں اِبنِ علی کا غم ہے - چودہ صدیوں کا سفر کر کے بھی تازہ دَم ہے

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.