یہودیوں کی پلاننگ اور جنرل سیسی کی اصلیت - عارف الحق عارف

کہتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے یہودی ہم مسلمانوں کے جہاں سب سے قریب ہیں وہیں ہم سے ان کی دشمنی بھی سب سے زیادہ ہے رسول اکرم صلی اللہ وسلم کے زمانے ہی سے ان کی دشمنی اور طرح طرح کی سازشوں اور مکاریوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ ان کی یہ سازشیں انیسویں صدی میں اسوقت اپنی انتہا کو پہنچ گئیں جب ساڑھے چھ سو سال سے اسوقت کی تین براعظموں میں برسر اقتدار با جبروت سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کےلئے ان کی خفیہ اور خطرناک تنظیم Brother hood نے پوری سلطنت میں سازشوں کا جال بنا جو کبھی برادر ہڈ اور کبھی فری میسینری کے نام سے عثمانی خلفاء اور حکومت کے خلاف عوام کو بغاوت پر اکساتی رہیں۔

ان خفیہ تنظیموں نے ترک خلافت کو کیسے ختم کیا ؟ کون کون سے خفیہ حربے اور سازشیں کیں ؟ کسطرح مسلمان بچوں کو اغوا کیا؟ کس طرح ان کا برین واش کیا گیااور ان کو ترکوں کے خلاف استعمال کیا گیا؟ کس طرح خلیفہ کے رشتہ داروں، شہزادوں اور وزراء کو خریدا گیا اور ان کو خلافت کے خاتمے کے مقصد میں استعمال کیا گیا؟ کس طرح عثمانیوں کی منظم ترین فوج کے اعلی افسروں حتی کہ جرنیلوں تک کو زر اور زن کے ہتھیاروں سے اپنا مطیع و فرمانبردار بنا کر فوج میں بغاوت اور پھوٹ ڈالی گئی؟ کس طرح یہودی ربی مسلمان بن کر اماموں اور خطیبوں کے روپ میں مسلمانوں کو گمراہ کرتے رہے اور جاسوسی کا ٹیٹ ورک چلاتے ہے؟ اس کا تفصیل سے ذکر تو سلطنت عثمانییہ کے زوال پر لکھی گئی کتب میں مل جاتا ہے لیکن اس کی واضع عکاسی ترکی کے سرکاری ٹیلی وژن TRT سے ٹیلی کاسٹ کئے گئے دو ڈرامہ سیریز Flinta Mustafa اور Payitaht میں کھل کر کی گئی ہے یہ دونوں ڈرامہ سیریلز ظاہر ہے، ترکی زبان میں ہیں لیکن ان کو انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے، Flinta Mustafa تو Netflex اور اس کے Face Book کے ساتھ Youtube پر بھی مل جاتا ہے جب کہ Payitaht انگلش سب ٹائٹلز کے ساتھ YouTube اور Face Book کے اس کے پیج پر موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محمد مرسی کو کس جرم کی سزا ملی؟ محمد رضی الاسلام ندوی

ان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کتنی دور اندیشی کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے نوجوانوں ( لڑکی اور لڑکے) کی شاہی حرم میں داخل کرنے اور شہزادوں اور شہزادیوں کے ساتھ شادیاں کردینے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔جو بعد میں ان خفیہ تنظیموں کے جاسوس کے طور پر شاہی محل کی خبریں ان کو فراہم کرتے تھے۔ ہمیں یہ پس منظر لکھنے کی ضرورت مصر کے واحد منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی شہادت کے بعد شائع ہونے والے متعدد مضامین میں سے ایک بہترین تحریر پڑھ کر محسوس ہوئی جس میں مصر کے موجودہ صدر فوجی ڈکٹیٹر جنرل السیسی کے خاندان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ دلچسپ تحریرآپ کے مطالعے کےلئے ہم شیئر کر رہے ہیں۔
“ 1951ء میں مراکش کے ایک یہودی خاندان نے اسرائیل ہجرت کی۔ اس خاندان کی ملیکہ تیتانی نامی ایک لڑکی اسرائیل کے بجائے مصر چلی گئی، بلکہ بھیجی گئی۔
جہاں اس نے 1953ء میں سعيد حسين خليل سے شادی کی اور 1954ء میں اس جوڑے کے یہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی۔ ملیکہ کو مراکش کی شہریت کے ساتھ 1958ء میں مصری شہریت بھی دی گئی اور وہ یہاں سعاد کے نام سے پکاری جانے لگی۔ تاہم 1973ء میں اپنے بیٹے کو مصری فوج میں بھرتی کرنے کیلئے اسے مراکشی شہریت سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔
ملیکہ کا سگا ماموں ”عوری صباغ“ اسرائیل کے قیام کے بعد 1951ء سے 1968ء تک وہاں وزیر تعلیم و تربیت سمیت کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ ادھر مصر میں اس کا بھانجا فوج میں ترقی پاتا رہا۔

یہاں تک کہ وہ بعد میں جنرل کے عہدے تک پہنچ گیا لیکن بظاہر مسلمان اور کافی دیندار، یہاں تک کہ اس جنرل کی بیوی کی کوئی تصویر بھی کسی نے نہیں دیکھی تھی۔ بس اسی ظاہری دینداری سے مصر کی نومنتخب اسلام پسند حکومت دھوکہ کھا گئی اور سادہ لوح صدر مرسی نے 12 اگست 2012 ء کو صدارتی حکم نامہ جاری کرکے اس جنرل کو آرمی چیف اور وزیر دفاع کے عہدے پر فائز کیا۔ جانتے ہیں یہ جنرل کون تھا ؟ وہی سیسی جس نے مرسی کا تختہ الٹ کر اخوان المسلمون کا قتل عام کیا اور آئین میں ایسی ترمیم کی کہ اسلام پسند آئندہ کبھی الیکشن میں ہی حصہ نہیں لے سکتے، حکومت میں آنا تو دور تو دور کی بات ہے۔ یوں ساٹھ سال پہلے بنایا گیا یہ پلان نہایت کامیاب رہا اور اسرائیل مصر کی جانب سے مستقبل بعید میں بھی ہر قسم کے خطرات سے مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اس لئے اسرائیلی جنرل سیسی کو اپنا نیشنل ہیرو کہتے ہیں۔ یہ اسٹوری سی این این نے چھاپی تھی۔ بعد میں بہت سے عربی جرائد نے بھی اس پر لکھا تھا۔۔۔ تاریخ یکم جولائی 2014۔ یہ بھید بھی تب کھلا جب ملیکہ تیتانی کا اسی برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اگر جنرل سیسی اس کی موت کو خفیہ اور تمام رسومات کو پردہ اخفا میں رکھنے کا سختی سے حکم نہ دیتا تو شاید ذرائع ابلاغ بھی کھوج میں شاید نہ پڑتے۔۔۔۔
https://crescent.icit-digital.org/articles/and-the-truth-shall-set-you-free

یہ بھی پڑھیں:   امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ - حامد کمال الدین