عالم اسلام کی پس ماندگی میں صفویوں کا کردار - احمد الظرافي

اردو استفادہ : تحریم افروز
16 ویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں کو تین عظیم اور دہشت ناک خطرات کا سامنا تھا اور یہ تینوں ان پر یکبارگی حملہ آور ہو کر ان کے وجود اور مستقبل کے لیے چیلنج بنے ہوئے تھے۔
پہلا خطرہ: آئبیرین صلیبیوں کا بحرمتوسط بحراوقیانوس اور بحر ہند میں اثرونفوذ ۔ دوسرا خطرہ : مشرق میں صلیبی روس کا بڑھتا ہوا خطرہ . تیسرا: ایران میں صفوی مملکت کا قیام

آئبیرین صلیبیوں کا بڑھتا ہوا اثروروسوخ : یہ خطرہ 1492ء اندلس میں مسلمانوں کے آخری ٹھکانے غرناطہ کے کیتھولک ہسپانویوں کے ہاتھوں سقوط کے بعد بڑھنے لگا۔ اس دوران ہسپانوی اور پرتگالی نئی دنیا دریافت کر کے ، وہاں کے اکثر باسیوں کو قتل کر کے اپنی کالونیاں قائم کر چکے تھے۔ وہاں کی دولت اور وسائل لوٹنے میں مصروف تھے اور پھر اس بھاری بھر کم دولت بالخصوص ٹنوں کی مقدار میں سونے اور چاندی کو اس کے ساتھ ساتھ افریقہ ، ہندوچین اور جنوب مشرقی ایشیا کی دولت کو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال کر رہے تھے ۔ ایسا پرتگالیوں کے راس امید کی دریافت ، افریقہ کے گرد چکر کاٹنے ، او ران کے بھاری بھر کم جدید ٹیکنالوجی اور بھاری توپوں سے لیس جہازوں کے مشرقی افریقہ کے سواحل تک پہنچنے اور پھر وہاں سے ہندوستان کے سواحل پہنچنے اور وہاں تزویراتی (اسٹریٹیجک ) اہمیت کے اڈے قائم کرنے کے بعد ہوا۔ پر تگالیوں نے سمندری اعلی مقامات اور مشرقی سمندروں پر تسلط یقینی بنایا ، مسالہ جات کی تجارت پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ عربوں کی بحری اور بری تجارتی برتری کا خاتمہ کیا ، اور تاریخ کی گھٹیا ترین تجارت" غلاموں کی تجارت " کو فروغ دیا ( جس کے نتائج یہ نکلے کہ ان غلاموں کی اکثریت نے نصرانیت کو قبول کیا ، افریقہ کو اپنا غلام بنایا اور خطے کے وسیع وعریض علاقے کو وہاں کے باسیوں سے خالی کیا ) .

یہ تمام ترافعال اس صلیبی منصوبے کے دائرہ کار میں تھے جسے پوپ کی بھرپور سرپرستی حاصل تھی اور اسے "منصوبہ ہند" کا نام دیا گیا ۔ اس کے نمایاں مقاصد میں عالم اسلام کا پیچھے یعنی جنوب اور مشرق سے گھیراؤ کر کے اسے بحراحمر کی جانب دھکیلتے ہوئے اس کے ابتدائی مرکز مکہ اور مدینہ تک محدود کرنا اور پھر ان دونوں کو تاراج کرنا تھا۔پھر شمال سے حملہ آور ہو کر بیت المقدس کی واپسی اور اسے مقدس کلیسا میں تبدیل کرنا ، اسلام کا مکمل خاتمہ کرنے کیلئے اس کے ساتھ فیصلہ کن حتمی جنگ لڑ کر ہمیشہ کیلئے اس کا کام تمام کرنا اور عالمی مسیحی فتح کے خواب کو اس طرح شرمندہ تعبیر کرنا کہ روئے زمین پر محض ایک دین "دینِ نصرانیت" اور ایک تہذیب" یورپین نصرانی تہذیب" باقی رہے جو ان کیلئے ہمیشہ سے پرکشش رہا تھا۔ یہی خواب ان کیلئے بنیادی محرک تھا جس نے یورپ کو گہرے سرکش لہروں والے سمندروں پر سوار ہونے ، امریکا کی دریافت اور افریقہ کے گرد چکر لگانے ، مشرق کی جانب طویل سمندری سفر کیلئے جان وقت اور کوششوں کی قربانی دینے پر مجبور کیا۔ یہی ان کا وہ بلند خواب تھا جس نے یورپین کو پندرھویں اور سولہویں صدی کے درمیان دھوکے میں مبتلا رکھا۔ جبکہ ان بحری مہمات کے مقاصد میں "دریافت" اور "تجارت " کا عنصر جسے وہ اپنی کتب میں ہمارے لئے پیش کرتے ہیں ہمیں گمراہ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ان ثانوی مقاصد کی اسلام کے خلاف جنگ اور اس خاتمہ کی خواہش کے سامنے کوئی وقعت نہیں ۔
صلیبی روسیوں کا امنڈتا ہوا خطرہ: روس 14 صدی عیسوی میں تاتاری مسلمانوں کا ماتحت تھا جوا سلام قبول کر چکے تھے، اسلام کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے والے اور اسی شناخت تلے انھوں نے لمبا عرصہ حکومت کی ۔ تاتاری خان نے امراء روس پر سالانہ جزیہ مقرر کر رکھا تھا۔ 1382ء میں امیر ماسکو ایوان اول تاتاری خاقان ازبک کو اپنے اخلاص ، وفاداری اور امراء روس سے جزیہ کی وصولی میں اخلاص کی بنیاد پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ اسے ولاڈیمیر عظیم کا لقب عطا کرے ۔ جب تاتاریوں کی حکومت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی تو بہت سی خودمختار ریاستیں وجود میں آتی گئیں جن میں اہم ترین ماسکو تھی ۔ جس نے بعد میں تاتاریوں کی حکومت کے خلاف سرکشی کی اور ان کے اور تاتاری مملکت قازان کے درمیان جنگ ہوئی ۔ روس نے اپنی کوششوں میں اتحاد پیدا کیا اور تاتاریوں کو 1380 ء میں شکست دی ۔ یہ خوں ریز کشمکش مملکت ماسکو اور مملکت تاتار کے درمیان لگ بھگ 100 سال تک جاری رہی ۔روس اپنے عزائم، عسکری شجاعت ، جنگ و غارت گری اور توسیعی حکمت عملی ، وحشیانہ فطرت جو ہمیشہ ان پر غالب رہی ،

ان کا یہ یقین کہ حتمی اقتدار قوت کا ہی ہے اور مجنونانہ صلیبی خواہش جو انھیں سقوطِ قسطنطنیہ کے بعد مسلسل برانگیختہ کرتی رہی ان سبھی عوامل کے پیش نظر ان کی تاتاری مسلمانوں کے ساتھ طویل جنگوں کا اختتام 1480 میں ایفان سوم (1462ء -1505ء) کے ہاتھوں ماسکو کی خود مختاری کے اعلان کے ساتھ ہوا ۔ اس دوران تاتاری اپنے باہمی نزاعات کے باعث کمزور پڑ چکے تھے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کمزور۔ پھر ایوان چہارم کا دور آیا جو روسی ایمپائر کا حقیقی بانی سمجھا جاتا ہے ، اس نے روس کو متحد کیا اور اپنے لئے قیصر کا لقب اختیار کیا۔ ماسکو اس کا دارلحکومت قرار پایا۔یہ 1547ء کی بات ہے ۔ اس نے اپنے لشکر کو ازسرنو منظم کیا ، اور اپنے ہمسایہ مسلمانوں کے خلاف صلیبی حملے کا آغاز کیا ، تاتاریوں کے دارلحکومت قازان پر قبضہ کیا ، اور 1556ء میں دریائے وولگا کے کنارے تاتاری مملکت کا خاتمہ کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ یہ قیصر روسی سلطنت کو وسعت دینے اور اپنے قرب و جوار میں دہشت پھیلانے کی وجہ سے دہشتناک(Terrible) کے لقب سے مشہور ہوا۔ پھر قیصران روس مشرق میں اسلام کے خلاف جنگ کے ایک نئے دور میں داخل ہوئے ۔ جس میں روس کے حکمرانوں اور کلیسا دونوں کی خواہش تھی کہ ماضی کی بازنطینی سلطنت کا کھویا ہوا مقام اور سلطنت بحال کی جائے ۔

کیونکہ روس آرتھوڈکس اقوام کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ اس کیلئے انھوں نے اپنے ہمسایہ علاقے قوقاز کے مسلمانوں کے خلاف شدید ترین صلیبی حملے کا آغاز کیا ، تاکہ انھیں اپنا ماتحت بنا کر ان پر بزور بازو آرتھوڈکس مسیحیت نافذ کی جا سکی ۔اس کے ساتھ ساتھ ان کی مسلسل کوشش تھی کہ بحراسود اور بحرقزوین کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کی جاسکے ۔ قسطنطنیہ کی واپسی، آبنائے باسفورس و در دانیل پر قبضہ اور سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ان کا سب سے بڑا خواب تھا ۔
صفوی مملکت کا قیام : 1501ء میں صفوی شیعی مملکت آذربائیجان میں قائم ہوئی۔ اور تبریز کو اس نے اپنا دارلحکومت بنایا ۔ جلد ہی یہ مملکت تمام ایران تک پھیل گئی اور وہاں کے باسیوں پر بزور قوت شیعی مذہب نافذ کیا۔ پھر بغداد ، جنوبی عراق اور خراسان پر قبضہ کیا ، صفویوں نے قزلباش کے ساتھ ساتھ آرمن ، اور اہل جارجیا ( جو کہ اسلام سے دشمنی میں معروف اور کسی بھی پرچم تلے مسلمانوں سے انتقام لینے کیلئے موقع کی تاک میں رہتے تھے ) کا لشکر جرار استعمال کیا۔ اپنی وسعت اور عروج و تکبر کی انتہاء کے دوران شاہ اسماعیل ( صفوی حاکم ) نے پرتگالیوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ جو اس دوران عالم اسلام کے خلاف سب سے خطرناک صلیبی قوت تھے ۔

جس سے خلیج عربی میں پرتگالی موجودگی کو تقویت ملی اور صفویوں نے باقی ماندہ دینی و ثقافتی ادارے اور مراکز کو تباہ کرنا شروع کر دیا جن تک اس سے پہلے منگولوں کے ہاتھ نہ پہنچ پائے تھے ۔ تباہی کا یہ دور ان تمام شہروں اور اسلامی مراکز میں چلا جن میں صفوی داخل ہوئے ۔ جن میں سرفہرست بغداد تھا ، جو کہ دوسری صدی ہجری سے اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے ۔ وہاں انھوں نے فساد پھیلایا، قتل وغارت گری کا بازار گرم کیا ، وہاں کے مسلمان (اہل السنۃ) باسیوں کی اکثریت کو جلاوطن کیا جن میں خاص طور پر علماء ، ادباء اور فضلاء شامل تھے ۔ اہل السنۃ مسلمانوں اور ان سے وابستہ تمام علامات کے خلاف کبھی نہ ختم ہونے والی ہمہ گیر جنگ کا اعلان کیا ۔کتب اور مکتبہ خانوں کا خاتمہ اس ہولناک جنگ کا ایک حصہ تھا۔ جبکہ ان کی حکومت میں باقی ماندہ اہل السنہ کے مقدر میں مختلف قسم کی سزائیں ، ظلم وستم برداشت کرنا اور اپنی شناخت کی گمشدگی لکھ دی گئی تھی ۔صفوی مملکت کے قیام سے اثناء عشری شیعہ اپنی تاریخ میں پہلی بار تقیہ سے باہر نکلے اور اس کے نتیجے میں مشرق اسلامی میں وسیع پیمانے پر ہولناک اضطرابات پیدا ہوئے جن میں یمن بھی شامل تھا جہاں صفوی مملکت کے عروج کے ساتھ زیدی شیعوں کا ستارہ اس انداز میں چمکا جس کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی ، اور انھوں نے تہامہ اور یمن کے نچلے علاقوں میں اہل السنۃ کے خلاف کبھی نہ تھمنے والی جنگ چھیڑ دی ۔

اسی طرح مملکت عثمانیہ کو صفویوں کی جانب سے خوفناک ترین سازشوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا انجام انتہائی خطرناک تھا کیونکہ یہ پھٹاؤ باہر سے نہیں بلکہ بالکل ان کے اندر سے رونما ہوا تھا۔ ان سازشوں میں سب سے شدید1511ء میں " شاہ قولوا " یعنی عبدالشاہ کا فتنہ تھا ۔ جسے عثمانیوں نے "شیطان قولوا" یعنی عبدالشیطان کا نام دے رکھا تھا۔
جس کی وجہ سے مملکت عثمانیہ کے سلاطین کو مجبورا یورپ کی فتوحات کے بہت سے منصوبوں ، عزائم اور اقدامات کو وقتی طور پر روک کر اپنی توجہ داخلی خطرات اور چیلنجز کی جانب مرکوز کرنا پڑی، جو کہ صفویوں کا خطرہ تھا۔ اسی طرح انھیں پیش قدمی کر کے شام ، مصر اور حجاز کو اپنی مملکت میں شامل کرکے مملکت ممالیک کا خاتمہ کرنا پڑا جو کہ اس وقت بالکل بڑھاپے کے دور سے گزر رہی تھی جس کے نتیجے میں جنوبی پانیوں میں پرتگالی خطرے کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھی ۔ اسی طرح اس کے حکام حملہ آورصفوی شیعی خطرے سے بھی غافل تھے ۔ بلکہ ممالیک تو حج کے راستے کی بھی بدوؤں سے حفاظت کرنے سے غافل تھے ۔
مسلمان پیشقدمی کرتے ہیں…! اس کے باوجود کہ مسلمان اندلس کھو چکے تھے، مشرق میں شکست کھا چکے ، کچھ مقاما ت ہاتھ سے نکل چکے تھے ، لیکن کامیابی کی جانب گامزن تھے۔

خوں ریز جنگیں لڑ کر، جسم وجاں کی قربانیاں دے کر ، بر وبحر میں فیصلہ کن معرکے لڑ کر ، صلیبی روسیوں کے خطرے کے سامنے رکاوٹ بن کر ، روس کو یورپ کی جانب پیشقدمی کرنے پر مجبور کر کے ، اس صدی میں فتوحات جاری رکھے ہوئے تھے ، سولہویں صدی میں ۔ بہت سے دوسرے محاذوں پر پیش قدمی کر رہے تھے ، اسلام بڑی تیزی سے دشمنوں کو حواس باختہ کرتے ہوئے پھیل رہا تھا، اور نئی اقوام اس میں داخل ہورہی تھیں۔
• عثمانی بلقان میں پھیلتے جا رہے تھے ، مشرقی یورپ میں پیشقدمی کر رہے تھے ، ہنگری کے مختلف علاقوں اور بحر اسود میں اپنا تسلط بڑھا رہے تھے ، آسٹریا کے دارلحکومت ویانا کا محاصرہ کر رہے تھے ، بحرمتوسط کو بحیرہ اسلامی میں بدل کر رکھ دیا تھا ، یہی حال بحر اسود اور بحیرہ احمر کا تھا ۔ بلکہ بحیرہ احمر میں غیر ملکی جہاز رانی ( مسیحی جہازرانی ) بند کر رکھی تھی کیونکہ حرمین شریفین اسی بحیرہ پر واقع تھے ۔
• ازبک مسلمان دریائے جیحون عبور کر کے وسطی ایشیاء میں پیشقدمی کر رہے تھے ، اور اس علاقے کے قبائل میں اسلام پھیلا رہے تھے (1507-1515ء)
• تاتاری مسلمان جنوبی ہندوستان کی جانب نکل کر (1526ء) وہاں کی مسلم دشمن ، پرتگالیوں کی حلیف ہندو مملکت کو جنگ میں شکست دے کر ان کا خاتمہ کر کے اس کے کھنڈرات پر ایک وسیع و عریض اسلامی مملکت کی بنیاد رکھ رہے تھے ۔ جس کے تحت اسلامی ہند اپنی خوشحالی اور ثقافتی وسیاسی ترقی میں عروج کو پہنچا۔

• عرب اور افریقی مسلمان مشرقی افریقہ میں پیش قدمی کرتے ہوئے حبشہ کی نصرانی مملکت کے بہت سے علاقوں تک پھیل گئے۔ یہاں تک کہ یہ نصرانی مملکت ان کے قدموں اور گھوڑوں کی ٹاپوں تلے ا پنے آخری سانس لے رہی تھی ، اس دورانئے میں اہل حبشہ کی صفوں میں وسیع پیمانے پر اسلام کی تحریک پھیلی ۔
• افریقا کے جنوبی صحرا میں بھی مسلمان پیشقدمی کر رہے تھے اور اسلام بڑے پیمانے پر پھیل رہا تھا۔ مراکش میں مملکت السعدیہ قائم ہو چکی تھی ، اسی طرح ٹمبکٹو اور بورنو میں تاجروں اور اسلامی ممالک کے داعیوں کی جانب سے اسلام اس علاقے میں پھیلتا جا رہا تھا۔
جزیرہ جاوہ ( حالیہ انڈونیشیا ک سب سے بڑا جزیرہ ) میں مسلمان ساحلی شہروں کا اتحاد قائم کررہے تھے تاکہ اندر ہندو مملکت کا خاتمہ کیا جا سکے ۔
اہم ترین یہ کہ یہ تمام واقعات اس جانب اشارہ کرتے تھے کہ کرہ ارضی میں آنے والے وقت میں سیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو گی، کسی قسم کا اشارہ بھی یہ نہیں بتار ہا تھا کہ تہذیب اسلامی پس قدمی اختیار کر رہی ہے ، جبکہ اس دوران مغربی یورپ کے ممالک اندھیروں اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے ، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے باہمی جھگڑے انھیں اندر سے بری طرح توڑ رہے تھے اور ان حالات کہ پیش نظر بالکل بھی یہ نہیں کہا سکتا تھ کہ یورپ اپنے عروج کی جانب گامزن ہے ۔

صفویوں کا بڑھتا ہوا خطرہ اور اس کے نتائج : جالدیران کی فیصلہ کن جنگ کے باوجود (1514ء ) جس نے صفوی مملکت کی کمر توڑ کر رکھ دی ، اسی طرح سلطان سلیمان کی صفویوں کے خلاف تین بڑی مہمات جس کے نتیجے میں 1534ء میں بغداد آزاد ہوا، آذربائیجان واپس لیا گیا ، صفویوں کا خطرہ بدستور قائم تھا۔بلکہ 16ویں صدی کے اختتام اور 17 ویں صدی کے نصف اول میں یہ خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ یہ شاہ عباس اول کا دور حکومت تھا جو صفوی بادشاہوں میں سب سے طاقتور ، مسلمانوں کے خلاف کینہ بغض اور تعصب میں سب سے سخت تھا ، اس کے دور حکومت میں صفوی مملکت اپنی عروج کو پہنچ گئی ، اور بغداد پر دوبارہ قبضہ کیا وہاں کے باسیوں پر ویسے ہی گھناؤنے ظلم ڈھائے جیسا کہ اس کے اسلاف نے اس سے قبل کئے تھے ۔
شیعیت میں ان بدعات کا اضافہ کیا گیاجو اس سے پہلے معروف نہ تھیں ، اس کے زمانے میں مملکت عثمانیہ کے خلاف صفوی اور صلیبی اتحاد اپنے عروج کو پہنچا۔ اس شاہ نے ایک چالاک اور ہوشیار انگریز سر انتھونی چارلی کو جو اس کا مشیر تھا پوپ اور شاہان یورپ جرمنی ، انگلستان ، اسپین اورفرانس اور پولونیا کی جانب سفیر بنا کر بھیجا اور انھیں عثمانیوں کے خلاف تحریض دی ۔ اورانھیں تجویز دی کہ عثمانیوں کے خلاف باہم مل کر ایک سیاسی اور عسکری اتحاد قائم کیا جائے ۔

تاکہ ان کی مملکت کے ستونوں کو جو کہ کمزوری کی حالت سے گزر رہی تھی اندر سے کھوکھلا کر منہدم کیا جائے۔ اس منصوبے کو پوپ اور شاہان یورپ کی جانب سے بہت سراہا گیا ۔ اسی طرح ایران 16 ویں صدی میں عالم اسلام میں شیعوں کے دفاع کیلئے بہت سی شورشیں بپا کر تا تھا ۔ اور ہمیشہ عثمانیوں کے خلاف حالت جنگ میں رہا ۔ یہاں تک کہ 17 ویں صدی کے پہلے نصف میں عثمانیوں اورخاندان ہیبسبرگ نے ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر لی تاکہ اپنے گھروں میں زنادقہ (پروٹسٹنٹ اور شیعہ) کے خلاف جنگ کر سکیں۔ عثمانیوں کی صفویوں کے ساتھ صلح 1639 ء میں ہی جا کر ہو سکی یعنی سلطان مراد چہارم کی بغداد آزاد کروانے کے ایک سال بعد ۔ اور یہ صلح بھی ایک صدی سے زائد عرصہ تک کی خون ریز جنگوں اور صفوی سازشوں اور خفیہ چالوں کے بعد منعقد ہو سکی۔ اس کے باوجود ان جنگوں اور جھگڑوں کا خاتمہ نہ ہو سکا بلکہ یہ کشمکش جاری رہی ۔ اور 17 ویں صدی اور 18 ویں صدی کے دوران یہ مرکزی مسئلہ تھا ۔ جبکہ اس دوران یورپ میں دینی کشمکش ثانوی معاملہ بن چکی تھی۔ یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ مجبورا عثمانیوں کو1746ء میں معاہدہ قصر شیرین دوم کر کے مشرق میں صفویوں کیلئے بہت سے حقوق سے دستبردار ہونا پڑا تاکہ روسی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے فارغ ہو سکیں جو اس صدی میں ایک بار پھر بڑا خطرہ بن کر جھپٹنے کیلئے پر تول رہا تھا۔

عثمانیوں اور صفویوں کے درمیان اس طویل اور شدید کشمکش کے نتائج یہ نکلے کہ روسی صلیبیوں کا خطرہ پہلے سے کہیں بڑھ کر ایک بار پھر سر اٹھانے لگا۔
بالخصوص جب روسیوں نے سائبیریا تک اپنا تسلط جما لیا جس پر پہلے مسلمان حاکم تھے ۔ اسی طرح انھوں نے اوکرائن واپس لے لیا ، اور پطرس اعظم نے بالٹک ریاستوں کے کچھ حصوں (لیٹونیا اور اسٹونیا) پر قبضہ جما لیا ۔ یہ کشمکش عثمانیوں کی ان کے ساتھ 1774ء معاہدہ کوچک کناری کے بعد ختم ہوئی جس کے نتیجے میں عثمانیوں نے روس کو بحرا سود میں قدم جمانے کی اجازت دی ۔ دوسری جانب اس کشمکش نے مغربی یورپ کے ممالک کو جنہیں عثمانی فتح کرنے کے بالکل قریب تھے دوبارہ سے اٹھنے اور اپنی قوت مجمتع کرنے ، جدید اور پیچیدہ عسکری ٹیکنالوجی(بالخصوص بحری معاملات میں) حاصل کرنے کا موقع مل گیا ، ان کے سامنے سمندروں اور بحیروں میں قدم جمانے کیلئے میدان خالی مل گیا۔ اور پھر انھوں نے مسلمانوں کے خلاف بالعموم اور عثمانیوں کے خلاف بالخصوص قدم اٹھائے جس کے نتیجے میں وہ اسلامی علاقوں اور زمینوں کو فتح کرتے چلے گئے ۔ قزلباش ایک آسمانی تحفہ تھے جو یورپ کیلئے عثمانیوں کے ہاتھوں سقوط سے نجات کا سبب بنے ۔

عالم اسلامی کے مرتبے کی پستی : مورخین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ 1699ء وہ سال ہے جس میں معاہدہ کارلووٹز (Treaty of Karlowitz) طے پایا جس کے نتیجے میں عثمانیوں نے ہنگری آسٹریا کے حوالے کیا یہ ویانا کے دوسرے محاصرے 1638ء کی ناکامی کے بعد کی بات ہے ۔
اس محاصرے کے بعد ( جس نے یورپین میں دہشت اور خوف طاری کئے رکھا ) طاقت کے پلڑوں میں حقیقی انقلاب کا آغاز ہوا او ر یہ پلڑا مغربی یورپ کی نوخیز قوتوں کے حق میں جھک گیا ۔ بالخصوص ہالینڈ، انگلستان اور فرانس۔ جبکہ اس دوران پرتگال ایمپائر کا سورج غروب ہو چکا تھا اور ہسپانوی سلطنت الگ تھلگ ہو چکی تھی ۔ اور مملکت عثمانیہ میں بالخصوص اور عالم اسلام میں بالعموم انحطاط و زوال کا آغاز ہو چکا تھا۔ محض عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ ثقافتی ، سیاسی معاشی اور معاشرتی میدان میں بھی ۔ اس دوران جب ایک طرف یورپینز اور روسیوں کی قوت بڑھوتری اور ترقی کی حالت میں تھی ان کے اندرونی معاملات جدت اختیار کر رہے تھے دوسری جانب عثمانیوں کی قوت ٹوٹ پھوٹ اور زوال کا شکار تھی ۔ ان کے حالات دگرگوں اور پس ماندگی کی جانب جا رہے تھے ۔ یہی صورتحال بقیہ تمام مسلمانوں کی تھی ۔کیونکہ جن وسائل ، ذرائع اور کوششوں کی قربانی عثمانیوں نے دی اور مسلمانوں نے انھیں صفوی شیعوں کے ساتھ قتال کھویا وہ تمام یورپ پر قبضہ کرنے کیلئے کافی تھیں ۔

ان سب کے نیتجے میں عسکری و انتظامی اداروں کی ضخامت بڑھ گئی اور یہ سب کوششیں اندرنی حالات کے سدھار کیلئے کیا جا رہا تھا ۔
18 ویں صدی کا نصف بھی ابھی نہیں گزرا تھا کہ یہ انحطاط اور جمود اپنی انتہاء تک جا پہنچا۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں ردعمل کے طور پر بہت سی اصلاحی تحریکیں نمودار ہوئیں جن کے اثرات بہت گہرے اور پھیلاؤ میں زیادہ وسیع اور لمبا عرصہ تک یاد رکھے جانے کے قابل تھے ۔ جن میں اہم ترین جزیرۃ العرب میں الشیخ امام مجاہد محمد بن عبدالوہاب کی توحیدی اور سلفی دعوت ہے جو بکتاشی باطنی محمد علی والی مصر کی اپنے خلاف شدید جنگ اور اسے اس کے آغاز میں ہی ختم کر دینے کی کوشش کے باوجود ، عالم اسلام کے طول وعرض میں پھیلتی چلی گئی ۔ اور یہ دعوت موجودوہ حالات میں مسلمانوں کی بیداری کے اہم ترین عوامل ، ان کی شناخت کی حفاظت اور حملہ آور دشمن کے خلاف مزاحمت ، اور اپنے خلاف شگاف کی کوششوں کے خلاف مضبوط اور ناقابل تسخیر ایک اہم قلعہ ہے ۔
طویل عرصے تک جاری رہنے والی عثمانی اور صفوی کشمکش نے عالم اسلام کی پسماندگی میں اہم کردار ادا کیا ۔ معاصر امریکی مورخ William McNeill شکاگو یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر اپنی مشہور کتاب The Rise of the West میں لکھتے ہیں :

دینی اور سیاسی تبدیلیوں نے شیعی صفوی انقلاب اور اعلیٰ اسلامی ثقافت پر دوررس اثرات مرتب کئے ۔ غیر رواداری کی اس صورتحال میں فارسی شعر وادب کی واپسی دوسری جانب ترکی آداب فن تعمیر اور پیشوں کا پھلنا پھولنا واضح تھا۔ جو کوئی بھی 16 ویں اور 17 ویں صدی کے اسلامی فنون پر غور وفکر کرے گا اس کیلئے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت 16 ویں صدی کے آغاز میں پیچھے کی جانب سفر کر رہی تھی ۔ عالم اسلام اپنے علاوہ دوسرے غیر یورپین ممالک کے مقابلے میں ترقی کر رہا تھا۔
اور مزید کہتا ہے کہ اس جمود کے اسباب میں سنی اور شیعی کشمکش کی اہمیت کو کم کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس نے انھیں قدیم حقیقی مفاہیم اور صیغوں کو مضبوطی سے پکڑنے پر مجبور کیا۔ جس سے مسلمان ان عناصر کو فراموش کرنے لگے جس نے یورپ کو ترقی دی ۔ اور معاشرتی ترکیب میں بھی جمود میں مدد دی ۔ کیونکہ اسلامی ممالک فوجی اور انتظامی اداروں کا تنگ میدان بن کر رہ گئے اسی طرح شہروں کے باسیوں کو ان ملازمین اور جاگیرداروں کے ماتحت کر دیا ۔ اس مورخ کا فیصلہ ہے کہ مسلمان عصر جدید کے تمام صدمات کو جھیل گئے ماسوائے صفویوں کے صدمے کے ۔