"ماں میں ڈاکٹر بن گیا " عالم خان

ہالینڈ کے مشہور مستشرق پروفیسر ڈاکٹر گیٹار ہنڈریک البرٹ جونبل [ت ۲۰۱۰] کے احادیث کے حوالے سے نظریات کا تنقیدی جائزہ لکھنے اور کامیاب ڈیفنس کے بعد الحمد للہ آج مجھے اے گریڈ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حقدار قرار دیا گیا وہی “پی ایچ ڈی” جس سے پرائمری سکول میں شناسائی ہوئی تھی اگرچہ اس وقت اس بحر بے کنار کا درست مفہوم بھی معلوم نہیں تھا پھر بھی اس بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کا خواب دیکھ رہا تھا کیونکہ بقول اقبال :

ہر اک مقــام سے آگے مـقــام ہے تیرا - حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں
عالم خان سے ڈاکٹر عالم خان تک کا سفر آسان نہیں تھا اس سفر کی حقیقت وہی جانتے ہیں جو خود تلخ حالات کی پیداوار ہیں۔
شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے - کس کی ماں نے کتنا زیور بیچــا تھـا
لیکن میں نہیں بھولا کہ میری ماں نے میرے لیے کتنی قربانی دی میرے راہوں سے کانٹے چننے کے لیے کیسے آلام سے گزری میرے برسر روزگار بھائی نے میرا ساتھ دینے سے انکار کیا لیکن میرے والدین نے کمزور گھریلو معاشی حالات کے باوجود اپنی جمع پونجی میرے ہاتھ پہ لا کر رکھی، وہی جمع پونجی جس سے میری اعلی تعلیم کا ایک سال ہی بسر ہوسکتا تھا اعزا و اقرباء اپنے ثروت کدوں میں مجھے یہی نصیحت کرتے رہے کہ اعلی تعلیم کا خواب نہ دیکھو بس نوکری ڈھونڈو اور زندگی کے محدود دائرے کا مسافر بن جاو۔
تعاون تو دور کی بات ہے کوئی قرض دینے کے لیے تیار نہیں تھا مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے کہ میرے چچا زاد پلس خالہ زاد بھائی والدہ صاحبہ کی زیارت کے لیے تشریف لے آئےاور بیٹھتے ہی اپنے دولت کے گن گانے لگے لیکن میری خود دار ماں کی میرے لیے قرض کی درخواست پہ نہ صرف انکار کردیا بلکہ بیانیہ تبدیل کرکے اپنی فریاد فقیری بھی شروع کی مجھے ان کے انکار کا دکھ نہیں تھا لیکن اپنی خود دار ماں کی لرزتی آواز اور چہرے پہ شرم کی وجہ سے مخلتف رنگوں کے ظہور سے بہت ٹوٹ گیا تھا

یہ بھی پڑھیں:   آغوش تھراپی - ابنِ فاضل

ماں کو اس حالت میں دیکھ کر مصمم عزم کرلیا کہ اب یونیورسٹی صرف میری خواہش نہیں بلکہ ماں کی مجروح عزت نفس کی تلافی بھی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم، والدین کی دعاوں اور مشفق سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر علی قوزی دشلی کی محنت سے میرے سفر کا اہم ترین سنگ میل طے ہوگیا “گزر گئی جو گزرنی تھی سخت جانوں پہ” خوشی کے اس موقع پر میں اپنے بھائی نما دوست قاری ضیاء اللہ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے میری غربت کا احساس نہیں ہونے دیا اور میرے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا تھا اسی طرح ان تمام بہی خواہوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے ساتھ اخلاص، عزت اور محبت کا تعلق رکھا اور مجھے حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا بلکہ ہر وقت حوصلہ دیتے رہیں میں ان صعوبتوں کا بھی شکر گزار ہوں جو مجھے درپیش رہیں، بقول شخصے” اچھے پائلٹ نا مہربان موسموں کی پیداوار ہوتے ہیں۔
آج میں اپنی ماں سے اردوغان کے دیس سے خوشی سے چلاتے ہوئے مخاطب ہوں کہ ماں میں نے آپ کا خواب پورا کردیا اور الحمد للّٰہ وہ دن آہی گیا جس کہ بارے میں اکثر آپ مجھے مالی حالات سے پریشان دیکھ کر پوچھتی تھیں کہ آپ کب ڈاکٹر بنو گے؟؟ آج آپ کا بیٹا ڈاکٹر بن گیا۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.