پیٹر ہوئے مہمان - افشاں نوید

بھانجے کے استاد تھے یونیورسٹی میں۔ ملنسار اور گھلنے ملنے والی شخصیت۔ وہ ان سے اکثر اپنے کلچر اور روایات کا فخریہ ذکر کرتا۔ اچانک پیٹر اپنی اھلیہ ڈیانا کے ساتھ اس رات تشریف لے آئے۔ جس کی بہت خوشی ہوئی ۔ماقبل گھر میں دو مہمان جوڑے موجود تھے ۔

دو پاکستانی نوجوان جو دفتری امور کے سلسلے میں معلومات لینے آئے ہوئے تھے۔ بھانجے کے آفس کے نئے ملازمین تھے۔ پیٹر کو بتایا گیا کہ پاکستانی خواتین لاؤنج میں موجود ہیں لہذا وہ دائیں ہاتھ پر کمرے میں چلے جائیں جہاں دو لوگ پہلے سے موجود تھے۔ خطرہ یہ تھا کہ کہیں خواتین سے مصافحہ کے لئے پیٹر قریب نہ آجائیں اس لئے دروازے پر ھدایت دے دی کہ نظریں جھکا کر لاؤنج سے گزر جائیں۔ وہ کچھ ایسے سہمے کہ دیوار کی جانب منہ اور خواتین کی جان پیٹھ کرکے قدم کے برابر قدم رکھتے ہوئے بیڈ روم میں داخل ہوئے۔ وہ کوئی سٹنگ ارینجمنٹ نہ پاکر حیران وپریشان ہوئے کیونکہ انکی تہذیب میں مہمان آلتی پالتی مار یوں بستروں پر براجمان نہ ہوتے ہونگے۔
کچھ جھجکتے ہوئے جوتے اتار کر وہ بیڈ پر اکڑوں بیٹھ گئے۔ بھانجے کے بقول میں نے انھیں بمشکل ریلیکس کیا مگر اس غیر شائستہ میزبانی کے اثرات ان کے چہرے پر چھپ نہ سکے۔
تھوڑی دیر میں کھانا بن کر آگیا جو ہمسائی بنا کر دیتی ہیں جن کی کیٹرنگ سروس ہے۔ شومئ قسمت کہ آج کے دن بریانی کی مرچیں کچھ حد سے تجاوز کرگئیں ۔
ماقبل جب بھانجے نے کھانا لانے کا ذکر کیا تو ایک نوجوان نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا اخبار بیڈ پر بچھا لیا۔پیٹر بہت مرعوب ہوئے کہ کیسی عظیم قوم ہے جو کھانے سے قبل مطالعہ کرتی ہے۔

بہت انہماک سے اس سرگرمی کو انھوں نے دیکھا۔ مگر جب۔۔۔۔۔۔اس اخبار پر پلیٹیں رکھی گئیں تو انکو ایک جھرجھری سی آئی کہ یہ کیا ۔یہ تو پڑھنے کے لئے ہے۔۔مجھے پیٹر کی اس جھرجھری کا احوال بھانجے سے سنتے ہوئے اپنی قریبی عزیزہ یاد آگئیں جب میں نے کہا کہ اخبار پڑھتی نہیں تو لیتی کیوں ہیں؟ بولیں بریانی کو دم پہ لگانے اور گھر کے شیشے صاف کرنے کے لئے تو ضرورت پڑتی ہے ناں؟؟ خیر یہ پیٹر کا دیس ہے اور گھر کو ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا جس میں انکا کلچر دیکھنے کا تجسس ہر آن پورا ہو رہا تھا۔ پیٹر نے پلیٹ کا چمچہ اٹھاتے ہوئے دھیمے سے کہا کہ اس چاول (بریانی) اور کری (قورمہ) کی خوشبو انتہائی تیز ہے۔۔ گمان تو یہی ہے کہ انھیں پسند نہ آئیں وہ اشتہا انگیز خوشبوئیں جن پر ہم جان وارتے ہیں۔چار چمچہ بریانی کھانے کے بعد انکی ناک اور آنکھیں گواہی دے رہی تھیں کہ ان مصالحوں کے انکی طبع نازک پر کیا اثرات ہوئے ہیں ۔ وہ جو مچھلی اور مرغی کو فرائنگ پین پر الٹ پلٹ کر اسٹیم روسٹ کا نام دیکر پلیٹ بھر سلاد اور پنیز کے ساتھ کھاتے ہوں انکو اپنے کھانوں کی تاریخ اور فلسفہ سمجھانا کتنا مشکل۔۔۔ انھوں نے تکہ کے ذائقہ پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔
چونکہ بستر پر ٹیبل تو نہ لگ سکتی تھی لہذا سب کو پلیٹیں بنا کر دے دی گئ تھیں ۔

نوجوان نے جو دیکھا کہ تکہ انکو پسند آیا ہے اور انکی پلیٹ میں ختم ہوگیا لہذا جھٹ اس نے پلیز کہہ کر اپنی پلیٹ کا تکہ ان کی پلیٹ میں ڈال دیا ۔ انھیں اس غیر متوقع حرکت پر جھٹکا لگا انھوں نے نظر بھر کر نوجوان کو دیکھا اور تھینکس کہتے ہوئے پلیٹ کے ایک طرف سرکا دیا جہاں بریانی کے دو بڑے آلو پہلے ہی مسترد کئے جانے پر آزدہ خاطر تھے ۔ نوجوان نے پوچھا آپ کو آلو پسند نہیں۔۔۔نفی میں جواب پاکر اس نے وہ آلو ان کی پلیٹ سے اپنی میں منتقل کر لیا۔یہ "ثقافتی مظاہرہ" پیٹر کو ایک اور جھٹکا دے گیا ۔انھوں نے سینے کی جانب اشارہ کیا کہ وہ ایزی محسوس نہیں کررھے پھر کانٹے سے سلاد کھانے میں ہی عافیت جانی۔
یوں تو کوک ہر گھر کی ضرورت بن چکی ہے۔ لیکن چونکہ آج دن تھا ثقافت کے مظاہرے کا لہذا سوچا گیا کہ کوک کے بجائے لسی پیش کی جائے۔ بھانجے کو (جو دیار غیر میں اس کچن کا تنہا وارث ہے) دہی نظر نہ آیا لہذا اس نے دودھ میں روح افزا ڈال دی۔ ساتھ میں شیشی میں رکھا تخم بالنگا بھی چٹکی بھر ڈال دیا۔ پاکستانی نوجوانان نے اس مشروب کا لطف اٹھایا مگر پیٹر کو گلابی مشروب پر سیاہ تیرتے ہوئے دانے دیکھ کر پھر جھرجھری آگئ۔ ادھر ڈیانا کا تحیر قابل دید کہ ان خواتین نے گھر کے اندر بھی حجاب کیوں لیا ہواہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ پیٹر کو ان کے ساتھ کیوں نہیں بٹھایا گیا۔

یقینا ان کے خیال میں یہ ادأب میزبانی کے خلاف تھا۔الغرض مسٹرومسز پیٹر اس ثقافتی مشروب کو دل سے قبول نہ کرسکے۔ اور ہاں ہوں کرتے ہوئے اپنے چٹے ہاتھوں سے وہ ڈرنک انھوں نے واپس میز پر رکھ دیا۔ اب کسی مسلمان گھرانے میں انکے ثقافتی مشروبات کی تو گنجائش نہیں بن سکتی۔۔
بعد ازاں سب ہاتھ دھونے واش روم گئے تو کموڈ کے گرد لوٹا دیکھ کر پیٹر ٹھٹک گئے۔۔بہت تجسس سے سوال کیا کہ۔۔۔۔گارڈننگ کا جگ آپ نے یہاں کیوں دہرا ہوا ہے؟؟ کچھ باتیں ان کہی ہی بھلی!! چائے پیتے ہوئے غلطی سے نوجوان نے کپ میں پھونک مار دی ۔اب کہ پیٹر نے صرف جھرجھری لینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ احتجاج کیا کہ چائے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کیوں شامل کی؟؟
سب باتیں دل کی کہ دیں اگر پھر باقی کیا رہ جائے گا۔۔۔وقت رخصت پیٹر ( کمرے کے ایک ثقافتی مظاہرے سے لطف اندوز ہونے کے بعد) برآمد ہوئے۔ وہ خواتین جن کی طرف سے پیٹھ کرکے وہ کمرے میں گئے تھے وقت رخصت انھوں نے الواداعی مصافحہ کے لئے ان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔اب کہ جھرجھری لینے کی باری خواتین کی تھی۔ جوابا دوسری جانب سے بڑھا ہوا ہاتھ نہ پاکر وہ کچھ کھسیانے سے ہوگئے۔اور کئی بار شکریہ ادا کر کے گھر سے رخصت ہوئے۔
گھر جاکر رسمی شکریہ کا پیغام بھیجتے ہوئے انھوں نے لکھا۔۔۔آپ کی "یونیک" ثقافت کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا۔۔۔ایک بار پھر شکریہ

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.