. افریقی ملک ایتھوپیا کی فوج کے سربراہ جنرل سيارا میکنن کو دارالحکومت ادیس ابابا میں ان کے باڈی گارڈ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابئ احمد نے اعلان کیا ہے کہ جنرل میکنن اور ان کے ساتھی ملک کے شمالی علاقے امھارہ میں ایک فوجی بغاوت کو کچلتے ہوئے ہلاک ہوگئے ہیں۔ امھارہ کے گورنر أمباتشو میکنن کو بھی امھارہ میں ہی ان کے مشیر سمیت باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

تاہم حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کئی افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جس کے بعد حالات قابو میں ہیں۔یتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابئ احمد نے اعلان کیا ہے کہ جنرل میکنن اور ان کے ساتھی ملک کے شمالی علاقے امھارہ میں ایک فوجی بغاوت کو کچلتے ہوئے ہلاک ہوگئے ہیں۔ امھارہ کے گورنر أمباتشو میکنن کو بھی امھارہ میں ہی ان کے مشیر سمیت باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

تاہم حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کئی افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جس کے بعد حالات قابو میں ہیں۔

وزیرِ اعظم احمد نے ٹیلی ویژن پر فوجی وردی میں ملبوس ہو کر خطاب کیا اور عوام کو حالات کے بارے میں آگاہی دی ہے۔ انھوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ’شیطانی‘ طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں جو ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔

امریکی حکومت نے ادیس ابابا میں اپنے سفارتی عملے کو اپنی رہائش گاہوں میں ہی رہنے کی ہدایت دی ہے۔

امھارا سمیت ایتھوپیا کے متعدد علاقوں میں نسلی بنیاد پر تشدد نے سیاسی تقسیم پیدا کردی ہے۔

ایتھوپیا کی حکومت کی ترجمان نے کہا ہے کہ فوجی بغاوت پر قابو پا لیا گیا ہے
گذشتہ برس انتخابات میں کامیابی کے بعد ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابئ احمد نے سیاسی گھٹن کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ جن میں سیاسی کارکنوں کو رہا کرنا، سیاسی جماعتوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں پر فوجداری مقدمات قائم کرنا شامل ہیں۔

ایتھوپیا براعظم افریقہ کا سب سے پرانا آزاد ملک اور آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ تقریباً 80 مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں آباد ہیں۔

ایتھوپیا کو تاریخی طور پر حبشہ بھی کہا جاتا ہے۔

مشرق و مغرب کے درمیان طویل پرواز کرنے والے ہوائی جہاز ادیس ابابا میں کچھ دیر کے لیے قیام کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اس ملک کا شمار دنیا کی تیز اقتصادی ترقی کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ تاہم اس ملک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے۔

ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم کے پریس آفس کا کہنا ہے کہ جنرل سیارا میکنن کو سنیچر کی شام کو ان کے ساتھی جنرل جزائی ابیرہ سمیت ان کی سرکاری رہائش گاہ میں ان کے باڈی گارڈ نے گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ باڈی گارڈ کو وفادار فوجیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔

حکومت نے ادیس ابابا میں فوج کے سربراہ کی ہلاکت اور اس سے چند گھنٹے قبل امھارہ کے دارلخلافہ باہردار میں گورنر کی ہلاکت کے واقعے کو ایک ملکی سازش قرار دیا ہے۔

امھارہ کے گورنر أمباتشو کو ان کے دفتر میں اپنے مشیر إيزی واسی کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ اس حملے میں امھارہ کے اٹارنی جنرل زخمی ہوئے ہیں۔
لیک ایالیو کو امھارہ کا نیا گورنر نامزد کر دیا گیا ہے۔

ادیس ابابا میں وزیرِ اعظم کے دفتر سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امھارہ کے مقامی سیکیورٹی کے سربراہ جنرل أسامينو تسيج نے ملک میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے یا نہیں۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بغاوت کرنے والے کئی افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقیوں کی تلاش جاری ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امھارہ میں بغاوت آئین کی خلاف ورزی تھی جس کا مقصد بڑی جدوجہد کے بعد حاصل کیے گئے علاقائی امن کو تباہ کرنا تھا۔‘

’پوری ایتھوپین عوام اس بغاوت کی بھر پور مذمت کرے اور وفاقی حکومت کے پاس اس بغاوت کو کچلنے کی پوری طاقت ہے۔‘

ادیس ابابا کے مئیر تکیلا اما کا کہنا ہے کہ جلد ہی حالات معمول پر آجائیں گے اور کل سے تمام دفاتر کھول دیے جائیں گے۔

’دارالحکومت میں سیکیورٹی فورسز حالات کو قابو میں رکھیں گے۔‘
بغاوت کرنے والے کون ہیں؟
جنرل أسامينو تسيج ان اعلیٰ فوجی عہدیداروں میں سے ایک ہیں جنھیں منتخب حکومت نے سیاسی اصلاحات کے عمل کے دوران قید سے رہا کیا تھا۔ ان کو پچھلی حکومت نے قیدی بنا رکھا تھا اور انھیں عوامی مطالبے کی وجہ سے رہا کیا گیا تھا۔

جنرل أسامينو تسيج پچھلی حکومت کے دور میں نو برس تک قید میں رہے۔ اس وقت بھی ان پر الزام تھا کہ انھوں نے فوجی بغاوت کی کوشش کی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امھارہ کے اعلیٰ حکام نے جرنل أسامينو تسيج کی جانب سے مقامی نسل پرست گروہ کے ارکان کی کھلے عام میلیشیا میں بھرتی پر بات چیت کرنے کے لیے ایک اجلاس طلب کیا ہوا تھا۔

جنرل أسامينو تسيج نے امھارہ کے عوام کو یہ تجویز دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو مسلح کریں۔ یہ تجویز انھوں نے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں دی تھی جسے روئٹرز کے ایک رپورٹر نے خود دیکھا تھا۔

تاحال ابتک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا جنرل أسامينو تسيج کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو