تھر کے باسی - نثاراحمد

22جون 2019 کی صبح تھر کی جھلسا دینے والی گرمی میں صحرا کے بیچوں بیچ ایک پتلی سڑک پر ہمارا سفر جاری تھا۔ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد سڑک کنارے "بھکو" گاوں کا بورڈ نظر آیا تو میرے ساتھ بیٹھا الخدمت ضلع تھرپارکر کے'کلین واٹر پروگرام' کے انچارج خلیل بھائی نے بتایا کہ اس گاون میں ہمارے تین صاف پانی کے منصوبے ہیں۔ گاوں میں داخل ہوتے ہی سڑک کنارے ہاتھوں اور سروں پر مٹکے اٹھائے خواتین اور بچوں کا ہجوم نظر آیا۔

خلیل بھائی نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا ، کیونکہ میں راستے میں آنے والے الخدمت کے تمام منصوبے دیکھنا چاہتا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ الخدمت کا لگایا ہوا ہینڈ پمپ ہوگا۔ چونکہ خواتین پانی بھر رہی تھیں، میں نے وہاں جانا مناسب نہیں سمجھا۔ پانچ منٹ انتظار کے بعد جب خواتین چلی گئیں اور صرف بچے اور بچیاں رہ گئیں تو میں گاڑی سے اترا اور ان کے پاس گیا۔ اپنے موبائل سے چار تصویریں کھنچی تھیں کہ سکرین پر ایک پیغام نمودار ہوا؛ "درجہ حرارت بہت ذیادہ ہونے کی وجہ سے کیمرہ کام کرنے سے قاصر ہے۔"
ایسا میرے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا تھا۔ خیر، اتنی گرمی میں گیا بھی تو پہلی مرتبہ تھا۔ مجبورا موبائل جیب میں رکھا، اور ان بچوں کی مدد اور ہینڈ پمپ کی کارکردگی چیک کرنے کی غرض سے ہینڈل مارا تو ہینڈ پمپ کے اوپری حصے میں حرکت محسوس ہوئی۔ دیکھا تو دو نٹ ڈھیلے ہوگئے تھے۔ تاہم ہینڈ پمپ کی کارکردگی فی الحال متاثر نہیں ہوئی تھی، کیونکہ ہینڈل کے چار 'سٹروکس' کے بعد پانی نکلنا شروع ہوگیا۔ اور آٹھ سے نو سٹروکس میں 20 لیٹر کا برتن بھر گیا۔ پلیٹ فارم کا پلستر اور اس پر لگی ڈونر کی تختی دونوں ثابت تھے۔
یہ منصوبہ جنوری 2019 میں مکمل کیا گیا تھا، اور 20 گھرانوں کیلئے پانی کا واحد ذریعہ ہونے کی وجہ سے سارا دن مسلسل استعمال میں رہتا ہے۔
دن کے ساڑھے گیارہ بجے 15 منٹ کے اندر دس سے زائد خواتین اور بچوں کا پانی بھر کر لے جانا اس منصوبے کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ ایسی صورتحال میں ہینڈ پمپ کا نٹ ڈھیلا ہونا کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ لیکن اس کو چیک کرنا اور بروقت ٹھیک کرنا ضروری، اور ہمارے نگرانی کے نظام کا حصہ ہے۔ میرا وہاں جانا بھی اسی مقصد کے لئے تھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر میں نے اپنے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق اسی گاوں میں آبنوشی اور آبپاشی کیلئے لگائے گئے 'سولر سبمرسبل پمپ' دیکھنا چاہا تو مجھے وہاں لے جایا گیا۔

یہ منصوبہ 2015 میں مکمل کیا گیا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ منصوبہ بالکل ٹھیک حالت میں ہے اور گاوں کے لوگ نہ صرف پینے اور دیگر گھریلو ضروریات کیلئے وہاں سے پانی لیتے ہیں، بلکہ غریب کاشتکار اس پانی سے سبزی اگا کر اپنے لئے روزی کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ وہاں سے نکل کر اگلے گاوں میں اسی نوعیت کے ایک اور منصوبے کا دورہ کیا، اور وہاں سے بھی مطمئن ہو کر واپسی کی راہ لی۔ اس وقت میں کراچی میں موجود ہوں۔ سفر کی تھکاوٹ بھی ہے، رات کا پچھلا پہر بھی۔ لیکن دماغ ابھی تک تھر کے باسیوں کے حالات اور ان کی محرومیوں میں الجھا ہوا ہے۔ البتہ ایک بات ایسی ہے جو میرے دل کو اطمینان سے بھر دیتی ہے۔ تھر کے لق و دق صحرا میں بستے اور زندگی کی بنیادی سہولیات کو ترستے باسیوں کیلئے، جہاں پانی کی ایک ایک بوند کا مطلب زندگی ہے، الخدمت فاونڈیشن نے صاف پانی کے 1500 منصوبے مکمل کردئے ہیں، جو کہ بلا شبہ لاکھوں افراد کیلئے زندگی کی امید ہے۔ ان منصوبوں میں کمیونٹی ہینڈ پمپس اور کنووں کے علاوہ بجلی سے چلنے والے سبمرسبل پمپس، سولر سے چلنے والے سبمرسبل پمپس، آبپاشی کے منصوبے اور واٹر فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کا اتنا بڑا کارنامہ یقینا اس کے معاونین اور بے لوث کارکنان کی مرہون منت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ الخدمت کے تمام کارکنان تک یہ پیغام پہنچا دوں کہ ان کی بے لوث کاوشوں نے ایک ایسے صحرا میں پانی کی نعمت عام کردی جہاں پانی کبھی سراب میں نظر کا دھوکہ بن کر فریب دیتا تھا۔