خاشقجی قتل پر اقوام متحدہ کی رپورٹ، پس پردہ مقاصد- حبیب الرحمن

ہر حکومت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے جس سے اس کی ساکھ یا تخت و تاج کو خطرہ ہو۔ جابر حکومتیں کبھی اس بات کو گوارہ نہیں کرتیں کہ کہیں سے بھی کوئی آواز ان کی مخالفت میں بلند ہو اور بڑھتے بڑھتے وہ آواز ان کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل بن جائے۔ ایسا آج سے نہیں روز ازل سے ہی ہوتا چلا آیا ہے اور شاید تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے۔

ماضی کے اوراق پلٹتے جائیں، ہر دور کی یہی کہانی ملے گی۔ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ بڑی سے بڑی قتل و غارت گری بھی کسی حکومت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بن پاتی لیکن بعض اوقات کوئی ایک غیر اہم یا غیر مقبول سی شخصیت اتنی اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے کہ پوری شاہی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی جابر کا اپنے جبر پر بے پناہ اعتماد ہوجاتا ہے اور اس کا لہجہ بھی (نعوذباللہ) خدا بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس جیسے خود ساختہ شاہین کو ممولوں سے ہروا دیتا ہے۔ عزت اور ذلت دینا اور چھین لینا، یہ انسان کے اختیارات میں رکھا ہی نہیں گیا کیونکہ یہ بات اللہ جانتا ہے کہ کون لائق عزت ہے اور کس کے سر پر ذلت کا تاج سجایا جانا چاہیے۔

اگر تخت و تاج سے موازنہ کیا جائے تو خاشقجی کہاں اور سعودی تخت و تاج کے ورثہ و مالک کہاں لیکن یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس کو کب کس کے ہاتھوں رسوا کیا جائے۔ بات معمولی بھی ہے اور اہم بھی۔ معمولی اس اعتبار سے کہ شہنشاہی جاہ و جلال کے سامنے ایک صحافی کی کیا حیثیت اور اہم اس لئے کہ اس صحافی کو ترکی میں قائم سعودیہ کے ایک سفارت خانے میں نہ صرف قتل کردیا جاتا ہے بلکہ جرم چھپانے کے لیے اس کے جسم کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کرکے سفارت خانے سے منتقل کر کے کسی دور دراز مقام پر زمیں برد کر دیا جاتا ہے۔

سفارت خانے جس ملک کے بھی ہوتے ہیں وہ اس ملک کا گھر ہوتے ہیں گویا اپنے ہی گھر میں کسی کو ماردیا جائے اور پھر درندگی کی انتہا یہ کی جائے کہ لاش کی بے حرمتی کی جائے، اسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے اور پھر ایک مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائے بغیر اسے دفن کر دیا جائے، یہ کوئی معمولی نوعیت کا جرم نہیں۔ اسلامی شریعہ اور سعودی قوانین میں رائج جرم کرنا ایک جرم ہے لیکن جرم کرکے راہ فرار اختیار کرنا دہرا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایک جرم تو قتل ہوا لیکن پھر قتل کو چھپانا اس سے بھی سنگین جرم ہوا اور وہ بھی ترکی میں موجود سعودی سفارت خانے (اپنے گھر) میں۔ یہ یقیناً ایسا جرم ہے جس پر گرفت تو بنتی ہے البتہ اس میں حکومت وقت یا سعودی ولی عہد کتنے ذمہ دار اور قابل گرفت ہیں، یہ معاملہ ایک الگ نوعیت کا اور تحقیق طلب ہے۔ ضروری نہیں کہ امریکہ، ترکی یا اقوام متحدہ کا مؤقف، تحقیق یا فیصلہ درست اور شفافیت پر ہی مبنی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   اخوان المسلمون کی خطا کیا تھی؟ محمد عامر خاکوانی

جسارت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق اقوامِ متحدہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ودیگر سینئر سعودی عہدیداروں کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث قرار دے دیا ہے۔ خاشقجی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے تیارکی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں سعودی ولی عہد کو بھی اس قتل کے مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے قابل بھروسہ شواہد سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ سعودی اہلکار اپنی انفرادی حیثیت میں جمال خاشقجی کے قتل کے ذمے دار ہیں۔ خبر کے مطابق "انگیس کیلامارڈ" نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے میں ملنے والے قابل بھروسہ شواہد یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ ولی عہد سمیت سعودی حکام کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں مزید تحقیق ہونی چاہیے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عادل الجُبیر نے کہا کہ اس رپورٹ میں بے بنیاد الزامات اور متضاد باتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ قابلِ اعتبار نہیں ہے۔

جمال خاشقجی کا قتل، وہ بھی سعودی سفارت خانے میں، وہ بھی ترکی میں اور پھر اس جرم کو چھپانے کے لیے لاش کی بے حرمتی جیسا معاملہ بے شک تحقیق طلب سہی لیکن اس میں سعودی حکام کی اعلیٰ شخصیات پر الزام دھرنا اور ان کے گرد دائرہ تنگ کرنا شاید بہت درست نہ ہو لیکن سعودی حکومت بہر صورت جواب دہ تو ضرور ہے۔ اس واقعے کو گزرے کئی ماہ ہو چکے ہیں اور یہاں معاملہ ایسا بھی نہیں جہاں اس کی حقیقت کو جاننے کے لیے ملک کا چپہ چپہ چھاننے کی ضرورت ہو۔ ایک عمارت ہے، اس میں سعودیہ کے ہی اہل کار و ملازمین ہیں، قتل بھی عمارت میں ہوا ہے اور چھپانے والے بھی کہیں باہر کے نہیں ہیں تو اب تک ذمہ داروں کے چہروں سے نقاب الٹ دینی چاہیے تھی۔ اگر ایسا نہیں ہو پا رہا تو بات از خود "لمبے" ہاتھوں کی جانب چلی جائے گی جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا جارہا ہے، اس لئے اس معاملے کی اہمیت کو نہ صرف سمجھنے کی ضرورت بلکہ سعودی حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کو اپنے ہی سرے پر نمٹائے ورنہ اس کے معاملات باقی دنیا سے خراب بھی ہو سکتے ہیں۔

یہاں جو ایک اہم نقطہ جس کو سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پوری دنیا کا یہ معمول بن چکا ہے کہ وہ مجرموں کو پکڑا نہیں کرتی بلکہ انھیں قابو کیا کرتی ہے۔ ان کا جرم ان کے سامنے رکھ کر پیشکش کرتی ہے کہ آیا ان کو جرم کے مطابق سزا دی جائے یا پھر وہ ہر خواہش اور مطالبہ مانیں جو ان کے سامنے رکھا جائے۔ پاکستان ہو یا دنیا کے دیگر ممالک، اِن سب کی ایک ہی کہانی ہے۔ مجرموں کو قابو کرنا اور من مانی منوانا۔ اس کا کھلا ثبوت "وعدہ معاف گواہ" ہے۔ دنیا اس وقت امریکا کے پنجہ خونی کی گرفت میں ہے۔ سعودی عرب ہی کیا تقریباً تمام عرب ممالک امریکہ کے بچھائے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور اب ان کی حیثیت ایک وعدہ معاف گواہ سے زیادہ نہیں جس کو سزا تک پہنچنا ہے یا پھر جو کہا جائے مانے جانا ہے۔ سعودیہ کو دیگر ممالک کے خلاف فوج بنا کر اور اسلحہ پکڑا کر اسے اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ وہ زندگی بھر اسلحے کی خریداری سے باز رہ سکے اس لئے کہ جب بھی وہ اسلحہ خریدنے سے گریز کرے گا، وہ سارے ممالک جن سے سعودیہ بگاڑ بیٹھا ہے وہ اس پر بھوکے شیروں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے۔ دوسری جانب وہاں کی حکومت کو مزید دباؤ میں لے کر مسلسل قابو میں رکھنا بھی ایک مکروہ حکمت عملی ہے لہٰذا خاشقجی جیسے اور بھی واقعات "وعدہ معاف گواہ" کی گھیرا گھاری کے لئے مسلسل ہوتے رہیں گے جن کے پیچھے یہی فلسفہ ہوگا کہ باتیں مان رہے ہو یا سزا کو پہنچنا چاہتے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ - حامد کمال الدین

اس نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ خاشقجی کے قتل کا معاملہ خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، امریکہ یا اقوام متحدہ کا کردار کسی مملکت کو اس کے انجام تک پہنچانا نہیں بلکہ مقصد براری ہے اور سعودی عرب کے توسط سے پوری اسلامی برادری پر اپنا تسلط برقرار رکھنا ہے۔ جس طرح اقوام متحدہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے اس قسم کی رپورٹیں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ہر چند ماہ بعد ایک نئے انداز سے ایک ہی نوعیت کے معاملے کو سامنے لاتے رہنے کا مطلب "ڈومور" کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

میں تو ایک ہی بات جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جرم ضعیفی کی سزا ہی یہی ہے کہ پیسا جائے اور اتنا دبایا جائے کہ سر اٹھا کے چلنا جرم بن جائے۔ جب حالات اس نہج پر آجائیں تو ان سب سے نکلنے کا ایک ہی حل رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے ڈر اور خوف کے سارے پردے چاک کر دیئے جائیں اور اپنے آپ کا مضبوط بنایا جائے۔ بے شک اس کیلئے بہت قربانی دینی پڑتی ہے یہاں تک کہ جان کی بازی بھی ہارنی پڑسکتی ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ ہے بھی نہیں اس لئے دل کو مضبوط کیا جائے اور ذلت کی اس زندگی سے باہر نکلا جائے۔