مولانا طارق جمیل پر اعتراضات، بجا یا بے جا؟ - علی عمران

پہلے ایک واقعہ سن لیجیے! مفتی زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ایک مشہور دیوبندی عالم دین کی خدمت میں حاضری کے لیے گیا، تو انہوں نے مجھ سے منہ موڑ لیا. میں سمجھا شاید دیکھا نہیں ہوگا، اس لیے دوسری طرف سے قریب ہونے کی کوشش کی، مگر انہوں نے پھر توجہ پھیر لی. اب تو مجھے بھی خیال آیا کہ کچھ توگڑ بڑ ہے. سو میں ان کے پاس آیا. قریب بیٹھا اور عرض کی، "حضرت! اگر ناراضگی کی وجہ جان سکوں تو اس کے دور کرنے کی کوشش بھی کروں! آخر آپ کی یہ خفگی کیوں؟" انہوں نے میری طرف دیکھا، تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے، پھر غصہ میں کہنے لگے، "فلاں دن میں نے آپ کو فلاں مسلک کے فلاں عالم کے پاس دیکھا تھا. تب سے مجھے غصہ آ رہا ہے. مجھے ڈر یہ لگا کہ کہیں آپ بھی ان کی فکر سے متاثر نہ ہوجائیں!" مَیں نے عرض کیا، "آپ کی محبت کا شکریہ! لیکن مجھے آپ سے ایک سوال کا جواب مطلوب ہے." "جی پوچھیے"! میں نے عرض کیا " مجھے یہ بتائیے کہ آپ مجھے شکار سمجھتے ہیں یا شکاری؟" وہ چند لمحے ہکا بکا ہوکر مجھے دیکھتے رہے. کچھ سوچتے رہے، پھر ایک دم ہنس پڑے اور کہنے لگے "بس بس! میں سمجھ گیا.. مزید سمجھانے کی ضرورت نہیں. میرا غصہ غلط تھا."

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے بندہ ایک بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہے، تبلیغی نظم میں کام کرنے والوں میں سے ستر فیصد بریلوی مزاج یا عقیدے کے حامل رہے ہیں. یعنی اکثریت ایسے لوگوں کی رہی ہے جو کسی نہ کسی درجہ میں وہ سارے یا اکثر اعمال کرتے تھے، جو آج بریلوی بھائیوں کی پہچان بتلائے جاتے ہیں. پھر تبلیغی کام میں لگے، تو ان کاموں کا عبث ہونا بھی کھلا اور وہ آہستہ آہستہ چھوٹتے چلے گئے. مجھے اپنے پورے علاقے کا حال یاد ہے کہ کیا صورتحال تھی. پھر علماء کی کثرت اور دعوت کی عموم کی وجہ سے فضا بنی تو وہ ساری حرکات چھوٹتی چلی گئیں.

استاد محترم مولانا طارق جمیل صاحب کی زندگی شروع سے اعتراضات کی زد میں رہی ہیں. ان کے مہربان ان پر ایک زمانے سے ناوک فگنی کرتے رہے ہیں، مگر وہ ہمیشہ مسکرا کر اس سارے طنز، تشنیع اور تنقید کو جھیل جاتے ہیں. اب تازہ مسئلے میں تو یار دوستوں نے حد ہی کردی ہے. اجمیر شریف کے گدی نشین نے ان کو پگڑی کیا پہنا دی، یار دوستوں نے ایک طوفان کھڑا کر دیا، مولانا کو ان کے پاس جانا نہیں چاہیے تھا! ارے بھائی! کیوں نہیں جانا چاہیے تھا؟ کچھ احباب فرماتے ہیں جناب وہ بدعتی ہے، تو بدعتی کے پاس جانے میں کیا مسئلہ؟ کچھ احباب فرماتے ہیں انہوں نے حضرت امیر معاویہ رض کی شان میں گستاخی کی ہے؟ تو جناب مولانا تو ان کے پاس بھی جاتے رہے ہیں، ان کے ساتھ کھانا کھاتے رہے ہیں اور مولانا ہی کیا، کوئی بھی معقول آدمی اس کو رد نہیں کرسکتا.

کیا کافر کے پاس اس وجہ سے نہ جایا جائے کہ وہ کافر ہے، تو جناب کیا آپ ان کو خواب میں دعوت دیں گے؟ جب مخالطت اور مجالست ہوگی، تبھی تو بات بھی ہوگی اور اس کے سامنے تذکرہ بھی ہوگا اور تبھی تو اس کے ذہن کھلنے کی بھی امید ہے. بلا دعوت پہنچائے آپ کیا سوچ کر بیٹھے ہیں کہ وہ کس بنیاد پر آپ کی بات پر آئے گا!

مولانا اس وقت امت مسلمہ کے چوٹی کے علماء میں شمار ہوتے ہیں. ایک دنیا ان کی مداح اور شیدائی ہے. ایسے میں کچھ بابو ٹائپ مولوی حضرات جن کے ابھی دودھ کے دانٹ بھی نہیں ٹوٹے، ان کو لگام دینے کی بات کر رہے ہیں. اور حماقت کی حد دیکھیے کہ مدعو یعنی ان صاحبزادہ کی فکر کو مولانا پر تھوپ رہے ہیں. یعنی کل میں کسی ہندو کو دعوت دینے جاؤں گا، تو کیا آپ میرے اوپر ہندو ہونے کا لزام تھوپو گے!

کئی سارے مولوی نما ان بچوں کو دیکھا جن کی والز عشق، معشوقی اور خرافات سے بھری ہوئی ہے، وہ بھی مولانا کے بارے میں لاف زنی کررہے ہیں، خیر ایسوں کو تو کیا سمجھانا اور کیا منہ لگانا، تاہم کچھ سمجھدار دوست بھی جب یہی کچھ کرنے لگے تو ان کی خدمت میں عرض کرنا تو بنتا ہی ہے.

تبلیغی کام سے جڑا ہر شخص ایک بات پر یقین رکھتا ہے کہ جب تک مدعو یہ یقین نہ کر لے کہ آپ اس کے ہمدرد ہیں، وہ آپ کی بات نہیں لے گا. اس لئے اس تبلیغی کام کی بنیاد محبت اور احترام کے جذبے پر ہے. یہاں پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر مسلمان کلمہ گو کے پاس سب سے بڑا جوہر اس کا کلمہ ہے. جو اس کی ساری خطاؤں پر بھاری ہے اور اس وجہ سے وہ ادب، احترام اور عزت کے لائق ہے، چاہے وہ عقیدہ کے اعتبار سے بریلوی ہو دیوبندی ہو، اہل حدیث ہو یا چاہے شیعہ ہو.

مولانا الیاس رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ آج تو ہم مسلمان کے سامنے اس کے ایمان کی وجہ سے جھکنا سیکھا ہی نہیں. (اسی وجہ سے تو اللہ ہمیں کفار کے سامنے جھکا رہے). مولانا محمد اسماعیل رحمہ اللہ کا واقعہ مولانا الیاس رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ ایک مرتبہ وہ کم ذات لوگوں کے پاس دعوت دینے گئے تو لوگوں نے ان کے بزرگوں کو شکایت پہنچائی کہ مولوی اسماعیل علماء کی شان گھٹا رہا ہے. کمی کمینوں کے پاس جاکر بیٹھ رہا ہے. جب مولوی صاحب کو یہ بات بتائی گئی تو ہ رو پڑے اور فرمایا، "ہائے میرے نبی تو ابوجہل جیسے لعین کے پاس جانے میں بےعزتی محسوس نہ کرے اور میری عزت کسی کلمہ گو کے پاس جانے سے خراب ہوگی! انا للہ. "

سعید انور، شاہد افریدی، جنید جمشید جیسے کتنے ہی کرکٹرز، دنیادار افراد اور شوبز سے تعلق رکھنے والے بیسیوں افراد ...ان میں سے ہر ایک کے پاس مولانا کتنی کتنی بار گئے. ان کو محبت دی، توجہ دی، ان کے اسلام اورایمان کا ادب کیا، احترام کیا، تبھی تو وہ پلٹے. کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے کسی رسمی تعارف سے کوئی بندہ اپنا عقیدہ ترک کرکے آپ کا عقیدہ اختیار کرے گا. اگر کوئی ایسا سمجھتاہے، تو وہ پاگلوں کی دنیا کا باسی ہے. اسے چاہیے کہ وہیں رہے. اس لئے عرض ہے کہ آپ احباب اپنا کام کریں اور مولانا کو اپنا کام کرنے دیں. کل ان شاءاللہ خداوند کے دربار سے آپ سے مولانا کی ان ملاقاتوں کے بارے میں قطعاً کوئی سوال نہیں کیا جائے گا. اس کا جو بھی ثواب یا عقاب ہوگا، وہی اٹھائیں گے!

اس وقت تبیلغی احباب ہی ہیں جو اقدام کرتے ہوئے امت کے ہر طبقے میں جارہےہیں ورنہ تو ساری امت اپنے اپنے خولوں میں بند ہوئے بیٹھی ہے. دوسروں کو نہ چھیڑو کی فکر سے وابستہ حضرات "کسی کو بھی نہ چھوڑو " والی عالی فکر کو کیق سمجھیں گے! چاہیئے تو یہ تھا کہ ان کی ہمت بندھائی جاتی، یہاں تو مگر طنز وتشنع کے تیر ہیں اور لوہے کے لگام ہیں، جو ان کے گلے میں ڈالے جارہے ہیں. لاحول ولا قوۃ باللہ.

اور اگلی بات بھی سمجھ لیجئے. میں بھی اور ہر دعوت سے متعلق فرد فکراً دیوبندی ضرور ہیں، مگر جہاں تک جڑنے، ملنے اور جوڑنے کی بات ہوگی، تو ہم سب کے ہیں اور سب ہمارے ہیں. کیونکہ امت میں صرف دیوبندی نہیں. باقی مسالک کے بھائی بھی ہیں. میری اور ہماری نظر میں وہ بھی اسی محبت، ادب اور احترام کے حقدار ہیں، جس کا کوئی دیوبندی حقدار ہے.ان کے عوام دیوبندی عوام جیسی محبت اور احترام کے، ان کے علماء دیوبندی علماء جیسی محبت اور احترام کے اور ان کے مشائخ دیوبندی مشائخ جتنی محبت اور احترام کے حقدار ہیں، کیونکہ صفت ایمان میں سب برابر ہیں. واللہ کہ میرے دل کا یہی حال ہے تو میرے استاد جن کی پوری زندگی امت کے پیچھے بھاگتے گذری ہے، ان کا کیا حال ہوگا؟

سو براہ کرم ہلچل نہ مچائیں. اگر بات سمجھنی ہو تو آئیے، ہم بیٹھے ہیں اور اگر محض بازار گرم کرنا ہو، تو پھر یاد رکھیے، "کہ جو کسی مسلمان کی عزت کھولتا ہے، اللہ تعالٰی اس کی عزت کو کھول دیتے ہیں، یہاں تک کہ گھر میں بیٹھے بیٹھے اس کو رسوا کردیتے ہیں." ایسے دوست ڈریں اس بات سے کہ ان کی عزتیں گھر بیٹھے بیٹھے کھل جائیں اور رسوائی ان کا مقدر ہو.
وما ذالک علی اللہ بعزیز!

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.