نقل اور مستقبل کے معمار - قیم مصری

چند دن پہلے نویں اور دسویں کے امتحانات میں ہمارے ہونہار طلبہ نے نقل اور دھوکے بازی کے میدان میں جو کارہائے نمایاں سر انجام دیے ان سے ہم سب ہی باخوبی واقف ہیں کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر سال ہی ایسا ہوتا ہے۔ دھوکے بازی تو ہمارے روزمرہ کے معاملات اور معمولات کا حصہ ہے۔ نقل اور دھوکے بازی کی وجوہات جو بھی ہوں ،یہ ہمارے نوجوانوں کی کمزور اور پست شخصیت کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔ یہ بات تو شاید ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی طلبہ کی بہترین اسلامی اور انسانی خطوط پر تر بیت اور شخصیت سازی میں نا کام رہے ہیں۔

ان اداروں نے ڈگری بردار نوجوانوں کا ایک ریوڑ تو ضرور پیدا کردیا ہے مگر ایک رہنما ، ایک رہبر پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک رہنما یا رہبر کی چیدہ چیدہ خصوصیات پر نگاہ ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ ایک مستعد، ایماندار اور بے لوث شخص ہوتا ہے۔اس کے برعکس مستقبل کے معمار ہمارے طلبہ سستی و کاہلی، بے ایمانی اور خود غرضی سے بھرے ہوئے ہیں۔ خود غرضی طلبہ میں کیسے پیدا ہوئی؟ اس کی ایک وجہ تو مقابلے بازی اور وہ موازنہ ہے جو کبھی والدین تو کبھی اساتذہ ایک طالب علم کا دوسرے طالب علم کے ساتھ کرتے ہیں اور دوسری وجہ ڈگری کا حصول ہے۔ان دونوں ہی صورتوں میں طلبہ پر ذہنی دباو ¿ پیدا ہوتا ہے۔بعض طلبہ اس دباو پر قابو پاتے ہوئے کامیاب ہوجاتے ہیں اور بعض اپنی صلا حیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ایسے میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا انتخاب ہی غلط ہوتا ہے۔وہ اس شعبے کے لئے بنے ہی نہیں ہوتے جس کا وہ انتخاب کر بیٹھتے ہیں۔اب یہاں دلچسپی اور رجحان کے فقدان میں وہ اپنی صلاحیتوں کو سمجھ پاتے ہیں نہ بروئے کار لا پاتے ہیں۔ اس تیسری صورتحال کا ادراک اساتذہ کو ہوتا ہے نہ والدین کو کیونکہ ہمارے یہاں کیرئیر کاونسلنگ (career counselling ) کا رواج ہے ، نہ بچے کی رجحان کو سمجھنے کا شوق۔

جس طرح سے ہم یہ طے کرتے ہیں یہ فلاں کی بہو بنے گی اور یہ فلاں کا داماد بالکل اسی طرح یہ طے کیا جاتا ہے کہ یہ ڈاکٹر بنے گی اور یہ انجینئر۔ اب دھوکے بازی چونکہ ہمارا قومی مزاج ہے تو ہم اپنی نسلوں کو بھی یہی منتقل کیا ہےاور ایسے حالات کہ جس میں ڈگری کے حصول کی ریس میں پیچھے رہ جانے کا خوف دامن گیر ہو،ایسے میں طلبہ کو اول کا تمغہ سینے پر سجانے کا واحد حل نقل ہے نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ ہمارے امتحانی مراکز نقل اور بوٹی کلچر کو پروان چڑھنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ ان مراکز پر مقرر نگران سیاسی وابستگی اور اقربا پروری کو پنپنے کا موقع دیتے ہیں اور امتحانات کی شفافیت کو خراب کرتے ہیں۔اسی طرح بعض لا لچی اساتذہ چند روپوں کے عوض اپنے مرکز پر نقل کی اجازت دے دیتے ہیں۔ایسے میں کمرہ امتحان مچھلی بازار کا منظر پیش کرتا ہے۔ کون کیا ہے اور کیا کر رہا ہے کسی کو نہیں معلوم،بس پرچہ ختم ہونے تک زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے ہونا چا ہیے۔ سخت ترین پابندی کے باوجود مراکز پر موبائل فون کے استعمال کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ اور تو اور طلبہ کو گائیڈ کیا جاتا ہے کہ بیٹا!نقل کے لیے لایا ہوا مواد چھپا دیں کہ بورڈ سے ٹیم آگئی ہے۔ رول نمبر فلاں فلاں کا خاص خیال اور خصوصی رعایت۔یہ تمام باتیں ثانوی بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے دعووں پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ تو تھے نقل کے چند اسباب اور وجوہات لیکن وہ طلبہ جو اس گناہ اور جرم کو اپناتے ہیں ان کا مستقبل کیا ہے؟کیا یہ ملک اور قوم کے کسی کام آسکتے ہیں؟ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ ان کا مقصد صرف اور صرف ڈگری کا حصول ہوتا ہے جو یا تو رٹ کر یا نقل کر کے پورا ہوجاتا ہے۔یہ لوگ معلومات اور علم کے عملی نفاذ سے یعنی (practical implementation of knowledge )سے دور بھاگتے ہیں ۔ وجہ یہی ہوتی کہ سمجھ کر نہیں پڑھا یا پڑھا ہی نہیں۔اسی لئے یہ غیر ہنر مند (non -skilled) ہوتے ہیں۔ نئے خیالات اور سوالات ان کے ذہنوں میں کبھی جنم نہیں لیتے۔ان کی سوچیں زنگ آلود اور منجمد ہوتی ہیں اور اگر یہ ذہین ہیں بھی تو کیا اعلیٰ شخصی اوصاف ان میں موجود ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں! کیونکہ یہ لوگ خود غرض اور بے ایمان ہوتے ہیں، جو کبھی اجتماعی اور قومی فائدے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں کو اپنے مفاد کی خاطر اپنی ذات سے منسلک اداروں اور لوگوں کو بھی نقصان پہچانے سے گریز نہ کریں۔ اس طرح کے لوگ اگر آگے آجائیں توقابل اور مخلص لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں، جس کے دو بڑے نقصان ہیں۔
پہلا یہ کہ معاشرے میں ایجادات اور انقلاب کا سلسلہ رک جاتا ہے۔

لوگ ترقی نہیں کر پاتے اور معیار زندگی بہتر نہیں ہوپاتا۔دوسرا یہ کہ اگر یہ لوگ بڑے بڑے عہدوں ہر پہنچ جائیں تو مفاد پرستی میں ظلم وزیادتی اور حق تلفی کا بازار گرم کرتےہیں اور رشوت ستانی،تعصب اور اقرباءپروری جیسی معاشرتی برائیوں کو بھی ہوا دیتے ہیں۔ دھوکے بازی صرف میدان تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی برائی ہے۔جھوٹ بول کر مال کمانا،جھوٹ بول کر کام نکلوانا، حق اور سچ کو ذاتی مفاد کی خاطر چھپانا اور اس طرح کے کئی کام جو ہم نہ صرف کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بڑے فخر سے بیان بھی ہیں یعنی اچھائی اور برائی میں کوئی فرق ہی نہیں رہا۔
اس برائی کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے نہ صرف تعلیمی شعبے کی اصلاح کی ضرورت ہے بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی درکار ہے۔ جب بچے سارا دن والدین کو جھوٹ بولتے، دھوکہ دیتے دیکھیں گے تو کیا ان کے ذہنوں پر یہ افعال اثر انداز نہ ہوں گے؟ تربیت کے نام پر گفتار کا غازی بننے سے بہتر ہے کہ عملی نمونہ بن کر بچوں کی شخصیت کو سنوارا جائے۔ ڈگری اور موازنے کے ریس ٹریک سے نکل کر ان کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور کا اعتراف بچوں کے سامنے بہترین الفاظ میں کیا جائے تاکہ ان میں خود اعتمادی اور یقین ذات پیدا ہو اور وہ ہر کامیابی اپنی محنت کی بدولت حاصل کرنے کے عادی بن جائیں ساتھ ساتھ ہار کو برداشت کرنے اور اس کو سیکھنے کا حوصلہ بھی ان میں پیدا ہو سکے۔اس طرح ایک متوازن شخصیت پروان چڑھے گی جو معاشرے اور ملک دونوں کے لیے مفید ہوگی۔