اختلاف مع الاعتدال - محمد معصوم شہزاد⁦⁦

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر دلائل کے انبار بھی لگادیئے جائیں تب بھی شدت پسند تنظیمیں اور متشدد لوگ اس موضوع کو اپنی زندگی اور زندگی میں درپیش حالات و واقعات میں قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے کَتراتے ہیں. یہ میری ایک حقیر سی کوشش صرف و صرف اپنے حلقۂ احباب کے لئیے ہے، جس پر امید کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ ہم سب کسی موضوع پر بات کرنے سے پہلے ان باتوں کو اپنے ذہن میں رکھیں تاکہ آپسی و باہمی محبتیں اور عقیدتیں ہمیشہ کے لیے بر قرار رہیں. اگر آج ہم اس موضوع کو اور اسکی اہمیت کو سمجھ جائیں تو ہماری زندگی کی آدھی، بلکہ بہت سی مشکلات ویسے ہی حل ہو جائیں.....

جہاں تک مجھے یاد ہے ہم نے نویں جماعت میں ایک مضمون پڑھا تھا جو غالبا ً "اتفاق، اتحاد اور یقینِ محکم" کے نام سے معنوَن تھا. آج کے اس پُر فِتن دور میں خصوصاً جبکہ عالمی طاقتیں اسلام کی دشمن ہیں اور سازشوں کے جال اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بچھائے جا رہیں ہیں ہمیں اس اتحاد و اتفاق کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے. لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اختلافات کے دروازے بند ہوچکے ہیں. اتحاد واتفاق کا مطلب ہی یہی ہے کہ اختلافات کی دنیا سے ہٹ کر آپس کی محبت و الفت قائم رہے.....
اختلافِ رائے امت میں ہمیشہ رہا ہے اور آگے بھی رہے گا اور اسکے بقا میں ہی خیر ہے. کچھ اختلافات صحیح ہوتے ہیں اور کچھ غلط‌، سارے صحیح نہیں ہو سکتے اور نہ سارے غلط کیونکہ حضور ﷺ کا قول ہے: "میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی"... مسلمانوں میں ایک جماعت ہمیشہ رہے گی جو حق پر ہوگی.. اور اُسی کی پیروی کرکے ہم بقا پائیں گے.. جو اس سے ہٹے گا وہ گمراہی کی طرف دھکیل دیا جائے گا.. اختلاف کی پہلی قسم عقائد کے بارے میں ہے جس میں کوئی گنجائش نہیں، اس میں جو حق پر ہوگا وہی بقا پائے گا اس قسم کے عقائد میں ہم حضرت ابوالسن اشعری رحمہ اللہ اور امام ابو منصور ماتُریدی رحمہ اللہ کے مقلد ہیں..

مثلاً ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں، اگر اس عقیدے سے کسی نے اختلاف کیا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا... چنانچہ اس قسم کے اختلافات میں جو انسان جکڑ گیا وہ اپنی خیر منائے اور سیدھے راستے کو تلاش کرے.. اس میں جو اختلافات ہونے تھے وہ ہو لئیے، جتنے دلائل دینے تھے ہمارے بڑوں نے برسوں پہلے دے دیے ہیں.. مزید کسی نئے نظریے کی گنجائش نہیں ہے.. تو ہماری فلاح اسی میں ہے کہ ان عقائد میں اپنے اکابر کی اتباع کی جائے...
دوسری قسم: فقہی مسائل میں اختلاف، یہ صحابہ کرام کے دور سے چلا آرہا ہے اور یہ اختلاف امت میں رحمت کا سبب ہے.....
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ ایک صاحب نے فقہاء کرام کے اختلافات کی بابت ایک کتاب تحریر کی تو امام احمد ابنِ حنبل نے فرمایا کہ اس کو "کتابِ اختلاف" کا نام نہ دو بلکہ اسے وسعت و فراخی کی کتاب کہو.... "لا تسمه كتاب الاختلاف و لكن سمه كتاب السعة" ( مجموعۃ الفتاوی: 79/30 )
بہرحال اسکے اور بھی بہت سے دلائل و اقوال‌ موجود ہیں لیکن اس کو بیان کرنے سے موضوع وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا ..... اب اپنے اصل موضوع کی طرف ذرا روشنی ڈالتا ہوں، وہ ہے تیسری قسم: نظریاتی اختلاف کے بارے میں... اس قسم کے‌ اختلاف کی ابتدا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی اور اب تک جاری ہے... اس اختلاف میں لوگ عموماً افراط و تفریط کا شکار ہوتے ہیں...

نظریاتی اختلاف دینِ اسلام سے ہٹ کر عام طور سے سیاسی مسائل میں پیش آتا ہے یا اور بھی بہت سے معاملات میں یہ اختلاف گردش کرتا ہے.. یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اختلافات کبھی ختم نہیں ہوسکتے.. ہر انسان کی ایک الگ سوچ ایک الگ طرزِ فکر ہوتا ہے اور وہ اس طرزِ فکر سے اپنا ایک نظریہ یا ایک رائے قائم کرتا ہے... چونکہ انبیاء کے علاوہ کوئی انسان غلطی و خطا سے پاک نہیں ہے... کسی بھی انسان کی سوچ سمجھ میں غلطی و لغزش کا امکان بہرحال رہتا ہی ہے...
یہاں تک اتنی بات واضح ہو گئی کہ کسی بھی انسان کا نظریہ یا رائے سو فیصد درست نہیں ہوسکتی... اس لئے وہ اپنی رائے کسی پر مسلط نہیں کر سکتا... مثال کے طور پر موبائل فون کی بات کریں تو کوئی کہتا ہے یہ سراسر فائدے مند ہے لیکن دوسرا انسان کہتا ہے کہ نہیں، بلکہ یہ آلہ سو فیصد گمراہی و تباہی کا باعث ہے... اب یہ دونوں انسان اپنے اپنے موقِف پر قائم ہوگئے، دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے پر اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتا، اس سے فائدے کی بجائے نقصان ہوگا... ہاں اگر دوسرے کو قائل کرنے کی صلاحیت ہے تو اپنا جگر آزما سکتا ہے... اب ہمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے.. ہر انسان چاہتا ہے کہ میری رائے سے اتفاق کیا جائے.. حالانکہ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان کی الگ سوچ ہے،

ایک الگ طرزِ زندگی ہے وہ جو رائے قائم کرے گا اپنے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر قائم کرے گا.. یہاں کوئی انسان کسی سے اختلاف کرے تو دوسرا اس پر طعن و تشنیع کرتا ہے اور ایک طوفانِ بدتمیزی شروع ہوجاتا ہے... پھر جب ابتدا ہو جاتی ہے تو ذاتیات پر بھی کیچڑ اُچھالنے سے دریغ نہیں کیا جاتا... اور اس میں بڑے بڑے علماء کو بھی تہہِ تیغ لایا جاتا ہے...
شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی* نے لکھا ہے: کہ اہانتِ علم اور اہانتِ اہلِ علم کفر ہے... چنانچہ ہمیں چاہیے کہ اپنی زبانوں کو علماءکرام کے بارے میں خاموش رکھیں... یہ انبیاء کے وارث ہیں، چاہے جیسے بھی ہوں، ہمیں پسند ہوں یا نہ ہوں... ایک صحیح الاعضاء اور تندرست انسان کا بیٹا اگر لنگڑا، ناٹا، اور کانا ہی کیوں نہ ہو وارث بہرحال وہی ہوگا... اسی طرح علماء آپکو جیسے بھی لگیں وارث تو وہی ہیں... ہم مسلمان ہیں، ایک دوسرے کے بھائی ہیں، ہمیں معاشرے میں رہنا ہے تو بیشک بہت سے مسائل پیش آئیں گے لیکن آپسی محبت و الفت کو قائم رکھنے کے لئے ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے اعتدال کا راستہ.. اعتدال کہتے ہیں میانہ روی کو جس میں نہ افراط ہو نہ تفریط، اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ خرچ کرنے میں نہ اسراف ہو نہ بخل، مزاج میں نہ سخت گیری ہو نہ بلکل نرمی..

ہمیں اعتدال کا راستہ ڈھونڈنا ہے کہ بھئی موبائل فون کو صحیح کہنے والا اپنی جگہ صحیح، غلط کہنے والا اپنی جگہ... موبائل فون کے ذریعے فائدے بھی بہت ہو رہے ہیں اور نقصانات بھی... ہمیں اختلاف کرنے سے کسی کی طرف سے‌ چنداں کوئی پابندی نہیں ہے... لیکن اسکی بھی ایک حدود ہے، ایک باؤنڈری ہے... اس حدود میں رہ کر جتنے اختلافات کئیے جائیں ٹھیک ہیں...
مثلا ً کسی معاملے میں ایک نے کہا کہ میری رائے کے مطابق یہ بات یوں ہے، تو دوسرا اس سے اختلاف کر کے یہ کہہ سکتا ہے کہ میری رائے میں یہ بات اس طرح ہے... بس اتنا اختلاف رہے تو اچھا ہے اس سے تجاوز کرگئے تو حالت بگڑ جائے گی، دوستیاں ختم ہو جائیں گی، رشتے ٹوٹ جائیں گے... پھر لوگ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا... ؟؟
اعتدال سے ہٹ کر چلنا ہے تو پھر شکایات کے کیا معنی ؟؟ ایک بات تو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کچھ بھی ہو جائے، دنیا اِدھر کی اُدھر ہوجائے اختلافات ختم نہیں ہو سکتے تو بہتر یہی ہے کہ حالات سے سمجھوتہ کرلیا جائے اور اعتدال پر قائم رہ کر طعن و تشنیع کی دنیا سے اپنا دامن بچا لیا جائے.. اس سے دوستیاں، رشتے داریاں اور محبتیں قائم رہیں گی..
انحصار اس بات پر ہے کہ ہم قائم رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں .... ؟

⁦⁦⁩