میر واعظ شمالی کشمیر - اَشفاق پرواز

خدائے تعالیٰ کا نظام بڑا ہی عجیب ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً ایسے افراد کو پیدا کرتا ہے جو اصلاح و رشد کا مینارہ نور، اخلاق و کردار کا کوہِ ہمالہ، شریعت و طریقت کا حسین سنگم، دعوت و ارشاد اور تبلیغ کا دُرِ نایاب ہوتے ہیں۔ ایک فرد کا سوز ِدل اور روح کی بے قراری ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے لیے انقلاب کا ذریعہ بن جاتا ہے اور وہ الحاد و بے دینی اور خدا فراموشی کے تیرہ و تاریک ماحول میں چراغِ ہدایت بن کر جگمگاتا ہے ، آفتاب کی طرح اس کی کرنیں پوری دنیاے انسانیت پر چھا جاتی ہیں۔دیوانہ وار لوگ اس کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہوجاتے ہیں ۔ اس کی اداوں پر فریفتہ اور اس کے ایثار و اخلاق کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔

اسکی زبان سے نکلنے والا ایک ایک جملہ دل پر اثر کر جاتاہے اور قلب کی دنیا میں تموج برپا کر دیتا ہے ۔ محبت اور ہمدردی میں ڈوبی گفتگو زندگی کے رخ کو بدل دیتی ہے ، سادگی و بے نفسی ، تواضع و انکساری اس کی عظمت کو مزید دوبالا کر دیتی ہے ۔اور تنہا ایک انسان وہ حیرت انگیز کارنامہ انجام دیتا ہے جو بڑی بڑی جامعات اور ایکڈمیاں بھی انجام دینے سے بسا اوقات قاصر رہتی ہیں ۔چناچہ ان ہی شخصیات میں ریاست جموں کشمیر کی ایک ہمہ جہت شخصیت میرواعظ شمالی کشمیر مولانا پرے حسن افضل فردوسی صاحب ہیں۔ آپ کا اصل نام غلام حسن پرے ہے ۔ حسن افضل فردوسی آپکا تخلص ہے۔ آپ کو یہ تخلص جناب قاری سیف الدین ( بانی جماعت سلامی جموں کشمیر) نے رکھا ہے۔ آپ تیس مارچ ۱۹۷۹ کو سوزیٹھ گوری پورہ نارہ بل ضلع بڈگام میں ایک دین دار گھر میں پیدا ہوے ۔
آپ کے والد محترم کا نام ماسٹر عبدالرشید پرے تھا اور آپکی والدہ ماجدہ کا نام سارہ بیگم ہے۔ آپ کو بچپن سے ہی علم و ادب کے ساتھ لگاو تھا۔ ابتدائ تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول نارہ بل سے شروع کی بعد میں گورنمنٹ ہائ اسکول نارہ بل میں داخلہ لیا ۔ آپ نے گورنمنٹ ہائیراسکنڈری اسکول ماگام سے بارہویں جماعت کا امتحان اول درجے میں پاس کیا۔

آپ نے مولانا آذاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ایم ۔اے ہسٹری کیاہے۔ میر واعظ موصوف بچپن سے ہی بڑے ہی ذہین و فطین تھے۔ آپ کی تعلیمی زندگی بے شمار کامیابیوں سے مزین ہے ۔ آپ نے اپنی تعلیمی زندگی کے تمام امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پرائمری سے لے کر ایم۔اے تک ہر امتحان میں متعدد وضائف بھی حاصل کیے۔
آپ اس وقت پی ۔ ایچ ۔ڈی کے طالب علم بھی ہیں۔ دعوت دین کی جانب دلچسپی دیکھ کر آپ کو ۱۹۹۷ میں ریاست جموں کشمیر کی نماےئندہ طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ میرواعظ شمالی کشمیر حسن فردوسی صاحب نے جمعیت کی دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا دیا۔ آپ نے جمعیت میں اہم منصبی ذمہ داریاں بحسن خوبی نبھائی ہیں۔ آپ ناظم ضلع سرینگر و گاندربل اور مرکزی مشاورت کے رکن بھی رہے ہیں۔ ۲۰۰۷ میں میرواعظ موصوف جمعیت سے فارغ ہوگیے۔ ۲۰۰۷ سے ۲۰۰۸ تک آپ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے ساتھ وابستہ رہے اور اس دوران آپ نے بہ حیثیت معاون امیر تحصیل سرینگر بھی اپنے فراےئض انجام دیے۔ ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۳ تک آپ تحریک حریت سے وابستہ رہے۔ اس دوران آپ نے معاون سیکریٹری مرکزی شعبہ دعوت و تبلیغ کے بطور اپنے فراےئض انجام دیے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر : بھارت اب پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے- میر افسر امان

میر واعظ شمالی کشمیر جناب مولانا پرے حسن افضل فردوسی نگاہ بلند کے حامل، سخنِ دلنواز کے مالک اورجاں پرسوز سے مالا مال ہیں۔آپ نے تحصیل ٹنگمرگ میں بلخصوص اور وادی کے اطراف و اکناف میں بلعموم دعوت دین کی صدا کو بلند کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے حق پرستوں اور دین کے متوالوں کا ایک ایسا قافلہ تیار ہوگیا جو اعلاے اسلام کے جذبے سے سرشار ہو کر تن من کی بازی لگانے والا بن گیا ۔ خوبیوں اور کمالات کے پیکر میر واعظ موصوف نے نہایت منظم اور مستحکم طور پر دعوت دین پر محنت کی اور یہ محنت خداے تعالیٰ کے فضل و احسان سے رنگ لا رہی ہے۔آپ کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان میں خصوصاً شہید مولوی بلال احمد بٹ المعروف حارث ساکن بٹہ پورہ کنزر، شہید عبدالمغیث میر المعروف خطاب ساکن پارم پورہ سرینگر اور شہید داو￿د احمد صوفی ساکن زینہ کوٹ سرینگر قابل ذکر ہیں۔
میرواعظ محترم پرے حسن فردوسی کا پاکیزہ مزاج ، ان کی وجاہت ، ان کا جلال اور ذوقِ جمال، قرآن سے تعلق ، عشقِ رسول، مطالعہ کا شوق، جرات اور ثابت قدمی، تحمل اور صبر ، نرم خوئ اور ہمدردی، شفقت اور محبت ، جہد مسلسل اور داعیانہ تڑپ ، بے تکلفی، ہر انسان کے ساتھ دوستی کا انداز ، وسیع المشربی اور ہر گھڑی اللہ کی بندگی کا احساس اور اس طرح کی ان گنت خوبیوں کا ان کی شخصیت کے اندر جمع ہوجانا خداے تعالیٰ کا ایک خاص احسان ہے۔

حسن تدبُر، خوش خلقی، نفس کی پاکیزگی اور انسانیت کا درد، غرض یہ کہ میر کارواں کی تمام تر صفات خداے تعالیٰ نے میرواعظ محترم میں جمع کر رکھی ہیں۔ایک کامیاب قاے￿د او ررہبر کے اوصاف آپ میں مجتمع ہیںاور علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا صحیح مصد اق بھی:
نگہ بلند سخن، دل نواز، جاں پُرسوز - یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
میرواعظ شمالی کشمیر مولانا پرے حسن افضل فردوسی سال ۲۰۱۴ سے تاحال مسلم پرسنل لاء بورڈ جموں کشمیر کے ممبر ہیں۔آپ کے کندوں پر میرواعظ شمالی کشمیر کی ذمہ داری ے۵ جنوری ۲۰۱۸ کو ڈالی گئ۔ اس حوالے سے جامع مسجد شاہ ہمدان کنزر ٹنگمرگ میں جمعہ کے دن ایک پروقار تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جہاں مفتی اعظم جموں کشمیر جناب مفتی ناصر السلام صاحب نے میرواعظ موصوف کی دستاربندی کی۔ میر واعظ نے خطابات کی شروعات اپنے والد صاحب کی سربراہی میں ۲۵ ستمبر۱۹۹۴ میں شب قدر کے موقعے پر کی۔حق گوئ اور بیباکی کی پاداش میں آپ کو متعدد بار اذیتیں پہنچائ گیئں۔آپ سینکڑوں دفعہ گرفتار بھی کیے گیے۔ مشکلات نے ان کے قدموں میں تزلزل آنے نہیں دیا۔تکالیف کے پہاڑ توڑے گیے لیکن آپ استقامت کا کوہِ گراں بن کر کھڑے رہے اور ہر باد مخالف کااپنی ایمانی حمیت کے ساتھ رخ موڑنے میں لگے رہے اور ثابت قدمی کے ساتھ تمام آزمائیشوں کا مقابلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر ابھی نہیں تو کبھی نہیں‎ - حریم شفیق

میرواعظ شمالی کشمیر مولانا حسن فردوسی صاحب مرکزی جامع مسجد شاہ ہمدان کنزر ٹنگمرگ کے خطیب بھی ہیں لیکن آپ نے یہاں صرف خطابت پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مرکزی جامع مسجد شاہ ہمدان کی تعمیر نو، اسکول اورشابنگ کمپلکس کی تعمیر میں بھی کافی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ میرواعظ کی حالات زندگی یہاں ہی نہیں رکتی آپ کے خاندان پر آلام و مصاےئب کے پہاڑ توڑ دیے گیے۔ نوے کی دہائی کی ابتدا میں تحریک اسلامی سے وابستگان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہاں قتل و غارت ، ظلم و تشدد، محاصرہ ، آتش زنی اور گرفتاریاں روز کا معمول بن گیا تھا۔ تحریک اسلامی روز اول سے ہی دشمنوں کی نگاہ میںکھٹکتی رہی ہے۔میرواعظ شمالی کشمیر مولانا حسن فردوسی صاحب کے والد محترم رکن جماعت تھے۔ وہ رب کی دھرتی پر رب کے نظام کے حامی تھے۔ چناچہ باطل کو آپ کی حق پرستی راس نہیںآئ اور آپ کو ۶ نومبر ۱۹۹۵ کو بڑی بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں میرواعظ موصوف کے برادر نے بھی ۱۳ ستمبر ۲۰۱۶ کو شہادت کا جام نوش فرمایا۔
خداے تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرواعظ شمالی کشمیر جناب مولانا پرے حسن افضل فردوسی صاحب کا سایہ اس مظلوم قوم پر تا دیر قاےئم و داےئم رکھے۔آمین!