شکر ہے بھارت کا رخ نہیں کیا! - احسان کوہاٹی

گرمی اس شدت کی تھی کہ سیلانی کو نوابشاہ یاد آگیا ،سورج ایسے چمک رہا تھا جیسے اس نے ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم پر کچھ لگا رکھا ہواور اب اس کا بدلہ پاکستانیوں سے لے رہا ہودھوپ میں آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا ۔ سورج کی شعاعیںبرچھیوں کی طرح مسام میں گھس رہی تھیں اور گرم لو کے تھپیڑے چل رہے تھے ۔ ایسے میں سیلانی راولپنڈی کی کامران مارکیٹ میں اپنی چہیتی’’ نیلوفر‘‘ کے لئے کلینک ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے یہاں کسی نے ایک اچھے مکینک کا بتایا تھاوہ راجہ استاد کو پتہ پوچھتا پھر رہا تھا کہ اس کی نظر لیموں پانی والے پر پڑی اور اس سے رہا نہ گیا ۔ وہ سیدھا لیموں پانی پینے پہنچ گیا ۔ وہیں اس کی لحیم شحیم نومی سنگھ سے ملاقات ہوئی تھی،نومی نے زرد رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی، گھنی داڑھی نے اس کے چہرے کے بیشتر حصے کا احاطہ کیا ہوا تھا اور مونچھوں نے بالائی لب کو مکمل طور پر چھپا رکھا تھا۔ شربت والے نے لیموں پانی کا گلاس بناکر سامنے کیا تو اسے لینے کے لئے ایک ساتھ دو ہاتھ آگے بڑھے جن میں ایک ہاتھ سیلانی اور دوسرا نومی سنگھ کا تھا اور پھر دونوں ہاتھ ایک ساتھ پیچھے ہٹے سیلانی نے مسکراتے ہوئے نومی سنگھ کی طرف دیکھا اور کہا’’سردار جی! آپ لے لیں میں دوسرا گلاس لے لوں گا‘‘

ادھر سردار جی نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا’’سر جی ! آپ بڑے ہیں پہلے آپ‘‘

اس آپ جناب پر شربت والے نے گلاس تیسرے گاہک کو دےتے ہوئے مشورہ دیا’’تسی ٹاس کرلو‘‘

’’اسے کہتے ہیں پہلے آپ پہلے آپ میں ریل کا چھوٹنا‘‘سیلانی کی بات پر نومی سنگھ ہنس پڑا اور کہنے لگا’’سرجی! ادھر تو وہ پسینے چھوٹے ہیں جیسے نیلم بہہ رہا ہو ۔‘‘

’’آپ لوگوں کو تو گرمی بھی بہت لگتی ہوگی ۔‘‘سیلانی نے اس کی بڑی سی زرد پگڑی کو تکتے ہوئے ہمدردی سے کہا ۔

’’نہیں جی اس کا کوئی ایشو نہیں ہے ہم اس کے عادی ہو جاتے ہیں ‘‘

یہ نومی سنگھ سے سیلانی کی پہلی ملاقات تھی جس میں اس نے سیلانی کی نیلو فر کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے خریدنے کی پیشکش کر ڈالی ،سیلانی کی نیلے رنگ کی 250سی سی کی ہنڈا ریبل چوپر کو نوجوان کم ہی نظر انداز کر پاتے ہیں ،سیلانی نے نومی سنگھ سے معذرت کرتے ہوئے کہا’’فی الحال تو یہ میری اکلوتی سواری ہے اور میرا اس سے جدا ہونے کا ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ،ہاں آپ اگر اسے چلانا چاہتے ہیں تو یہ لیں چکر لگا لیں ‘‘

سیلانی کی اس فراخدلانہ پیشکش پرنومی سنگھ اس کا دوست بن گیا،اس نے اسے ایک اچھے موٹرسائیکل مکینک کا بھی بتایا اور اپنا فون نمبر بھی دیا ،یہ نومی سنگھ سے سیلانی کی پہلی ملاقات تھی۔

نومی سنگھ سے دوسری ملاقات صدر کمرشل مارکیٹ میں ہوئی ،چھ فٹ کے لمبے چوڑے سکھ نوجوان کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ خاص کر جب اس نے شوخ رنگ کی پگڑی باندھ رکھی ہو ۔ سیلانی اور نومی آمنے سامنے ہوئے تو دونوں کے لبوں پر شناسائی کی علامت مسکراہٹ کی صورت میں ظاہر ہوگئی ۔ نومی اسے ایک کوءٹہ وال ہوٹل میں چائے پلانے لے آیا ،یہاں راولپنڈی اسلام آباد میں بھی لچھے دار پراٹھے اور کڑک چائے کوئٹہ والوں کی پہچان بن چکی ہے ۔ ان کے چائے خانوں میں رات کو کرسی ملنا مشکل ہوجاتا ہے،نومی سنگھ اور سیلانی کو بھی ایک گوشے میں کرسی ملی جہاں کڑک چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے نومی سنگھ نے بتایا کہ ان کا خشک میوہ جات کا کام ہے اور ان کا خاندان کئی صدیوں سے یہاں افغانستان اور بھارت میں آباد ہے ۔

’’جب پاکستان بن رہا تھا تو میرے دادا جی کے دو بڑے بھائی انڈیا چلے گئے لیکن دادا جی اور ان کی چھوٹی بہن نے جانے سے انکار کردیا. وہ دونوں بڑے مذہبی ہیں. انہوں نے کہا ہم باباگرونانک کاپنجہ اور انکا گورددوارہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے،نئے دیس میں جانے کیسے دن دیکھنے کو ملیں ،ادھر آنے کی اجازت ہو نہ ہو، ہم نے تو یہیں رہنا ہے ۔‘‘

سن ابدال میں سکھوں کی قدیم اور بہت مقدس عبادت گاہ ہے ،اس گوردوارے میں ایک پتھر پر پنجے کا نشان ثبت ہے ،سکھوں کا ماننا ہے کہ پتھر پر نقش یہ پنجہ بابا گرونانک کا ہے

’’آپ کے داداحیات ہیں‘‘

’’جی جی بالکل زندہ ہیں شوگر بلڈپریشر کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں ، پانچ سال پہلے تک تو اپنا لمبریٹا بھی خود اسٹارٹ کرتے تھے ‘‘

’’اوہ لمبریٹا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے ابھی ان کے پاس‘‘سیلانی نے دلچسپی سے پوچھا،لمبریٹا نامی اطالوی کمپنی کے اسکوٹر کبھی پاکستان میں بڑے مشہور ہوا کرتے تھے،غالبا یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے۔

’’اچھا تو آپ ابھی لمبریٹا کے عاشق ہیں پھر تو آپ کو درشن کراتے ہیں ایک دم جینئن کنڈیشن میں ہے ڈیڈی نے بڑا سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اسے ہاتھ بھی لگائے، ڈیڈی اب چلا نہیں سکتے لیکن اسکوٹر کھڑا ہے، کسی کو دیکھنے بھی نہیں دیتے‘‘

’’ڈیڈی‘‘

’’اوہ ہم تو دادا جی کو ڈیڈی کہتے ہیں وہ ہم سب کے ڈیڈی ہیں‘‘

سیلانی کی دلچسپی دیکھتے ہوئے نومی سنگھ نے اسے گھر چلنے کی دعوت دی، سیلانی کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ اس نے نیلوفر کی چابی نومی سنگھ کی جانب بڑھا دی۔ وہ خوش ہو گیا، اس نے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی اور سیلانی کو لے کر ایک گنجان آباد علاقے میں آگیا ،اس کا گھر صدر سے پندرہ بیس منٹ کی مسافت پر ہی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں ٹیکس نظام کا جہاز اور ہم - محمد سلیم

اطلاعاتی گھنٹی کے جواب میں دروازہ کھلنے پر نومی سنگھ سیلانی کو اندر لے آیا،یہ چھوٹے سے آنگن والا پرانا گھر تھاجس کے سامنے تین کمرے برآمدہ اور دائیں جانب ایک قطار سے باورچی خانہ غسلخانہ بنے ہوئے تھے۔ اس گھر میں بیٹھک نئی نئی اور الگ تھلگ لگ رہی تھی،سیلانی بیٹھک میں جا کر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد آکر کرکہنے لگا’’آئیں جی آپ کو لمبریٹا کے درشن کراتے ہیں ‘‘

سیلانی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے برآمدے میں آگیا جہاں روم کولر کے سامنے تخت پر ایک ادھیڑ عمر کے گیسو دراز صاحب بنیان پہنے لیٹے ہوئے تھے ،یہ نومی سنگھ کے والد صاحب تھے جو سیلانی کے ست سری اکال پر خوشی سے مسکرائے اور رسمی طور پر حال احوال پوچھ کر ٹیلی وژن دیکھنے میں محو ہو گئے، برآمدے کے دوسرے کونے میں کوئی چیز چادر میں لپٹی ہوئی تھی، سیلانی جان گیا کہ یہی لمبریٹا ہے لگ بھگ پینتالیس پچاس سال پرانا اسکوٹر،نومی سنگھ نے اسکوٹر پر سے چادر ہٹائی تو اس پر ایک اور چادر لپٹی دکھائی دی اسے ہٹانے کے بعد فیروز ی سے رنگ کا لمبریٹا سامنے تھا،حیرت انگیز طور پر بہت اچھی حالت میں تھا، راولپنڈی اسلام آباد میں صرف انسانوں کو زنگ لگتا ہے لوہے کی چیزیں اس سے محفوظ رہتی ہیں لیکن پھر بھی اسے کھوپرے کا تیل لگا کر محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔

اسکوٹر واقعی اچھی حالت میں تھا،سیلانی نے نومی سے دادا جی کے بارے میں پوچھا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی ،نومی اسے خوشی خوشی کونے والے کمرے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ کے پاس لے آیا،جن کے چہرے کی جھریوں میں سفید داڑھی یوں اگی ہوئی تھی جیسے سرد پہاڑی کھائیوں کے سبزے پر برف پڑی ہو،ان کا سر کسی بوڑھی بنگالی خاتون کے سر کی طرح سفید بالوں سے ڈھکا ہوا تھاجن کا انہوں نے سر پر جوڑا بنا رکھا تھا،ان کی مونچھوں نے زیریں لب بھی چھپا رکھا تھا ،کمزور کلائی میں پڑا کڑا اور سرہانے پڑی کرپان بتا رہی تھی کہ وہ پانچ ککوں والے پکے سکھ ہیں ،ان کی نظر نومی کے پیچھے سیلانی پر پڑی تو سوالیہ نظروں سے سیلانی کے بارے میں پوچھنے لگے:

’’ڈیڈی جی ! یہ لمبریٹا دیکھنے آئے ہیں ‘‘نومی کی اس بات پر ان کے تیور بدل گئے پیشانی پر تیوریاں پڑنے لگیں وہ سمجھے کہ نومی لمبریٹا بیچنے اور سیلانی اس کا سودا کرنے آیا ہے اس سے پہلے کہ وہ سیلانی کی عزت افزائی شروع کرتے سیلانی نے جلدی سے وضاحت کردی۔

’’ میں اسے صرف دیکھنے آیا ہوں چند تصویریں بناؤں گا اوربس‘‘ صورتحال سمجھ کر نومی سنگھ نے بھی جلدی سے کہا’’جی ڈیڈی جی ! یہ توآپ اور میرے جیسے شوقین بندے ہیں انہوں نے تو خود بڑی پیاری چوپر رکھی ہوئی ہے، یہ صحافی ہیں، موٹرسائیکلوں کو تو انہیں شوق ہے‘‘

نومی سنگھ کی وضاحت پر وہ پرسکون ہوگئے، انہوں نے سیلانی کو سامنے پڑی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نومی سے کہا ’’مہمان کے لئے لسی شسی کا انتظام کرولیکن پہلے پوچھ لوچائے نہ پیتے ہوں صحافی لوگ چائے ہی سڑکاتے ہیں‘‘

’’جی ،جی چائے ٹھیک رہے گی ‘‘

سیلانی کی بات پر انہوں نے انگریزوں کو ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا’’ان گوروں نے پوری دنیا کو چائے پر لگا دیا ہے ،جا اونومی چائے کے ساتھ ناشتہ بھی لے آنا اور اگر میرے لئے پھیکی چائے آئی ناں تے ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ڈیڈی جی شوگر بڑھ جائے گی ‘‘

’’اوئے نہیں بڑھی تو تم لوگوں نے کتنا روک لینا ہے۔ ایک دن تیری دادی کے پاس تو جانا ہی ہے ناں ‘‘

نومی سنگھ کمرے سے باہر چلا گیاجس کے بعد انہوں نے تکئے کے سہارے اٹھتے ہوئے کہا یہ اسکوٹرنومی کی دادی کی نشانی ہے ۔ میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور لمبریٹا بھی نیا نیا آیا تھا۔ میرا بڑا دل تھا لیکن پیسے کم پڑ رہے تھے، نومی کی دادی اومیکا کو پتہ چلا تو وہ خاموشی سے چاچا غلام رسول سنار کی دکان پر گہنے بیچنے چلی گئی ۔ ۔ ۔ ہائے کیا وقت اور کیا لوگ تھے پتر،اب زرا غور سے سننا،چاچا غلام رسول سے ہمارے پرانے تعلق تھے تقسیم کے بعد میں نے جب ادھر رکنے کا فیصلہ کیا تو چاچا غلام رسول ،ہداءت اللہ بی اے ،مولوی سلامت حسین اور محلے والے میرے گھرآئے کہنے لگے آپ ہمارے بچے ہو بالکل اسی طرح محفوظ رہو گے جیسے ہمارے بچے ہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتو بلا جھجھک بتانا ۔ ۔ ۔ خیر جب اومیکا وہاں گئی اور اس نے انہیں گہنے بیچنے کے لئے دیئے تو چاچا غلام رسول نے خاموشی سے اسے پیسے دے دیئے اور گہنے رکھ لئے میں شام کو گھر آیا تو ادھر اومیکا نے میرے ہاتھ پر کڑ ک نوٹ رکھ کر مجھے حیران کیا اور دروازے پر چاچاکی آواز آئی ، میں نے نوٹ تو بیوی کے ہاتھ پر رکھے اور دروازے پر گیا توچاچا غلام رسول کھڑے تھے میں باہر نکلا ہی تھا کہ انہوں نے میرا یہ کان پکڑا اور ایک زوردار تھپڑ دے مارا ۔ ۔ ۔ ہاں ہاں تھپڑمجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی بس ان کے پاؤں پڑ گیا،انہوں نے مجھے بازوَں سے پکڑ کر اٹھایا اور کہنے لگے تجھے پیسے چاہئے تھے تو مانگے کیوں نہیں بیٹی نے ہاتھ سے گہنے کیوں اتارے ۔ ۔ ۔ اتنی دیر میں اومیکا بھی دروازے پر آگئی اس نے چاچا کوبتایا کہ انہیں تو اس بات کی خبر ہی نہیں ہے یہ تو میں اپنے طور پر گہنے بیچ کر اسکوٹر کے لئے پیسے دیناچاہتی تھی جس پر چاچا نے رومال میں بندھے گہنے میرے ہاتھ پر رکھے اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ اور پیسے چاہئے ہوں تو آجانا‘‘

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان نے بھارت کےلیے فضائی حدود کھول دیں

سیلانی حیرت سے کمال سنگھ کی باتیں سننے لگا، وہ بتا رہے تھے کہ اسلام آباد ان کی آنکھوں کے سامنے بنا ہے۔ یہ سا راجنگل ہوا کرتا تھا۔ بڑے سور ہوا کرتے تھے اور ہم نے بڑے شکار کئے ہیں۔ یہاں بیچ میں دو تین گاؤں ہوتے تھے جہاں لاریاں بھی نہیں جاتی تھیں ،سردار جی بڑے خوش مزاج آدمی تھے ان سے گپ شپ ہونے لگی تھوڑی دیر میں نومی بالائی والی چائے اور بسکٹ سموسے لے آیا اورخود بھی موڑھے پر بیٹھ کر محفل میں شریک ہوگیا،سیلانی نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے عمر رسیدہ سردار سے پوچھا ’’آپ کو کبھی یہاں رک جانے کے فیصلے پر افسوس تو نہیں ہوا‘‘

’’او بھئی کیوں ہوتا مجھے افسوس یہ تو ہوا کہ تقسیم ہوئی، خاندان بکھرگئے، قتل وغارت بھی ہوئی اور تقریبا سارے سکھ ادھر رہ گئے جو یہاں تھے، وہ بھی زیادہ ترچلے گئے لیکن مجھے یہاں رہنے پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔ جس جگہ چاچا غلام رسول جیسے لوگ ہوں وہاں کس بد نصیب کو رہنا برالگے گا،میرے دو بھائی یہاں سے بھارت چلے گئے تھے، انہوں نے بڑا اصرار کیا تھا مجھے ڈرایا بھی تھا کہ ہم مسلمانوں کے بجائے ہندوَں کے ساتھ زیادہ ایڈجسٹ ہیں، وہاں زیادہ محفوظ رہیں گے، ساتھ چلو۔ میں نہ مانا،میری روح ہی نہیں مانتی تھی۔ آج ان میں سے ایک وہاں بھارتی حکومت کو گالیاں بددعائیں دیتا مرگیا اور دوسرا اس وقت کینیڈا میں بیٹھا گالیاں دے رہاہے ،وہ مجھے کہتا ہے کمال سنگھ تو چھوٹا تھا لیکن فیصلہ بڑا ٹھیک کر گیا کانگریس نے ہم سکھوں کو استعمال کیا ‘‘۔

کمال سنگھ کی آنکھوں پر لگے موٹے موٹے شیشوں والی عینک اور سرہانے رکھے اخبار بتا رہے تھے کہ وہ حالات حاضرہ سے خوب واقف رہتے ہیں اور انہیں مطالعے کی پرانی عادت ہے اس بات کی تصدیق کمال سنگھ کے اگلے جملے سے ہو گئی انہوں نے پھیکی چائے کی چسکی لینے کے بعد برا سامنا کر نومی کی طرف دیکھا اور سیلانی سے کہنے لگا’’دراصل بھارت میں اصل مسئلہ ہندو نہیں ہندوَں کی مذہبی ایلیٹ کلاس براہمن ہیں سارے فساد کی جڑ یہی ہیں ،اب دیکھو امرناتھ یاترا کے لئے پورے بھارت سے ہندو جمع ہوکر کشمیر پہنچتے ہیں، انہیں ہر طرح کی سہولت سیکیورٹی دی جاتی ہے اوراچھی بات ہے لیکن چھ دن پہلے اٹاری ریلوے اسٹیشن سکھ یاتری پاسپورٹ لگے ویزے لیے کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور انہوں نے پاکستان سے آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو اندر گھسنے ہی نہیں دیا۔ مجھے بتائیں 146سکھوں نے پاکستان میں دس دن گزار کر کون سی کمانڈو ٹریننگ لے لینی تھی جس سے مودی حکومت پریشان ہوگئی؟ کیا ان 146سکھوں نے واپس جا کر نئی دہلی پر قبضہ کر لینا تھ؟ بھارت بہت غلط کر رہا ہے ،سکھوں کے دل جلے ہوئے ہیں ،اب مجھے بتائیں وہ بیچارے یہاں آکربابا گروارجن دیو کی برسی پرماتھا ٹیک لیتے تو کیا قیامت آجانی تھی ۔ ۔ ۔؟ مجھے تو نہیں لگتاکہ یہ مودی کرتار پور والے راستے پر بھی کام کرے گا اسے کام کروانا پڑے گا سکھوں کو ڈانگ سوٹے اٹھانے ہوں گے ،گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلے گا،بھارت کے سوا دو کروڑ سکھوں کو انگلیاں بھی ٹیڑھی کرنی پڑیں گی اور آنکھیں بھی دکھانا ہوں گی‘‘

سکھ بزرگ کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کے لئے بڑا اہم ہے۔ یہاں گروناناک کا پنجہ ہے، یہاں کرتار پور میں باباگرونانک کی آخری آرام گاہ ہے،یہاں پنجاب اور لاہور میں چپے چپے پر سکھوں کی تاریخ بکھری ہوئی ہے۔ سکھوں کا پاکستان سے روحانی رشتہ ہے اسی بات سے اب بھارت خوفزدہ بھی ہے کہ سکھ اس رشتے کے ناطے پاکستان آنے جانے لگے تو خالصتان تحریک اور مضبوط ہوگی لیکن وہ احمق نہیں جانتے کہ تحریکیں جبر سے مضبوط ہوتی ہیں بھارت جتنا جبر کرے گا سکھوں کو دبائے گا تحریک اتنی ہی مضبوط ہوگی ۔

سیلانی کمال سنگھ کے پاس ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھا رہا وہ اسے اپنی یادوں کے لمبریٹا پر بٹھا کر پرانے روالپنڈی اور ٹیکسلا کی سیر کرانے لے گئے اور اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک نومی سنگھ انسولین کا انجکشن لے کران کے سر پر کھڑا نہیں ہو گیا

’’اچھا پتر! تم سے مل کر بہت اچھا لگا ،اس کرتا پور پر لکھنا کہ مذہب میں سیاست نہیں ہونی چاہئے اور ننانوے ایشو تھوڑے ہیں، اس پرکرتے رہو سیاست ۔ ۔ ۔ ‘‘

سیلانی مسکرا کر کھڑا ہو گیا، بابا کمال سنگھ نے پوتے کے ہاتھوں سے انسولین کا انجکشن لیا اور بنیان اٹھا کر ڈھلکے ہوئے پیٹ میں ناف کے پاس انجکشن کی باریک سوئی گھسانے لگے اور سیلانی میٹھے سے پرہیزاور میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے کمال سنگھ کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا ۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.