دی لیگیسی آف اے ہاؤس وائف - اسعد عمران

انسانی رشتوں میں والدین اور بھائی بہنوں کے علاوہ ددھیال اور ننہیال کی طرف کی تمام رشتہ داریاں خونی تعلق کی بناء پر پہلے دن سے ہی محترم و مقدم ہیں اور شریعت نے وضاحت کے ساتھ سب رشتوں کے حقوق و فرائض بھی متعین کر دیے ہیں، مگر ان رشتہ داریوں میں ایک خوبصورت اضافہ شادی کے بعد سسرال کی صورت میں پیدا ہو جاتا ہے اور آپ کی بیوی یا شوہر کے تمام رشتہ دار آپ کے قانونی رشتہ دار قرار پاتے ہیں اور پھر بچوں کی شادی کے بعد ان کے سسرال کی صورت میں مزید خاندان آپس میں بندھ جاتے ہیں تو گویا خونی اور قانونی رشتہ داریوں کا ایک بڑا Nexus وجود میں آجاتا ہے جو ایک مضبوط اور مستحکم خاندانی نظام کی صورت میں ہماری معاشرت کی بنیاد بنتا ہے۔

میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے تمام رشتہ دار بہت ہی اچھے عطا کیے۔ خصوصا اس موقع پر اپنے سسرال کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ میری ساس صاحبہ جو چند دن قبل اللہ کو پیاری ہو گئیں اور سسر تقریبا بارہ سال قبل اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ اللہ تعالی ان دونوں کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ آمین۔

اس عظیم خاندان سے میرا تعلق اس طرح جڑا کہ میں نے اپنے والدین سے اپنی شادی کے لیے نظریاتی اور فکری ہم آہنگی کی غرض سے جمعیت کی لڑکی سے رشتے کی فرمائش کر دی اور پھر جب رشتہ آیا تو حیرت اور خوشی کے کئی دروازے وا ہوتے گئے، کیونکہ یہ لوگ میری توقع سے کہیں بڑھ کر اچھے نکلے۔ میری اہلیہ جمعیت کی نہ صرف رکن بلکہ صوبہ پنجاب کی ناظمہ رہی تھی اور اس کی تین بڑی بہنیں بھی اپنے اپنے وقت پر اسی ذمےداری پر فائز رہیں۔ میری ساس صاحبہ بھی جماعت اسلامی کی رکن تھیں۔ گویا گھر کی تمام خواتین جماعت میں متحرک اور مختلف ذمہ داریوں پر فائز تھیں۔ میرے سسر میاں عبداللطیف حنیف ایک نہایت شفیق انسان اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان میں اعلی عہدے پر فائز تھے۔ دو چھوٹے بھائی انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے سٹوڈنٹ تھے۔ تینوں مرد رکن تو نہ تھے مگر خواتین کو جماعت کے کاموں میں مکمل لاجسٹک اور ہر طرح کی سپورٹ فراہم کرتے تھے۔ مزے کی بات کہ چاروں داماد بھی تحریک سے وابستہ تھے۔ گویا ماحول پر دین اور تحریکیت پوری طرح چھائی ہوئی تھی۔ جس چیز نے مجھے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ کہ تمام خواتین مکمل شرعی پردے کے باوجود سماجی زندگی میں پوری طرح فعال تھیں اور ان کا پردہ کسی بھی صورتحال میں نہ تو کبھی کمپرومائز ہوا اور نہ ہی رکاوٹ بنا۔ چاروں بہنیں ماسٹر ڈگری کے ساتھ ایک سے بڑھ کر ایک بہترین معلمہ، قرآن پاک کی مدرسہ، مبلغہ، سوشل ورکر، ایجوکیشنسٹ اور ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ جس کے مثبت اثرات جہاں ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی پڑے، وہاں معاشرے میں بھی بہت دور دور تک پھیلے۔ کتنے لوگوں کی زندگیاں تبدیل کیں۔ کتنی خواتین کو پردہ شروع کروایا۔ کتنوں کو زندگی کا مقصد اور شعور دیکر دین کی خدمت کے لیے متحرک کردیا۔ الیکشن مہمات ہوں یا خواتین کے پروگرامات، سٹیج سے لیکر گھر گھر ملاقاتوں تک ہر انداز میں دعوت، تحریک اور نظریے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ نہ صرف پاکستان میں بلکہ ساؤتھ افریقہ، سعودی عرب اور آسٹریلیا کی سرزمین پر ان کی اولاد اسی جذبے اور سپرٹ کے ساتھ دین کے فروغ اور اسلام اور پاکستان کی بہترین سفارتکاری کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔

اب ماشاءاللہ اگلی نسل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچ رہی ہے، ان میں بھی وہی رنگ ڈھنگ نمایاں ہے۔ پانچ نواسے حافظ قرآن ہیں اور تمام بچے بچیاں بہترین اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ سب بچے بہترین قابلیتوں کے ساتھ دین کے مجاہد ثابت ہوں۔ آمین۔ میں اس سب کچھ کو اپنی ساس صاحبہ کی legacy قرار دیتا ہوں۔ قصور کے نواحی قصبے للیانی سے شادی کے بعد شادباغ اور پھر اتحاد کالونی علامہ اقبال ٹاؤن میں کل زندگی کی بہتر بہاریں گزارنے اور سعودی عرب اور آسٹریلیا کے متعدد دورے کرنے والی معمولی تعلیم یافتہ میری آنٹی کو لوگ محض ایک ہاؤس وائف سمجھتے ہوں، مگر میں انہیں اسلامی تہذیب و تمدن کی آرکیٹیکچر قرار دیتا ہوں کیونکہ تہذیب و تمدن کی تعمیر محض عمارتیں اور ان کے کے نقش ونگار بنا دینے کا نام نہیں بلکہ نسلوں کی تعلیم و تربیت، کردار و اخلاق اور زندگی کے ہر میدان میں ان کے رویوں سے اسکی تشکیل ہوتی ہے۔ ہر چیز کو محض مادی پیمانوں پر تولنے اور پرکھنے والوں کو شاید اس کی سمجھ نہ آسکے کہ اس دنیا میں ماؤں کا اصل کردار، کارنامہ یا ماحصل کیا ہوتا ہے۔


امت مسلمہ کی زبوں حالی اور تہذیبی کشمکش کے جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں پیدائشی مسلمان اور روایتی دیندار اکثر گھرانے جدیدیت اور مغربیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے سے قاصر رہتے ہیں اور ان کی اگلی نسلیں اسلامیت سے بالکل عاری ہوجاتی ہیں۔ ہمارے سامنے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والی نسلوں کی نسلیں غالب تہذیب اور ماحول کے مطابق ڈھل جانے اور جیسا دیس ویسا بھیس اپنانے کو ہی اپنی اصل کامیابی سمجھنے لگی ہیں، اور ان کے بزرگ اپنی اولاد کی اسلامی اصولوں کےمطابق تربیت کرنے میں اکثر اوقات بالکل ناکام ہیں یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ ایسے میں خالص اسلامی تہذیب و تمدن کا تحفظ کرنا صرف اللہ کی حمایت ونصرت سے اولوالعزم مسلمانوں کا ہی کام ہے۔ میری آنٹی کا کردار شروع سے ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ انھی کے بقول پہلے ان کے والدین نے بچوں کو دینی تربیت دی، پھر جماعت اسلامی سے متعارف ہونے کے بعد ان کے بھائی، بہن اور والدین بھی تحریک کا حصہ بن گئے۔ تاہم آنٹی عمر کے علاوہ فکر، شعور اور عمل کے اعتبار سے بھی سب سے آگے تھیں۔ اپنی چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ان کا اخلاص، کمٹمنٹ اور طریقہ کار ان کی فیس بک ٹائم لائن پر موجود ان کی اس تحریر سے ہوتا ہے۔ لکھتی ہیں:

''اسلامی جمیعت طالبات سےمجھے پیار ہے۔ جماعت میں رہتے ہوئے جمیعت سے تعارف تو تھا لیکن نزدیک سےجاننے کا موقع اس وقت ملا جب میری بیٹی کالج میں داخل ہوئی۔ جمیعت نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ لاہور کالج مسجد میں پروگرام ہوتے، بیٹی نے گھر آ کر تعریف کرنا، پھر کیا تھا کہ میری چاربیٹیاں تھیں، دس سال تک جمیعت یوں سمجھیے کہ اوڑھنا بچھونا تھی، کبھی شب بیداریاں، کبھی سالانہ اجتماع، کبھی کلاس ہو رہی ہے کبھی کوئی اجتماع یا ورکشاپ، میں منصورہ وقفہ میں جاتی، دیکھتی ان کا نظم وضبط، کام میں لگن، خالہ جان کہ کر سلام کرنا، بہت پیار آتا انہیں دیکھ کر، سابقات آتیں، تربیت کرنے میں ان کا بھی نمایاں رول تھا۔گھر میں چونکہ دینی ماحول تھا، نماز، روزہ، پردہ، دورہ قرآن، یہ تو کرتی تھیں مگر جمعیت کی خاص بات کہ وہ سونے کو کندن بناتی ہے۔ اللہ کے فضل سے میں دیکھتی بچیاں ساری رات کام کرتیں، ایک دن فجر کی نماز قضا ہوگئی، بچی کا منہ لٹکا ہوا، میںنے پوچھا کیا ہوا؟ کہتی کچھ نہیں، بعد میں کھانا نہ کھایا، پوچھنے پر بتایا کہ روزہ رکھا ہے سحری کے بغیر، میری خوشی کی انتہا تھی اور جمیعت کے لیے دعائیں، یہ اس کی تربیت تھی۔ ڈرائیور عبدالغفور جس کو چچا جان چچاجان کہتیں، ساری جمعیت لاہور کے چچا جان تھے، گھرکے فرد لگتے تھے، ان کی شفقت جمعیت کے لیے دینی تھی، گرمی کے دنوں میں بھاگے پھرتے، اللہ تعای انہیں بہت اجر دے۔ اللہ تعالی سےدعاہے کہ جمعیت پھلے پھولے، ہرگھر دین کا چرچا ہو اور نسلیں اسلام کی سپاہی بنیں۔ آمین۔''

یہ بھی پڑھیں:   مجھے اپنی ساس کے نقش قدم پہ ہی چلنا ہے - ثمینہ نعمان

طویل بیماری کے دوران بھی ان کی ٹائم لائن اور طرز انتخاب کو دیکھ کر ان کی بے پناہ متحرک اور ولولہ انگیز شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ معمولی تعلیم اور دیہاتی پس منظر کے باوجود انھوں نے اپنے وقت اور مواقع کا بھرپور استعمال کیا۔ سعودی عرب اور آسٹریلیا میں قیام کے دوران زبان اور کلچر کے فرق کے باوجود وہاں کے لوگوں سے بہترین تعلقات استوار کیے۔ ان کی ساری زندگی بہترین اخلاق، للہیت، مشرقی وضع داری اور بندوں کی خدمت سے عبارت تھی۔ میں جب کبھی ان سے ملنے گیا، وہ انتہائی محبت اور شفقت سے پیش آتیں۔ گھر اور جماعت کے کاموں کے علاوہ ان کا تمام رشتہ داروں، اہل محلہ اور غربا ومساکین کے ساتھ مثالی رابطہ اور تعلق تھا۔ اللہ نے انھیں انفاق فی سبیل اللہ کا خصوصی جذبہ عطا کیا تھا، وہ اتنا دل کھول کر لوگوں پر خرچ کرتی تھیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا۔

حرمین شریفین کی زیارت کے لیے اکثر بیقرار رہتیں۔ جدہ میں رہائش پذیر ان کے بڑے بیٹے نے پورے سال کے لیے ویزہ لے رکھا تھا۔ مگر بیماری کے سبب انھیں واپس آنا پڑا۔ دیگر کئی تکالیف کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ پھیپھڑوں کا عارضہ Lung fibrosis لاحق تھا جس کی وجہ سے انھیں دن رات مسلسل آکسیجن دی جانے لگی۔ مگر مرض کے لاعلاج ہونے کے سبب ان کی حالت مسلسل بگڑتی گئی۔ تقریبا 'آٹھ مہینے تک انھوں نے بےحد ہمت اور استقامت کے ساتھ تمام تکالیف کا سامنا کیا۔ ان کے علاج کے لیے ہر ممکن ذرائع استعمال کیے گئے، تمام اولاد نے خدمت کی سعادت حاصل کی، خصوصا بیٹوں کا سعودی عرب اور آسٹریلیا سے اپنی ملازمتیں تج کر اپنی والدہ کے علاج اور خدمت کے لیے آنا اور نواسے کا دن رات خدمت کے لیے وقف ہونا اور تمام بیٹیوں کا باری باری ڈیوٹی دینا نہایت قابل رشک تھا۔ مگر تمام تر کوششوں اور دعاؤں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکیں اور بالآخر 26 مئی 2019 کو ڈاکٹرز ہسپتال کے آئی سی یو میں رمضان کے مہینے کی پہلی طاق رات شروع ہوتے ہی کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کی موجودگی میں انھوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ اللہ تعالی انھیں بہترین انعامات سے نوازے۔ اور تمام اولاد کو ان کے مشن پر چلنے کی توفیق دے کر ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ ان کے پیار اور محبت کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔


دفترِ ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات

تھی سراپا دین و دُنیا کا سبق تیری حیات

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر

خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

مثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترا

نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا

آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے