صدر محمد مرسی کی 10 باتیں جو آپ نہیں جانتے - یاؤس سلیم

مشکلات و ہنگامہ خیزی کے دور میں پہلی ہلاکت ہمیشہ سچ و حقائق کی ہوتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ظالم و غاصب کا سب سے بڑا ہتھیار، حقائق کو اپنے ایجنڈے کے مطابق بدلنے کی صلاحیت و قوت ہے ۔ چونکہ سچائی کے بنا ہم درست و غلط کا فرق نہیں جان سکتے، سچائی کی عدم موجودگی میں، جھوٹ و ناانصافی ہی رہ جاتی ہے۔

آج کچھ ایسی ہی صورتحال مصر میں ہم پاتے ہیں جہاں قوم کے ایک منتخب صدر کو اغوا کیا گیا، ان کے حامیوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کیا گیا، قتل کیا گیا، پابندیاں لگیں، کچلا گیا، کٹہرے میں ان کے جرائم کی فہرست ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی گئی۔ دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کا نکتہ نظر کیا ہے؟ صدر مرسی یا تو ایک تباہ کن سانحہ کے مرکزی ہیرو ہیں یا پھر ایک اناڑی سازشی مجرم۔ تو اصل میں صدر مرسی کون ہیں ؟

ذیل میں دس حقائق درج ہیں جو محمد مرسی کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد دیں گے

1- حافظ قرآن
ایک حقیقت جس سے زیادہ لوگ روشناس نہیں، صدر مرسی حافظ قرآن تھے، یہ کوئی معمولی و عام کام نہیں، بلکہ انتہائی عزت و تعریف کے قابل عمل ہے۔ محمد ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔" ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد ﷺ نے فرمایا " اللہ کے ہاں بلند درجہ پانے کے لیے عزت کرو سفید ریش مسلمان بزرگ کی، صاحب قرآن کی جو نہ اس میں کچھ بڑھاتا ہے نہ گھٹاتا ہے، اور انصاف پسند حکمران کی ۔" یہ کیا ہی دلچسپ اوصاف کا مجموعہ ہے جس پر محمد مرسی پورے اترتے ہیں۔

2- ذہانت
اکثریت صدر محمد مرسی کو کوئی خاص ذہین نہیں سمجھتی۔ انھیں بار بار کنفیوز و کند ذہن بتایا جاتا ہے، ان کے نقاد ان کے کچھ فیصلوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف غصے کو فروغ دیتے ہیں، جیسے ٹیکسیشن یوٹرن ، الاقصر‎ کے گورنر کی نامزدگی اور عدلیہ کے خلاف لڑائی۔ تاہم زیادہ تر ثبوت مرسی کے اپنے نقادوں سے زیادہ قابل ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ وہ پی ایچ ڈی تھے، ایک پروفیسر اور Zaggazig یونیورسٹی کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔ اس سے پہلے امریکہ میں بہت سے پروجیکٹس پر کام کیا اور وہاں وزٹنگ پروفیسر تھے۔ انھوں نے کم وقت میں بہت زیادہ ترقی کی اور اپنے ساتھ ایسے انفرادی لوگ جمع کیے جو اپنی فیلڈ میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔

3- بطور صدر رہائش
مصر کے صدور کے لیے قاہرہ میں جا بجا محلات موجود ہیں۔ یہ وسیح رقبہ پر مشتمل اور حد سے زیادہ آراستہ محلات ہیں۔ جب صدر مرسی پہلی مرتبہ صدارتی محل آئے تو انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ان محلات میں سے کسی میں بھی قیام نہیں کریں گے۔ وہ صرف سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے ان محلات کو بروئے کار لانے کو بمشکل مانے، مگر رہائش انھوں نے کرائے کے ایک اپارٹمنٹ میں رکھی۔ یہاں ہم ایک ناقابل یقین منظر دیکھتے ہیں کہ ایک قوم کا صدر جس لفٹ کے ذریعہ اپنے فلیٹ جاتا ہے، اس کی دیواروں پر اسے اس کے خاندان کے قتل کی دھمکیاں لکھی ملتی ہیں۔ اس کا موازنہ دوسرے مسلم حکمرانوں اور رہنماؤں سے کریں، جن کے غسل خانے صدر کے گھر سے وسیح و عریض ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں۔

4- بیمار بہن کے علاج کے لیے خصوصی مرعات سے انکار
جب محمد مرسی صدر تھے تو اس دوران ان کی بہن شدید علیل ہو گئیں، جب وہ ان کی عیادت کو گئے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر انھیں یورپ یا امریکہ ٹرانسفر کر دیا جائے تو بہتر علاج ممکن ہے۔ محمد مرسی کی جانب سے فقط ایک حکم درکار تھا اور ان کو میڈیکل بنیاد پر ہیلی کاپٹر و سرکاری طیارہ مہیا کر دیا جاتا۔ انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "ان کے خاندان کو ان کے عہدہ کی بنا پر مصری عوام پر کوئی ترجیح یا سہولت نہیں مل سکتی۔ ان کی بہن کا انتقال ایک عام مصری کی طرح سرکاری ہسپتال میں ہوا۔

5- اذان کو تقریر پر ترجیح
صدر محمد مرسی کی ایک اہم تقریر کے دوران جب اذان کا وقت ہوا تو اذان کو نظرانداز کر کے تقریر جاری رکھنے یا اذان کے لیے ایک منٹ خاموش ہونے کے بجائے، مرسی نے فخر سے بلند آواز میں اذان کے الفاظ ادا کیے۔ اس کے اثرات حد سے زیادہ خون گرما دینے والے اور پر جوش تھے۔ نوجوان مسلمان نسل نے دیکھا کہ ان کے لیڈر اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔

6- بے گھر بیوہ
ایک بےگھر خاتون جو قاہرہ کی گلیوں میں سوتی تھی، ایک دن اس کے پاس ایک گاڑی رکی اور اس سے صدر مرسی خود اترے، انھوں نے اس سے پوچھا کہ وہ گلیوں میں کیوں سوتی ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ جب سے بیوہ ہوئی ہے، اپنے اپارٹمنٹ کا کرایہ ادا نہیں کر پائی، آخرکار اسے گلی میں آنا پڑا۔ صدر محمد مرسی نے کہا کہ "مصر میں کوئی ماں یوں اذیت میں نہیں رہے گی۔'' حکم جاری کیا کہ خاتون کے لیے ایک اچھا اپارٹمنٹ مہیا کیا جائے اور حکومت کی جانب سے اتنا وظیفہ کہ اس کا گزارہ بخوبی ہو سکے۔ بغاوت کے بعد وہ بیوہ پھر سے بے گھر ہوگئی۔

7- امدادی سرگرمیوں میں شرکت
انڈونیشیا میں جب تباہ کن سونامی سے ہزاروں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ وہ ایک امدادی مشن کے ساتھ وہاں پر تھے اور بچنے والوں کو ان کی تباہ شدہ زندگیوں کی نئی شروعات کرنے میں مدد کی۔ محمد مرسی مصر کے ان سازشی افراد کے گروہ سے نہیں ہیں جنھوں نے پہلے دن سے اپنی اور اپنے خاندان کی ترقی کے علاوہ کچھ اور نہیں کیا۔ صدارتی انتخاب جیتنے پر جب بشارالاسد نے انھیں مبارک کا پیغام بھیجھا تو محمد مرسی نے جواب دیا "میں تمھیں شام کی عوام کے منتخب نمائندے کی حثیت سے نہیں جانتا۔" وہ بے شمار معصوم لوگوں کے قاتل کے لیے کوئی نرم رویہ روا رکھنے کو تیار نہ تھے۔

8- دنیا کے سب سے کم تنخواہ والے لیڈر
ہم تاجروں، کھلاڑیوں اور دوسری بہت سی شخصیات کی آمدن کے حیران کن اعداد و شمار دیکھ کر سیاسی لیڈر کی آمدن سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ڈھیروں کماتے ہوں گے۔ ہمیں بالکل حیرت نہیں ہوتی جب ہم سابقہ صدور اور وزرائے اعظم کو نفع بخش کروڑ پتیوں کے گروہ میں دیکھتے ہیں۔ محمد مرسی اگر چاہتے تو بطور صدر اپنے اور خاندان کے لیے کثیر رقم جمع کر سکتے تھے۔ آخر وہ ایک کرایہ کے فلیٹ میں رہتے تھے، وہ ان کے لیے ایک گھر خرید سکتے تھے؟ پتہ مگر یہ چلا کہ صدر مرسی دنیا کے سب سے کم تنخواہ یافتہ لیڈر تھے۔ یہ دوبارہ پڑھیے "دنیا کے"۔ انھوں نے اپنی پورے برس کی تنخواہ 10،000 ڈالر رکھی۔ جب انھیں اغوا کیا گیا تو علم ہوا کہ انھوں نے اپنی تنخواہ وصول ہی نہ کی تھی۔ وہ بغیر معاوضے کے کام کرتے رہے۔

9- باجماعت نماز فجر
صدر محمد مرسی اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ کسی بھی قومی اجتماع اور روز مرہ روٹین میں مسجد میں نماز نہ چھوٹے یہاں تک کہ بغاوت کے حامیوں میں ان کی یہ عادت ایک مذاق کے طور پر جانی جاتی۔ ان کے خیال میں یہ عبادت و نیکی صرف دکھاوا تھا۔ ان کے اعتراض کو نظرانداز کرتے صدر محمد مرسی نے کبھی عبادت کو نہ چھوڑا، اکثر جمعہ کے خطبہ میں ان کو روتا ہوا دیکھا گیا۔

10- کوئی تصاویر نہیں
زیادہ تر عرب ڈکٹیٹرشپس کی طرح مصر میں بھی ہر عمارت پر ان کے "خیرخواہ" لیڈر کی تصویر آویزاں ہوتی ہے۔ آپ مصر میں جہاں بھی جائیں تو پہلے مبارک اور اب سیسی آپ کی جانب دیکھ رہا ہوگا۔ جب مرسی صدر منتخب ہوئے تو حکم جاری کیا کہ ان کی تصویر کسی سرکاری عمارت میں آویزاں نہیں کی جائے گی اور گزشتہ حکمرانوں کی تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ اللہ کے نام آویزاں کیے گے۔ اس پالیسی کو اب پھر بدل دیا گیا ہے اور بہت سے مصری پھر سے اپنے فرمانراؤں کی پرستش کر رہے ہیں۔

جنگ میں سب سے پہلی ہلاکت سچ کی ہوتی ہے۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ سچ ان دس نکات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ کچھ غلطیاں بھی ہوئیں جنھیں صدر محمد مرسی نے بھی تسلیم کیا۔ لیکن بھلے آپ کو ان سے محبت ہے یا نفرت، مجھے امید ہے کہ ان حقائق سے آپ کو اس آدمی کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو اس نفرت و محبت کے پیچھے کھڑا ہے۔ مجھے امید ہے یہ نکات آپ کو سچائی کی جانب لے کر جائیں گے۔

(ترجمہ : محسن شہزاد)