سوشل میڈیا پر پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے 10 اہم نکات - سہیل بلخی

پہلی بات : واٹس ایپ کے اپنے انٹرنل چھوٹے گروپوں میں بہت زیادہ وقت لگانے اور ہر وقت بحث کرنے کے بجائے مین سٹریم میڈیا ٹوئٹر اور فیس بک پر وہی وقت لگائیں جو سمندروں سے بھی بڑے اور گہرے ہیں۔ واٹس ایپ کے ایک انٹرنل گروپ میں اگر دو سو افراد ہیں اور ہر کوئی دو گھٹنے اس گروپ پر لگاتا ہے توروزنہ چار سو گھنٹے اور ماہانہ بارہ ہزارانسانی گھنٹے برباد ہو رہے ہیں۔ ان دس بارہ ہزار اور بیس ہزار گھنٹوں کو فیس بک اور ٹوئٹر پر استعمال میں لا کر بہت فوائد پہنچایا جاسکتے ہیں۔

دوسری بات: ادارے / پارٹی ورکرزکو دو چار لائنیں، کوالٹی کونٹینٹ بنانے، اچھے مواد کو ترجمہ کرکے اپنی زبان میں بیان کرنے اور مختصر وڈیو بنانی آنی چاہیے۔ اداروں کے پاس اس کی ٹریننگ کا بجٹ ہونا چاہیے۔ میڈیا پر گونگے اور خاموش لوگ کیا فائدہ دے سکتے ہیں؟ خاص کر لیڈر شپ کو اس کی مختصر اور ضروری تربیت کی فوری ضرورت ہے اور ان کے لیے دو چار گھنٹے کی تربیت ہی کافی ہے، جو ان کے لیے ہی ڈیزائن کی گئی ہو۔

تیسری بات: سوچیے کہ بعض ادارے تو پانچ دس ہزار ورکرز تک رکھتے ہیں، اگر یہ کسی موضوع کو اٹھانے کا سوچ لیں، اور ایک ہی وقت میں پانچ دس ہزار افراد گھروں سے نکل کر چند روز تک روزانہ ایک، دو تین منٹ کی ویڈیو بنا کر پھیلائیں تو وہ پیغام تو پورے پاکستان کے موبائل پر نظر آسکتا ہے۔ بہترین انداز میں ملک کے چپے چپے میں پھیل سکتا ہے۔ ان پڑھ اور مزدور طبقہ جو پڑھ نہیں سکتا وہ بھی ویڈیو سنتا ہے۔ اس سے پہلے یہ موقع کب موجود تھا؟ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی، انگریزی اور اردو انگریزی، ہر زبان میں آپ کی پارٹی / ادارے کے پیغامات پھیل رہے ہوں گے۔ ہر جماعت ہر ادارے کے پاس شاید اتنے ورکرز موجود ہی نہ ہوں مگر وہ بھی فائیور وغیرہ پر لوگ ہائر کر کے صرف 5 ڈالر میں ایک وڈیو لگوا سکتے ہیں کسی کی وال پر۔ جس کے جتنے ورکرز ہیں اتنے ہی موبائل، یہ اس کی اسٹرینتھ ہے۔

چوتھی بات : دوسروں کے خلاف نہ کمنٹ کریں نہ پوسٹ لگائیں.. بربادی ہے وقت کی اور اصل میں آپ انکو جواب دیکر کمنٹ لکھ کر ان ہی کو پروموٹ کر رہے ہوتے ہیں .اس پوسٹ پر جتنے کمنٹس ہونگے اسکی انگیجمنٹ جتنی بڑھے گی فیس بک اور ٹوئٹر کے فارمولے کے لحاظ سے اسکا ویٹ اتنا ہی بڑھے گا اور اور وہ پوسٹ فارمولے کے لحاظ سے مزید لوگوں کے سامنے آئے گی ... جس کا زیادہ ذکر ہو رہا ہے ہے اسکو فائدہ ہو گا .. جو ڈسکس ہو گا وہ آگے جائے گا ... آپ اپنی پارٹی کی باتیں کریں، اپنی پارٹی کو ڈسکس کروائیں ۔۔۔اپنے دوستوں کی پوسٹ پر کمنٹ کریں ری ٹوئٹ اور شئیر کریں اسکے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ہر وڈیو پر کمنٹ لکھ کر اسکا وزن بڑھائیں ۔۔۔دوسروں کو اور۔خاص کر جن سے مسابقت یے انکو مکمل نظر انداز کریں جیسے کہ وہ آپ نے دیکھا ہی نہیں۔۔😀.. اپنی بیوقوفی اور کم علمی سے دوسروں کو پروموٹ نہ کریں ....

پانچویں بات: اپنے ادارے / پارٹی / کمپنی کی سروسز، منشور، دعوت اور مختلف مہم کے اہم نکات زبانی یاد رکھیں، انھی نکات پر فوکس رکھیں، اور انھی کو پروموٹ کریں۔ اپنی پوسٹ اور ٹویٹ کو دوسروں کی نظر سے دیکھیں۔ آپ کو اپنے رہنما سے عشق ہے عام لوگوں کو نہیں۔ ان کی تصویر یا آوے آوے یا وہی سب سے بہترین ہے، کی گردان سے کوئی دوسرا آپ کے رہنما کا دیوانہ کبھی نہیں بنے گا بلکہ آپ کے بارے میں اس کی رائے یہ ہوگی کہ یہ ایک سرکاری بھونپو ہے۔ آپ کی اہمیت اس کی نظروں میں نہیں بڑھے گی اور نہ ہی اس سے آپ کے ادارے کو فائدہ ہوگا۔ اس کے بجائے اپنے رہنما کے پیغام کو اجاگر کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے رہنما یا پارٹی کی مہم میں ہے کہ وہ شجر کاری کی بات کرے گی، ملک کو سرسبز و شاداب بنانا اس کے پروگرام میں ہے تو آپ شجر کاری کی ایکٹیویٹی کی تصویر اور وڈیو شئیر کیجیے اور تحریر میں اسکی بات کیجیے۔ کسی شہر کے کسی خاص مسئلے کو اجاگر کریں اور اور جب کئی پوسٹس میں تواتر سے اس کو دہرا چکے ہوں، لوگوں کو سمجھا چکے ہوں، اور لوگ سمجھ جائیں کہ واقعی یہ تو وہاں کا ایک بڑا مسئلہ ہے، تو اپنی پارٹی کی اس ایشو سے متعلق کوی ایکٹیویٹی شئیر کیجیے۔ سوفٹ سیل کو سمجھیے، ہارڈ سیل کا زمانہ نہیں۔ زمانہ واقعی بدل چکا ہے، اکثر چیزوں کی جگہ نئی چیزیں آچکی ہیں، نئے انداز سے نئے زمانے کے اذہان کو متاثر کیا جاسکتا ہے، کچھ پرانے طریقے اب اگر استعمال کریں گے تو فائر بیک ہی ہوگا۔ ان پر کبھی الگ سے بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   منگیتر کوئی رشتہ نہیں ہے - نیر کاشف

الیکشن کے دنوں میں ایک قومی اسمبلی کے امیدوار کی سوشل میڈیا ٹیم سے باتیں کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ الیکشن میں چند روز باقی ہیں مگر ابھی تک ایک بھی ایسی پوسٹ نظر سے نہیں گزری جس میں پتہ چلے کہ یہ صاحب اسمبلی جانے کو تو بے چین ہیں مگر وہاں جاکر کیا کریں گے، ان کے پاس کیا پروگرام ہے؟ یہ ان کی ٹیم بھی بیان کرنے سے قاصر ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر میں آپ کی ٹیم میں کام کروں تو میں شروع ہی اس سے کروں گا کہ امیدوار کے ساتھ دو چار روز وقت گزاروں گا، ان کے ساتھ جگہ جگہ آؤں جاؤں گا اور نوٹ کروں گا کہ ان کی کون سی باتیں ایسی ہیں جو لوگ سننا چاہتے ہیں؟ ان کی ٹارگٹ آڈینس کیا ہے؟ ان کی گفتگو کے اہم جملوں اور ان کے پروگرام سے نکات بنا کر مختصر پوسٹ اور ایسی وڈیو ریکارڈ کروں گا جس میں ان کو بتادوں گا کہ اس سوال کا جواب ایسے دیں، یہ بات کریں، فلاں موضوع پر بات بالکل نہ کریں اور فلاں پر مزید بولیں۔ میڈیا ہی مہم بناتی ہے اور چلاتی ہے۔ اور بغیر محنت اور ٹریننگ کے، جو مہم چلے گی وہ مخالفین ہی کی مدد کرے گی، آپ کی نہیں۔

چھٹی بات: اپنے اپنے گروپس بنائیں فیس بک پر۔ پانچ ہزار دس ہزار اور بیس ہزار عام لوگوں کو شامل کریں۔ کسی خاص موضوع پر، کھیل، باغبانی، ٹیکنالوجی اور دیگر موضوعات پر اور وہاں جب آپ کو ایک پلیٹ فارم ملے گا تو آپ چونکہ ایڈمن ہوں گے تو غیر محسوس طریقے سے کوئی لیبل لگائے بغیر آپ ایک ایسی پوسٹ بھی ڈال سکتے ہیں کہ ہمارے فلاں امیدوار بھی اس گروپ کے ممبر ہیں اور وہ انتخاب لڑ رہے ہیں یا گروپ کے موضوع کے لحاظ سے ان کا کوئی بیان یا ویڈیو پیغام میں یہاں آپ لوگوں سے شئیر کر رہا ہوں۔ آپ کی کوئی سوشل میڈیا میں جائیداد ہی نہیں۔ آپ کے فالوورز نہیں، جو آپ کو سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ چیزیں آپ نے محنت کر کے earn نہیں کیں تو نہ آپ اپنے لیے سوشل میڈیا استعمال کرسکتے ہیں نہ دوسروں کی نظر میں آپ کا کوئی influence ہے۔ یہ دور influencers کا ہے، اشتہاری ایجنسیوں کا نہیں۔ پیپسی بولڈ کے اشتہار میں پاکستان سے اگر یوٹیوبر عرفان جونیجو اور دیگر کو لیا گیا ہے تو آپ کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ کیا چل رہا ہے اور کیا بند ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا کی طاقت - سعد فاروق

ساتویں بات : بڑے بڑے گروپس کو بھی جوائن کریں اور وہاں صرف پارٹی کی چیزیں مت فارورڈ کریں، حصہ لیں اور اپنی رائے دیں دلائل اور احترام سے۔ لوگ آپ کو فالو کریں گے اور آپ کو احترام دیں گے۔ سوشل میڈیا پر میرٹ اور محنت ہے، چاچے مامے کے پتروں کی کوئی جگہ نہیں۔

آٹھویں بات : صرف پارٹی کا بھونپو مت بنیں۔ آپ کی ہر پوسٹ صرف پارٹی کے آوے آوے کے لیے نہ ہو۔ لوگوں کو کچھ انفارمیشن دینے والے بنیں۔ لوگوں کو معلومات، مسکراہٹ اور خوشیاں دیں، ان سے پھڈے مت کریں۔ ان کو "رگڑا" دینے کے کارنامے مت سر انجام دیں۔ اچھا کونٹینٹ کیسے تیار ہو؟ اس پر تفصیل سے الگ بات ہونی چاہیے۔ مختصر یہ کہ لوگ آپ کو دوست بنانے پر مجبور ہوں فیس بک پر نہ کہ پارٹی کا بھونپو سمجھ کر دور بھاگیں۔

نویں بات : اپنے پروفائل کی تصویر اور کور پیج کو سادہ رکھیں کہ عام لوگ وہاں رکتے ہوئے آسانی محسوس کریں اور آپ کے مزید قریب آئیں۔ دروازوں پر نواز شریف، عمران خان اور سراج الحق کے لیبل لگا کر لوگوں کو قریب آنے سے نہ روکیں۔ کالج یونورسٹی کو بھول جائیں جہاں سینوں پر بیجز لگا کر اور ہوسٹل کے دروازوں پر اسٹکرز لگا کر لوگ اپنے قبضے اور ہولڈ کا اظہار کرتے تھے، وہ پرانا دور تھا۔ جب اس زمانے کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کو گھروں سے نکال دیا تو یہ لیبل ازم کو بھی چھوڑ دیں، عام لوگوں میں ان کے ساتھ مکس ہوکر رہیں اور دلوں پر قبضے جمائیں، بغیر لیبل کے بڑے بڑے کام ہو جاتے ہیں۔ لیبل لگا کر ہم لوگوں کو روکتے بھی ہیں کہ پاس مت میں آنا۔

دسویں اور آخری بات : سوشل میڈیا پر کوئی غلط تبصرہ بھی کرے تو اسے ہائیڈ کر دیں، ڈیلیٹ کر دیں خاموشی سے یا رہنے دیں مگر اسی لہجے میں جواب نہ دیں۔ کوئی رسپانس دینے سے ایسے لوگ توجہ پاکر مزید لکھیں گے۔ ہو سکتا ہے آپک ے عام دوستوں کو آپ کی یہ ادا اچھی لگے کہ آپ نے برداشت کیا اور صبر کیا اور جواب نہیں دیا۔ کوئی آپ کی بات نہیں سمجھتا اور بلاوجہ آپ کی توجہ لینا چاہتا ہے۔ ایک فرد سے سوال جواب پر نہ الجھیے۔ وہی وقت ایسی چیز بنانے پر لگائیں جس سے دس ہزار لوگ کچھ سمجھیں۔ فیس بک نے ان فرینڈ اور بلاک کے آپشن استعمال ہی کے لیے دیے ہیں نا ؟ کافی بحث اور سوچ بچار کے بعد یہ فیچر شامل کیے گئے ہیں، انسانی رویوں اور مسائل کو ہینڈل کرنے کے لیے ہی بنائے گئے ہیں، ان کا استعمال گناہ نہیں۔ سب سے آسان اور کار آمد چیز ہے کہ کسی فرد کی پوسٹ کو 30 دنوں کے لیے اپنے آپ سے دور رکھیں۔

یاد رکھیں! جس زمانے میں ہم جی رہے ہیں، اس کے میڈیم اور اس کے میڈیا کو سمجھے بغیر استعمال نہیں کرنا، سمجھ کر اور پڑھ کر اور ہوسکے تو سیکھ کر ہی استعمال کرنا ہے۔ کچھ کرنے کا وقت ہے۔ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ ہر فرد جس کے چار پانچ ہزار دوست اور فالوورز ہیں وہ ایک میڈیا ہاوس ہے، اپنی ذمہ داریوں کو خود سمجھیں۔ انتظار نہ کریں کہ فلاں بھائی کچھ "بنا" کر بھیجیں گے تو آپ اس کو فارورڈ کریں گے۔ آپ بہت اچھی نہ سہی، درمیانے درجے کی بات کر سکتے ہیں۔ یہی وقت ہے۔ یہی آج کے اخبار اور رسالے اور ٹی وی ہیں، اسے نیکیاں پھیلانے میں ڈٹ کر استعمال کیجیے۔