لائف اور وائف اور ایک ’’مظلوم،، صحافی- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک ادبی اور سماجی شخصیت نامور شاعر اور سرگرم خاتون عمرانہ مشتاق نے ایک علمی ادبی اور سماجی تنظیم بنائی ہے اور اس کا نام لائف رکھا ہے۔ ہر آدمی نے اس نام کی تعریف کی ہے اور اس کی معنویت کے مطابق کام کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔
میرے ذہن میں اچانک یہ بات چمکی کہ لائف کے حوالے سے صرف ایک لفظ ہر ذہن میں آتا ہے۔ وائف۔ میرا خیال ہے کہ یہ لفظ دل میں آنا چاہئے۔ وائف کو بھی لائف کی طرح کردار ادا کرنا چاہئے۔ نوجوان سماجی شخصیت نازش یعقوب نے کہا لائف انسان کے ساتھ وہی کچھ کرتی ہے جو وائف کرتی ہے۔

ایک بہت رنگا رنگ مختصر مگر جامع تقریب عمرانہ نے منعقد کی۔ جس میں شاندار خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ تنظیمیں بنتی ہیں پھر ختم ہو جاتی ہیں مگر عمرانہ کے ارادوں میں پکے وعدوں جیسی استقامت دکھائی دیتی ہے۔ دانشور ادیب اور لفظوں کے کھلاڑی برادرم نواز کھرل نے بہت تخلیقی انداز میں کمپیئرنگ کی۔ میرے خیال میں اچھا کمپیئر محفل میں جان ڈال دیتا ہے۔
میں جہاں بیٹھا تھا وہ فطری طور پر سٹیج بن گیا اور مجھے صدر سمجھ لیا گیا حالانکہ اس کا اعلان بھی نہ کیا گیا مگر میرے ساتھ محبتوں میں کوئی روشنی صاف چمک رہی تھی۔ نواز کھرل عمرانہ کا بھی دوست ہے۔ اُس سے بہتر کمپیئر اس محفل میں نہ تھا۔ جس محفل میں وہ ہو تو کمپیئرنگ اُسے ہی کرنا چاہئے۔ وہ دوستوں کو عزت دینا جانتا ہے اور اس کے مطابق لفظوں کا انتخاب اُسے آتا ہے۔ وہ ایسا ماحول بھی بناتا ہے کہ مقررین حوصلے کے ساتھ بات کر سکیں۔

ہارون آباد بہاولنگر سے آئی ہوئی ایک شاندار تاثر کی خاتون شعر و ادب کے ساتھ خلوص کے ساتھ رابطے رکھنے والی مریم ناز خاص طور پر شریک ہوئی۔ اُس نے اپنی دو خوبصورت غزلیں سنائیں اور خوب داد سمیٹی۔ اس کی شخصیت میں ایک ملائمت اور محبت کا امتزاج بھرا ہوا ہے۔ ایک پسندیدگی اور کشادگی اس کے طرز عمل میں ہے۔ وہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہے اور ایک بھرپور زندگی لاہور سے بہت دور ایک شہر میں گزار رہی ہے۔ وہ لاہور آتی رہتی ہے۔ برادرم جمشید امام پر اعتماد کرتی ہے۔ آج بہادر آدمی جمشید امام کچھ کچھ بدلا ہوا تھا میرے ساتھ اس کا محبت کا تعلق بہت پرانا ہے۔ وہ تحریک انصاف کے بانی ارکان میں سے ہے مگر تحریک انصاف نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
میں بہت دکھ سے کہہ رہا ہوں کہ ہماری برادری کے ایک محترم اور معزز صحافی سمیع ابراہیم نے اپنے تمام کولیگز کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے بہت شرافت کے ساتھ تھپڑ کھایا اور رونے دھونے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ جس طرح وزیراعظم عمران خان نے سوائے نوٹس لینے کے کچھ نہیں کیا۔

یہ بھی درست ہے کہ فواد چودھری نے مجبور ہو کے یہ کام کیا ہو گا۔ مریم نواز کے بقول ایسی ہی کوئی مجبوری تھی کہ عمران خان اقتدار میں آ گئے۔
مجھ تک یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ برادرم سمیع ابراہیم نے فواد چودھری کے خلاف ایک بے بنیاد خبر چلائی۔ متنازعہ خبر کے لیے تحقیق کر لینا چاہئے۔ کہا گیا کہ فواد چودھری اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی میں جا رہے ہیں۔ اس کے ردِعمل میں فواد چودھری نے عملی طور پر یہ ’’خبر،، چلائی۔ انہوں نے واقعی سمیع ابراہیم کو تھپڑ دے مارا۔ فواد جواب میں کچھ بھی کرتے مگر یہ نہ کرتے۔ اس کے جواب میں سمیع ابراہیم بھی کچھ تو کرتے۔ فواد چودھری کو تھپڑ نہ مارتے۔ ایک چانٹا ہی دے مارتے۔ مارنے کی جرأت اور تربیت نہ تھی تو چانٹا ہوا میں ہی چلا دیتے کسی بھی عمل کی اداکاری کی جا سکتی ہے۔ اس سے کچھ تو عزت رہ جاتی۔

ہم سمجھتے کہ نشانہ خطا ہو گیا۔ اصل خطا یہ ہے کہ سمیع نے اس کے لیے احتجاج کیا جو زیادہ شرمناک ہے۔ بچے تو یہی کرتے ہیں کہ رونے لگ جائیں۔ اس سے بڑا احتجاج کوئی نہیں۔ مگر سمیع ابراہیم نے جس طرح احتجاج کیا اس سے بھی شرم آئی اس طرح تو بچے بھی نہیں کرتے۔
میں پوری طرح سمیع ابراہیم کے ساتھ ہوں وہ میری برادری کا آدمی ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے یہ تو ایک رشتہ ہے۔ سمیع کو اس رشتے کی لاج رکھنا چاہئے تھی۔ پوری برادری نے اپنی ہتک محسوس کی۔ سمیع نے خبر دی کہ شہباز شریف برطانیہ میں شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ واپس پاکستان نہیں آئیں گے۔

مگر کچھ بات اس کے علاوہ بھی ہے۔ بہرحال سمیع ابراہیم کو تھپڑ ایک سوال رہے گا اور جواب گم رہے گا۔ اس کے بعد سمیع نے اپنے آپ کو مظلوم اور فواد کو ظالم بنانے کی کوشش کی۔ سمیع نے کسی صحافی کے لیے یہ گنجائش ہی نہیں چھوڑی کہ وہ اپنے کالم کا یہ موضوع رکھ سکے۔ میں اُن کو نہیں چھوڑوں گا۔ عمران نے اب تک کسی کو پکڑا ہی نہیں۔ نواز شریف اور عمران خان کے کسی کو پکڑنے میں کچھ تو فرق ہونا چاہئے۔ نواز شریف کے مقابلے میں لوگوں کی پسندیدگی عمران خان کے لیے ہے۔

سمیع ابراہیم پر افسوس ہے کہ انہوں نے بغیر تخقیق کے خبر کیوں دی کہ فواد چودھری اپنے ساتھ بارہ، پندرہ بندے لے کے پیپلز پارٹی میں جا رہے ہیں۔ دوسری خبر سمیع نے یہ دی کہ شہباز شریف لندن سے پاکستان واپس نہیں آئیں گے۔ شہباز شریف لندن سے پاکستان آ گئے۔ فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کو تھپڑ دے مارا۔ بات ختم پیسہ ہضم۔ مگر یہ خبر میڈیا پر کس نے چلائی۔ برادرم سمیع ابراہیم اس آدمی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جس نے یہ خبر میڈیا پر چلائی۔ فواد چودھری بھی اس نیک کام میں اس سے تعاون کر رہے ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے مگر برادرم فواد چودھری ایک تنازعہ سیاستدان کے طور پر کیوں مشہور ہو رہے ہیں۔
میں نے فواد کو مرشد و محبوب مرحوم مجید نظامی کے قرب میں دیکھا تھا۔ وہ ایک شریف آدمی کی طرح لگ رہے تھے۔ سمیع ابراہیم کے لیے میں اتنا جذباتی نہیں ہوں مگر یہ نہ ہو کہ وہ کسی اور صحافی کے ساتھ زیادتی کر بیٹھیں؟