مرسی کا دردناک انجام- نصرت جاوید

’’اخوان المسلمین‘‘ کو یقینا سید قطب کے بعد سابق صدر مرسی کی عدالت میں دل کے دورے کے سبب ہوئی وفات سے ایک اور ’’شہید‘‘ مل گیا ہے۔ صرف مصر ہی نہیں مشرق وسطیٰ کے ان تمام ممالک میں جو تیل کی دولت سے مالا مال نہیں، بے تحاشہ آبادی کے حامل ہیں اور اپنے کئی علاقوں میں برسوں سے قحط سالی کا شکار ہیں، مرسی کی دردناک موت طویل المدتی بحران میں مزید شدت پیدا کرے گی۔ ترکی کے ’’سلطان اردوان‘‘ اپنے ملک میں قائم عربی زبان میں نشریات کے ذریعے ’’بغاوت‘‘ کی آگ بھڑکانے والے نیٹ ورکس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

مرسی پر الزام یہ بھی تھا کہ اپنے مختصر دورِ صدارت کے دوران اس نے قطر کے ’’جاسوس‘‘ کی طرح کام کیا۔ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال قطر کے پاس ’’الجزیرہ‘‘ بھی ہے۔ چند ہی برس قبل تک وہ مشرقِ وسطیٰ کے ہر شہر میں دیکھا جاتا تھا۔ عراق اور لبنان میں ہوئی جنگوں کے دوران میں نے برباد ہوئے قصبوں کے چائے خانوں میں بھی صرف اس کی سکرین دیکھی۔ شام ان دنوں بشارالاسد کی آمریت تلے بہت ہی ’’مستحکم‘‘ ملک نظر آتا تھا۔ وہاں بھی الجزیرہ کی نشریات مقبول ترین تھیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اب یکسو ہو کر اس نیٹ ورک کا توڑ نکال لیا ہے۔ اپنے بچے کھچے اثر کو یہ نیٹ ورک بھی مرسی کی موت کو دل دہلا دینے والا سانحہ دکھاتے ہوئے اجاگر کرے گا۔

فی الوقت مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ مصر کی موجودہ حکومت اس واقعہ کو کیسے ’’سنبھالتی‘‘ ہے۔ ’’اخوان المسلمین‘‘ کے ہزاروں متحرک کارکن وہاں ’’باغی‘‘ ٹھہراتے ہوئے مار دئیے گئے ہیں۔ سینکڑوں کئی برسوںسے جیل میں ہیں۔ ’’آزاد میڈیا‘‘ کا مصر میں کبھی وجود ہی نہیں تھا۔ نام نہاد ’’عرب بہار‘‘ نے ٹویٹر کے استعمال سے جلوے دکھائے۔ ’’عرب بہار‘‘ کے ہولناک انجام کے بعد مگر اب بے تحاشہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن کے ذریعے عالمانہ تحقیق کی بدولت علم سماجیات اور سیاست کے ماہرین نے ٹویٹر کے ذریعے برپا ہوئے ’’انقلاب‘‘ کی محدودات کو دریافت کرلیا ہے۔ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد فیس بک اور ٹویٹر کو ’’روس اور چین‘‘ کی جانب سے Fake Newsکے ذریعے لوگوں کو ’’تخریبی‘‘ راہ پر لگانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

امریکہ اور یورپ میں Privacyکا احترام کئی حوالوں سے مذہبی عقیدے کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ان ممالک کے عام شہریوں کی اکثریت بہت شدت سے یہ محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے کہ ان کے سمارٹ فونز پر میسر Appsاشیائے صرف کی مارکیٹنگ کرنے والوں کے روبرو ان کی ذاتی زندگی کے ہر پل کی مصروفیت کو عیاں کردیتے ہیں۔اس سوچ نے فیس بک اور ٹویٹر کو معذرت خواہانہ انداز اپنانے پر مجبور کردیا ہے۔گوگل کا سرچ انجن بھی صارفین کو یہ اعتبار دلانے کی لگن میں مبتلا ہے کہ وہ اس سہولت کو ’’محفوظ‘‘ بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔

سوشل میڈیا کی Reachسے گھبرائے امریکی اور یورپی شہریوں کے دلوں میں جاگزیں خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر جیسے ممالک کی حکومتیں سوشل میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا جواز حاصل کرچکی ہے۔ ’’اخوان المسلمین‘‘ کے مصر میں اب بھی موجود حامی یقینا یہ چاہ رہے ہوں گے کہ سابق صدر مرسی کو ایک بے پناہ ہجوم کی موجودگی میں سپردخاک کیا جائے۔ مصرکی حکومت نے اس امکان کی بیخ کنی کے لئے امن وامان کو یقینی بنانے والے اداروں کو High Alertپر جانے کا حکم دیا ہے۔مجھے خدشہ ہے کہ شاید اب ’’الرٹ‘‘ کی بدولت مرسی کے ساتھ ’’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘ والا معاملہ ہوسکتا ہے۔

’’اخوان المسلمین‘‘ کے نظریہ سے میں ذاتی طورپر کبھی متاثر نہیں ہوا۔ میرے ذہنی ارتقاء نے اس کیمپ میں دھکیل دیا جسے ’’لبرل‘‘ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ خود کو اس کیمپ میں ’’موجود‘‘ پاکر اگرچہ اکثر یہ خیال آتا ہے کہ کئی حوالوں سے میں اب بھی کافی ’’قدامت پسند‘‘ ہوں۔ اپنے معاشرے کی چند روایتوں کی معدومیت پریشان کردیتی ہے۔ کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جہاں ’’سمجھوتہ‘‘ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔

2003میں لیکن مصر میں دس روز صرف کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔ اپنے ایک بہت ہی سینئر محمود شام صاحب اور The Nationکی بہت ہی محنتی،ذہین اور ایمان دار مدیر مرحومہ عائشہ ہارون کے ہمراہ مجھے وہاں کی حکومت نے سرکاری طورپر مدعو کیا تھا۔ سرکاری نگرانی میں ہوئے اس دورے کے دوران بھی بہت سے ایسے پہلو دیکھنے کو ملے جن کا تذکرہ عالمی میڈیا میں نہیں ملتا تھا۔

حسنی مبارک ان دنوں مصر کا فرعونی جاہ وجلال والا صدر تھا۔ اپنے قیام کے تیسرے روز ہی مگر انداز ہ ہوگیا کہ مصر کے عوام کی اکثریت کو یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنے فرزند -جمال- کوولی عہد کی صورت ان پر مسلط کرنا چاہ رہا ہے۔ اس کے خلا ف جو لاواپک رہا تھا اسے گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں سے گفتگو کے ذریعے تھوڑا جان لینے کی وجہ سے برسوں بعد پھوٹنے والی ’’عرب بہار‘‘ نے مجھے ہرگز حیران نہیں کیا۔

اس ’’بہار‘‘ کے نتیجے میں مرسی کو مصر کا واقعتا آزادانہ انتخاب کے ذریعے اپنے ملک کا پہلا صدر ہونا نصیب ہوا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد مرحوم صدر اور ان کے حامی اس حقیقت کا لیکن ٹھوس ادراک کرتے نظر نہیں آئے کہ انہیں ریفرنڈم جیسے انتخاب میں صرف 51فی صد لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔49فی صد کی گرانقدر تعداد ’’اخوان المسلمین‘‘ کی ’’نظریاتی‘‘ ترجیحات سے خوفزدہ نظر آئی۔ مرحوم صدر اور ان کی جماعت نے پڑھے لکھے اور شاید ’’لبرل‘‘ کہلاتے متوسط طبقے کی اکثریت کے دلو ں میں موجود تحفظات کو دور کرنے کا تردد ہی نہیں کیا۔ حقیقت جبکہ یہ رہی تھی کہ یہی طبقات’’عرب بہار‘‘ کا ہر اوّل دستہ بھی رہے تھے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لئے ’’سمجھوتے‘‘ لازمی تصور ہوتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کا نیلسن منڈیلا دیوانہ نہیں تھا کہ برسوں تک نسل پرست حکومت کا قیدی رہنے کے باوجود اس نے انقلاب برپا ہونے کے بعد Truth and Reconciliation Commissionکے قیام کے ذریعے تقریباََ وہی رویہ اپنایا جو ہمارے رحمت العالمین نبی پاکؐ نے فتح مکہ کے بعد اختیار کیا تھا۔

فقط 51فی صد کی حمایت سے آپ اپنی جماعت کی ’’نظریاتی سوچ‘‘ کو ریاستی اور حکومتی بیانیہ قرار دے ہی نہیں سکتے۔ ایسا کرتے ہوئے مرحوم صدر مرسی اور ان کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگاتی نظر آئی۔بالآخر اپنے ’’تحفظ‘‘ کے لئے یہ مخالفین ایک اور ’’عرب بہار‘‘ برپا کرنے کی راہ پر چل نکلے۔ مصر میں کامل انتشار کی کیفیات نمودار ہونا شروع ہوگئیں اور اس مقام پر ’’نظام کہنہ‘‘ کو برقرار رکھنے کے لئے ریاست کے طاقت ور ادارے اپنی قوت کے بھرپور ااستعمال کا جواز ڈھونڈلیتے ہیں۔

مرسی کی سوچ جو بھی رہی ہو۔ اس کے دردناک انجام نے مجھے ادا س کیا ہے۔ دل سے فقط یہ دُعا اُٹھ رہی ہے کہ پاکستان کی ووٹوں کی محروم سیاسی اشرافیہ اس سے سبق سیکھتے ہوئے ’’سمجھوتوں‘‘ کی افادیت کا بروقت ادراک کر لے۔