کنارِ نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم- اوریا مقبول جان

وہ سرزمین ہے جہاں تاریخ انسانی کے متکّبر، جابر اور ظالم فراعین مصر کے روبرو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی آواز گونجی تھی، وہاں گزشتہ ایک سو سال سے ایک قافلہ حق ہے جوشہادت کی مشعل کو اپنے خون سے روشن کئے ہوئے ہے۔ اخوان المسلمون کا قافلہ۔ جس نے ایک بار پھر محمد مرسی کے خون سے اس قندیل کی لو کو ضو فشانی بخشی۔ شہادتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جن پر آنسو بہاتے اور انکی قربانیوں سے حوصلہ لیتے ہوئے زندگی کے پچاس سال بیت گئے۔ شاعری کی جس کتاب کو میں نے مدتوں اپنے دل کے بہت قریب پایا وہ نعیم صدیقی کی "پھر ایک کارواں لٹا" تھی جو اخوان المسلمون کے شہیدوں کی یاد میں خون دل سے لکھی شاعری تھی۔ اس کتاب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر جو نظم کہی گئی وہ آج تک یاد کے دریچوں سے جھانکتی رہتی ہے میرے حضورؐ دیکھئے پھر آگیا مقام غم بہ سایہ صلیب پھر بھرے ہیں ہم نے جام غم کنارِ نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لْٹا ہر ایک صدی کے دشت میں ہمیشہ کارواں لٹا بدستِ دشمناں نہیں بدستِ دوستاں لٹا اخوان المسلمون کی شہادتوں پر لکھی گئی یہ نظم شہید کربلا سیدنا امام حسینؓ کے فرزند سیدنا امام زین العابدینؓ علی بن حسین کی اس شاعری کی یاد دلاتی ہے جو انہوں نے سانحہ کربلا کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے لکھی تھی اِن نَلتِ َا رِحَ الصَّبَا َومًا اِلٰ اَرضِ الحَرم بَلِّغ سَلاَمِ رَوضَۃً فَِا النَّبِّْ المْحتَرَم (اے بادِ صبا، اگر تیرا گزر سرزمینِ حرم تک ہوتو میرا سلام اس روضہ کو پہنچانا جس میں نبیِ محترم تشریف فرما ہیں) نیل کے دریا نے بھی ابتدائے آفرینش سے حق و باطل کے لاتعداد معرکے دیکھے ہیں۔زمین پر اکڑ کر چلنے والے فرعونوں کا کّروفر اور بنی اسرائیل پر ادبار اور ظلم کی طویل رات ، اسی سرزمین کا قصہ ہے۔

غلامی کی طویل تاریخ جس میں بنی اسرائیل کے بیٹے ذبح کردیے جاتے تھے اور بیٹیاں زندہ رکھی جاتیں۔لیکن پھر اسی سرزمین نے ابوالہول اور اہرام مصر کے وارث رعمسیس کو سمندر کے شوریدہ پانی میں غرق ہوتے بھی دیکھا۔ وہ سرزمین جس کے حاکم مقوقس کے نام رسول اکرم ﷺنے اپنا مکتوب حضرت حاتبؓ بن ابی بلتعہ کے ہاتھ ارسال کیا۔ اس خط میں میرے آقا نے فرمایا "اگر آپ نے اسلام قبول کرلیا تو اللہ آپ کو دوہرا اجر عطا فرمائے گا" مقوقس بہت متاثر ہوا اور جوابی خط کے ساتھ رسول اکرم کی خدمت میں دو کنیزیں ، حضرت ماریہؓ اور حضرت سیرینؓ روانہ کیں جو راستے میں حضرت حاتب کے اخلاق سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئیں۔ سیدہ ماریہ نے حرم نبوی میں داخل ہونے کا اعزاز پایا اور انکے بطن سے رسول اکرم ؐکے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ آپؐ نے اسی مصر کے بارے میں فرمایا "جب تم ملک مصر فتح کر لو تو قطبی قوم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا (مسلم)"۔ اسی مصر کے بارے میں فرمایا "مصر پر اہل روم (مغرب) کی طرف سے پابندیاں لگائی جائیں گی (مسلم)۔ پھر فرمایا "عرب اسوقت تک خراب نہ ہو گا جب تک مصر خراب نہ ہو گا" (الفتن)۔ ایک اور جگہ فرمایا "سب سے پہلے فساد مصر اور عراق میں ہوگا" (کتاب الفتن)۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے امام بوصیری بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور دربار رسول ؐبیٹھ کر مشہور قصیدہ تحریر کیا، جسکی پذیرائی رسول اکرم ﷺ نے عالم رویا ء میں چادر مبارک عطا فرما کر کی اور یہ رہتی دنیا تک قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہوا۔

سید الانبیاء ﷺکی آخر زمانہ سے متعلق احادیث کے مصداق جب اہل روم نے مصر پر پابندیاں لگائیں، تو مارچ 1928ء میں ایک نئے قافلہ حق کی بنیاد رکھنے کا اعزاز سید حسن البناء کو حاصل ہوا۔ وہ وقت جب قومی ریاستوں کے قیام سے دجالی نظام اپنی جڑیں پکڑ رہا تھا،حسن البناء کی اخوان المسلمون نے حق و صداقت کی مشعل اٹھائی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ادھر جدید مغربی تہذیب کا طاغوت منظم ہوا اور ادھر اخوان المسلمون کی دعوت مسلم دنیا میں پھیلنے لگی۔ 1945ء میں مصر میں اخوان کے باضابطہ ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔ اب برطانیہ کی ٹوڈی اور کاسہ لیس مصری حکومت نے اخوان پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ 8 دسمبر 1948ء کو ایک فوجی حکم سے اخوان پر پابندی لگائی گئی اور 12 فروری 1949ء کو حسن البنا کو شہید کر دیا گیا۔ یہ شہادت خطے میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام سے صرف تین ماہ قبل ہوئی اور پھر شہادتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس عظیم تحریک نے ایک عظیم المرتبت قائد، ایک سحر انگیز مفسرِ قرآن اور جدید مغربی تہذیب کے مقابل کھڑے ہونے والے مجاہد کو جنم دیا۔ سید محمد قطب، جسکی تفسیر "فی ظلال القرآن" آج کے جدید سیکولر لبرل اور کیمونسٹ نظریات کا رد قران سے بیان کرتی ہے۔ کیرن آرمسٹرانگ کے مطابق 1951ء میں جب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریر یں مصر میں شائع ہونا شروع ہوئیں تو انہوں نے اخوان المسلمون کی قیادت کو متاثر کیا۔یہ قیادت محمد عبدہ اور سید قطب تھے، جنہوں نے جہاد کو جدید مغربی تہذیب کی "جاہلیت" سے جنگ کا نام دیا۔یہ جاہلیت جو مسلم تہذیب پر حملہ آور تھی۔ سید قطب اور اسکے ساتھیوں پر جیل کی صعوبتیں جو مغرب نواز حکومت نے شروع کی تھیں، جمال عبدالناصر کے روس نواز فوجی انقلاب کے بعد مزید بڑھ گئیں۔

خاتون مجاہدہ ، زینب الغزالی کی روداد قفس پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اب سید قطب کے نظریات نے اس بات کا اعلان کردیا تھا کہ سیکولر اور مذہبی لوگ ایک معاشرے میں امن سے نہیں رہ سکتے۔ وہ جدید سیکولر مغربی تہذیب کے بارے میں تحریر کرتے ہیں" دور حاضر میں انسانیت ایک بہت بڑے چکلے میں جی رہی ہے۔ اسکا ثبوت اخبارات، فلموں، فیشن شوز، حسن کے مقابلوں، رقص گاہوں، میخانوں اور نشریاتی سٹیشنوں پر صرف ایک نگاہ ڈال کر مل سکتا ہے۔ یا عریاں جسموں کی مجنونانہ نمائش، ہیجان انگیز جسمانی زاویوں کے مشاہدے، ادب و فنون اور ابلاغ عامہ میں مریضانہ اشارے۔ سب سے بڑھ کر سود کا نظام جس نے انسان میں دولت کی ہوس کو فزوں تر کر دیا ہے"۔ اس نظام کے مقابلے میں اخوان المسلمون کے دو نعرے تھے ، اللہ غایتنا (اللّٰہ ہمارا مقصد) اور والرسول زعیمنا (رسول ہمارا قائد)،یہ نعرے باطل اور طاغوت کے دل میں تیر بن کر اترتے تھے۔ جمال عبدالناصر کی سوشلسٹ فوجی حکومت نے سید قطب پر مقدمہ چلایا۔ فوجی عدالت میں بغاوت کا مقدمہ۔ طاغوت کے مقابلے میں شریعت کی سربلندی کا مقدمہ۔ 29 اگست 1966 ء کو فجر کے وقت انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ نعیم صدیقی نے اسی شہادت کا نوحہ لکھتے ہوئے رسول اکرم ﷺکی اس حدیث کا ذکر کیا تھا۔ رسول اکرمﷺ کے وہ الفاظ جو آپؐنے ایک صحابی کو قبر میں اتارنے والے اصحاب سے کہے "ادبا من اخاکما"( اپنے بھائی کا ادب کرو)۔ نعیم صدیقی نے سید قطب کی شہادت پر اس حدیث کے حوالے سے لکھا تھا "ادب سے اس نعش کو اتار دو، رسن کاحلقہ ادب سے کھولو"۔

آج محمد مرسی اسی پرچم کو تھامے، اسی حق کے راستے کی مشعل اٹھائے شہیدوں کے قافلے میں شامل ہو چکا ہے، لیکن شاید کوئی نعیم صدیقی جیسا نوحہ نہ لکھ سکے۔ کیا مرسی ایک آمر تھا، نہیں، وہ 65 فیصد ووٹ لے کر آیا تھا۔ کیا وہ دہشت گرد تھا، نہیں، وہ تو ایک منتخب حکمران تھا۔ وہ جو 2000ء سے پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوتا چلا آ رہا تھا۔ جس نے دنیا بھر میں پرامن جدوجہد کے ذریعے انقلاب کی تاریخ التحریر سکوائر کے مشہور دھرنے سے رقم کی تھی۔ لیکن جدید دنیا کے کسی جمہوری سیکولر اور لبرل شخص یا جمہوریت کی ٹھیکیدار حکومت کو ہرگز قابل قبول نہ تھا۔ اس لئے کہ اسکی جمہوریت میں مصر کو جدید تہذیب کے بڑے چکلے کی صورت میں نہیں ڈھالاجا سکتا تھا۔ مرسی کا مصر ، اہرام ،فرعون اور رعمسیس کا ترجمان نہیں بن سکتا تھا۔ اسی لیے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کوبزور قوت ہٹا دیا گیا اور وہ بھی ایک سیکولر فوجی ڈکٹیٹر کے ذریعے۔ دنیا بھر کی جمہوریتیں اور مسلمان بادشاہتیں اسکے خلاف تھیں۔ لیکن اللہ کی قسم وہ کامیاب ہوگیا۔ یقینا اس پر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے وہ آخری الفاظ صادق آتے ہیں جو انہوں نے محراب مسجد میں ابن ملجم کی تلوار کا وار کھانے کے بعد کہے تھے "فزتْ برب کعبہ" (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا)۔ اخوان۔ جن کا نعرہ "اللہ غایتنا "ہو ان کے ہاں کامیابی کا معیار آخرت کی سرخروئی ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیابی اللہ کے ہاں سرخروئی کی علامت نہیں۔ روز حشر اللہ کے حضور ہزاروں پیغمبر ایسے ہوں گے جنکے پیچھے ایک بھی امتی نہیں ہوگا۔ کیا وہ ناکام ہوگئے۔ نہیں۔ ان سے زیادہ کامیاب کون ہے۔