شہادت:‌مطلوب ومقصود مومن... ڈاکٹر فیاض عالم

سامری سانپ میری سمت بڑھے آتے ہیں
زور اعصائے کلیم و ید بیضا مددے

ہزاروں کتب میں لاکھوں بار لکھ دیا جائے کہ شہادت کی موت سب سے عظیم موت ہے-
سیکڑوں مقررین اپنی جوشیلی تقریروں میں کہتے رہیں کہ شہادت سب سے بڑی قربانی ہے-
لیکن شہادت کی عظمت سمجھ میں اسی وقت آتی ہے جب محمد مرسی جیسا کوئی اللہ کا بندہ اپنی جان نچھاور کرکے عالم انسانیت کو گواہ بناتا ہے اور کہتا ہے کہ
"رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا"

کراچی کے سب سے بہادر فرزند ڈاکٹر پرویز محمود نے ایک بار کہا تھا کہ
بستر پر کسی بیماری سے لڑتے ہوئے مرے تو کیا مرے؟

اللہ نے اس شیر کو سرفراز کیا اور اس نے کراچی کے لوگوں کو ظالموں سے بچانے کی جدوجہد میں سینے اور سر پر گولیاں کھائیں اور جان جان آفریں کے سپرد کردی!

محمد مرسی رحمتہ اللہ علیہ نے امریکہ و اسرائیل کے غلام اور مصر کے نئے فرعون سیسی کے مظالم کے آگے سر نہیں جھکایا ورنہ جلاوطنی کی سزا دے کر انہیں بھی کہیں بھیجا جاسکتا تھا اور زندگی جیل کی سلاخوں سے آزاد ہوکر گذر سکتی تھی لیکن پھر ۔۔۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کو فلسفہ شہادت اور عظمت شہادت کا سبق کون یاد دلاتا؟

کون یاد دلاتا کہ ہر جان کو فناء ہونا ہے لیکن جو جان اللہ کی راہ میں قربان کی جائے وہ فنا نہیں ہوتی بلکہ ایسا فرد ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوجاتا ہے-

خالق کائنات خود فرماتا پے کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے"

زندہ ضمیروں والے یہ عظیم لوگ وہی ہیں جن کے بارے میں کہا کہ
پکار دو کہ اٹھی ہے شہید کی میت !!
زمانہ پیچھے چلے اور سرجھکا کے چلے

یہ بھی پڑھیں:   ’’اخوان‘‘ آصف محمود

یقینی طور پر ہر غیرت مند مسلمان امت کے ایک عظیم قائد کی مظلومانہ شہادت پر غمگین ہے- ہر آنکھ نم ہے اور ہر دل بوجھل ہے لیکن ۔۔۔ اپنوں کی جدائ کا غم تو پیغمبروں تک کو ہوا کرتا تھا۔

دنیا کے سب سے پاکیزہ اور وقت کے حسین ترین نوجوان حضرت یحیحی ابن ذکریا کی گردن جب تن سے جدا کردی گئ اور وہ شہید کردیئے گئے تو کیا ان کے والد گرامی قدر، اللہ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت ذکریا کی آنکھیں اشکبار نہ ہوئی تھیں؟

کیا اپنے معصوم صاحبزادے کی موت پر اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو نہیں آگئے تھے؟
بلاشبہ وہ صبر و استقامت کے بلند و بالا پہاڑ تھے اور ہر غم پر صبر کرنا ان کی سنت بھی ہے اور ہدایت بھی ۔۔۔ ہم بھی رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں گے اور ان کے چہیتے غلام محمد مرسی شہید کی شہادت کے غم پر صبر کریں گے لیکن اللہ کے حضور یہ دعا بھی ضرور مانگیں گے کہ
اے رحیم و کریم
اے مالک کون و مکاں
اے جبار و قہار!
سیسی جیسے فرعون تیرے بندے موسی کے ساتھیوں کو تہہ تیغ کررہے ہیں ہم ان کے لئے تیرے قہر کے طلب گار ہیں۔
انہیں بھی دریائے نیل میں غرقاب فرمادے۔

یاالہی!
مصر کے مظلوموں کو ان کے ظلم و جبر سے نجات عطا فرمادے۔ اور امت مسلمہ کو ڈاکٹر محمد مرسی جیسے غیرت مند رہنما عطا فرمادے، آمین۔ کیونکہ امت کی رہنمائی بزدلوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔ جو حاجیوں کی خدمت کو ہی جہاد سمجھ بیٹھے ہیں۔ جن کے کانوں میں برما اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی چیخیں اور سسکیاں نہیں پہنچ پاتیں!