سوچنے کی ہمّت کیجیے - شبیر بونیری

سوچنے کی ہمت کیجیے۔ ہر طرف طوفان ہے ۔ انسان ،حیوان اور ارض وسماء کے بیچوں بیچ سب چیزیں تنکوں کی طرح اڑ رہے ہیں ۔ خبر کسی کو کسی کی نہیں بس موت کی تیاریاں ہیں ۔ لہجوں میں تلخیاں ، رویّوں میں سختیاں اور ذہنوں میں تشنگیاں ہوں تو فرق از خود مٹ جاتا ہے انسان و حیوان کا ۔

آپ کسی ایسے طوفان کا تصّور کیجیئے جس میں چاروں طرف نقصان ہی نقصان ہو اور پھر ذرا ہمّت کرکے خود سے پوچھ ہی لیجیے کیا کرنا ہوتا ہے ایسے حالات میں جب ہر کسی کا مقدر موت ہی ٹہرا ہو ۔ کیا موت کو گلے لگانے کے لمحات تلخ سے بھی تلخ نہیں ہوتے ؟ مشکل ہے بہت خود کو کسی برے انجام کا ذمّہ دار ٹہرانا لیکن جب خود ہی اسباب بنائے جارہے ہوں تو پھر انکار کی کوئی صورت تو باقی بچتی ہی نہیں ۔ ہم تو ابھی بھی نوزائیدگی کے دور سے گزر رہے ہیں ۔

کون ہے جو یہ بونگی ہانک رہا ہے کہ ہم ہی ٹہرے پوری دنیا کے سالار ۔ کون ہے جو پلاننگ کرکے ہمیں ان افواہوں کا شکار بنا رہا ہے کہ ہم ہی وہ ہیں جنہیں اس پوری دنیا کو ٹھیک کرنا ہے اور خاص طور پر اسلامی دنیا کے لئے ہم نے ہی امامت کے فرائض سر انجام دینے ہیں ۔ ہم سے تو بائیس کروڑ کی یہ آبادی کنٹرول نہیں ہو پارہی ۔ پورا ملک تو ایک طرف ہم تو ہمسائیوں کے ساتھ بھی تلخیوں کا سہارا لے کر زندگی گزار رہے ہیں ۔ اپنا محلہ سنبھال نہیں پارہے اور نکل پڑے ہیں انقلاب کا طوفان برپا کرنے ۔ طوفان یوں اچانک نہیں آتے بلکہ کھبی کھبار تو لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی کے مصداق عذاب مقدر بن ہی جاتے ہیں ۔

کیسی اسلامی دنیا اور کیسا اسلام ،کیسی اچھی معیشت اور کیسا عدل کا نظام سب بے کار کی باتیں ہیں جب تک گریبانوں کے بٹن کھول کر اندر کا نظارہ نہیں کیا جاتا ۔

سوچنے کی ہمت کیجیے ۔ ہم خود کہاں کھڑے ہیں اور جہاں کھڑے ہیں کیا بہت جلد کسی گہری کھائی میں گر نہیں جائیں گے ۔ پچھلے ایک ہفتے سے مسلسل مملکت خدادا پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے شہریوں سے ملاقاتیں ہوئیں مجال ہے جو کسی نے یہ کہا ہو کہ ہم ہی ذمہ دار ہیں اس گلے سڑے نظام اور بوسیدہ زندگی کے دن رات کے ۔ ہر کوئی یہی راگ الاپتا رہا یہ سارے چور ہیں تبھی تو اللہ کی مہربانیاں ہوا میں لٹکی ہوئی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئی پوچھے تو کہنا ..... محمد نورالہدیٰ

یہی نوحہ ہر کسی سے سنا فلاں فلاں غدار ہے اور اس غداری کی سزا موت ہے جب تک ان غداروں کو سفر آخرت پر روانہ نہیں کیا جاتا تب تک ایسے ہی ہزار طوفان چوکھٹوں پر وارد ہوں گے ۔ اللہ گواہ منجھے ہوئے علمائے دین اور سنجیدہ سیاست دانوں سے لے کر بیوروکریسی اور مسجد کے آئماء تک سب نے دوسروں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا اور یہی رونا رویا کاش ہماری زندگیوں میں فلاں فلاں منافق نہ ہوتے تو خوب صورت زندگی کے مزے لیتے۔منحوس ہوائیں اتنی زور سے چلے گی کبھی سوچا نہ تھا ۔ کیا صحافی، کیا ڈاکٹر ، کیا وکیل، کیا انجنئیر ،کیا سکول کا ایک معصوم طالب علم ، کیا دن دیہاڑے دوسروں کو لوٹنے والا راہزن ، کیا پانچ وقت کے نمازی ، کیا ہر سال حج کرنے والے ، کیا استاد اور کیا پل پل رزق کے ایک نوالے کے لئے ترسنے والے غریب سب ببانگ دہل خود کو دودھ کے دھلے اور دوسروں کو اللہ کے عذاب کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اوپر سے شکوے ہزار۔

میرے اللہ ہم پر تو رحمتوں کا نزول بند نہ کر ہم تو ٹہرے آپ کے سیدھے سادھے بندے جن کو فکر ہر لمحہ تیری رضا کی ہوتی ہے ۔ کیسا عجیب طوفان ہے کہ جس میں سب کچھ داو پر لگ رہا ہے لیکن اقرار جرم اور اللہ کی طرف رجوع سے پوری قوم کوسوں دور ہے ۔

سوچنے کی ہمت کیجیے کیا ایسی ہی زندگی چلے گی ۔زیادہ دور نہیں جاسکتے ہم ہماری اپنی ہی تاریخ میں کیا طوفان کم تھے جو مزید طوفان برپا کرنے کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ حکومت وقت بھی وہی پرانی روش پر ساکن جھوٹ کے پلندوں میں غرق بار بار یہ دہائیاں دے رہی ہے کہ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا لیکن سب کچھ ٹھیک ہی نہیں ہورہا بلکہ دن بہ دن بگاڑ کی طرف حالات جارہے ہیں ۔

بجٹ میں وہی پرانے وعدے ، وہی پرانے دعوے کہ جن کو سچ کرنے میں ابھی عمر درکار ہے ۔ کیا یوں نہیں ہوسکتا کہ سب اپنا پنا بوجھ خود اٹھانے کی ہمت کریں۔ کیا عجب معاملہ ہے ذاتی طور پر گھر کے سامنے پڑا کچرا اٹھانے سے پوری قوم عاری اور سینہ کوبی اتنی زیادہ کہ اللہ کی پناہ ۔ ہم سوچنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے کہ اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا بار خود اٹھانے کی کوشش کریں تو مسائل تھوڑے بہت حل تو ہو ہی جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئی پوچھے تو کہنا ..... محمد نورالہدیٰ

دفتر میں بیٹھا کلرک ، کلینک میں بیٹھا ڈاکٹر ، کلاس میں موجود استاد ، والدین ، سیاستدان ، کھلاڑی ،بیوروکریٹس غرض ہم سے ہر کوئی اگر خود ہی اپنی چیزوں اور معاملات کو ٹھیک کرنا شروع کردیں تو کیا ضرورت باقی رہ جائے گی۔ اسلام آباد میں موجود ان لوگوں کی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمیں زندگی دینے کے وعدے کرتے نہیں تھکتے ۔

سراب سائے کے پیچھے بھاگنا ہی ہے یہ امید لگا کر بیٹھنا کہ کوئی اور آئے گا اور مجھے ہی ٹھیک کرے گا ۔ ایک بچے نے کہانی سنائی۔ سن کر مزا آیا ۔ کہتا ہے میرے والد استاد ہیں ۔ ہفتے میں دو دن اسکول جاتے ہیں اور باقی دن اپنے کاروبار کی دیکھ بال اور آوارہ گردی میں گزر جاتے ہیں ۔ جب بھی فارغ ہوتے ہیں حکمرانوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں ۔ میں پوچھتا ہوں ۔ آپ کیوں ہر وقت غصّہ کرتے ہیں ۔ آنکھیں نکال کر غراتے ہیں ۔ اس ملک کا نظام حکمرانوں ہی کی وجہ سے بگڑا ہوا ہے ۔

آپ سوچنے کی ہمت کیجیے ۔ کیا یوں ہی زندگی چلے گی ۔ ہم ایک بار تہیّہ کر ہی کیوں نہیں لیتے خود کو خود بدلنے کا ۔ معاملہ عجیب ہے بھی ویسے ۔ ہر چیز کے لئے حکمران کو مورود الزام ٹہرانا ہماری عادت بن گئی ہے ۔ گھر کے باہر گند ہمسایہ پھینکتا ہے اور ہم شروع ہوجاتے ہیں ۔ کاش کوئی نجات دہندہ ملے ۔ اپنے کام سے غداری ہمارا ہی تو شیوہ ہے لیکن ذمہ دار ٹہراتے ہیں حکرانوں کو ۔ کیوں نہ ایک بار خود اپنے ہی گریبان کے بٹن کھول کر نظارہ کرنے کی تکلیف اٹھائے ۔ ایک بار ایسا کرنے میں مزہ آہی جائیگا کیونکہ رب تعالیٰ بھی تو فرماتے ہیں میں کسی کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہیں بدلتا۔