محمد مرسی کو ان کے آبائی قبرستان میں دفن کرنے نہیں دیا گیا

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو منگل اٹھارہ جون کو قاہرہ کے نزدیک سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایک روز قبل وہ عدالت میں سماعت کے دوران شہید ہوگئے تھے .

مرسی کے بیٹے عبداللہ نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ ان کے والد کو اخوان المسلمین کے دو رہنماؤں کے ہمراہ مغربی قاہرہ کے ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے۔ مرسی کے بیٹے نے مزید لکھا کہ سکیورٹی حکام  نے ان کے والد کو  ان کے  آبائی قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی۔ عبداللہ نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا،'' ہم نے اپنے والد کو تورا جیل کے ہسپتال میں غسل دیا اور ہسپتال کی مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد انہیں نصر شہر کے قبرستان میں اخوان المسلمین کے دو رہنماؤں کی قبروں کے برابر سپرد خاک کر دیا گیا۔‘‘

مورسی 2012ء  میں جمہوری طور سے منتخب ہونے والے پہلے صدر  تھے لیکن  اگلے سال ہی فوجی بغاوت کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ مرسی کی شہادت کے بعد وزارت داخلہ نے  ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے۔ اخوان المسلمین کا قیام 1928ء میں عمل میں آیا تھا۔ 2011ء میں اخوان المسلمین پہلی مرتبہ فریڈم اینڈ جسٹس کے نام سے بطور سیاسی جماعت اُبھرے تھے اور اس کے سربراہ محمد مرسی تھے۔