دیکھیں ۔۔۔ محشر برپا ہے! بلال ساجد

اُدھر وہ کھڑے ہیں جنہوں نے مسجدِ الحرام کی صفائی کرنے اور حاجیوں کو پانی پلانا ہی عبادت سمجھا اور اپنے آپ کو خادم الحرمین شریفین کہلانا اپنی بخشش کی ضمانت سمجھا!
دوسری جانب وہ ہیں جن کی زندگی کسی امام کے انتظار میں گزری، لیکن یہ انتظارِ امام ۔۔۔ حاضر و موجود سے بے زار کرنے والا انتظار نہ تھا بلکہ اس انتظار کی کوکھ سے بارہا قومی ریاست اور قومی مفاد برآمد کیا گیا!

تیسری جانب وہ کھڑے ہیں جنہوں نے سعی و جہدوحہد کی بجائے حکمت و دانائی کے نام پہ غالب نظام سے مفاہمت کی اور کامیاب و کامران زندگی گزاری!
چوتھی جانب وہ کھڑے ہیں جو شخصی آزادیوں اور جمہوری اصولوں کا درس اس واسطے نہ دیتے تھے کہ وہ شخصی آزادی اور جمہوریت کو درست سمجھتے تھے بلکہ وہ تہذیبِ غالب سے ایسے مرعوب و مبہوت تھے کہ اُن کے فلسفہ و فکر کے سانچے میں ہر وہ چیز درست قرار پاتی جو تہذیبِ غالب کی سند یافتہ ہوتی اور ہر وہ خیال ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا جو غالب تہذیب کے نمائندوں کے ماتھے کی شکن کا باعث بنتا!

اور ۔۔۔ ایک کونے میں وہ چند لوگ کھڑے ہیں جنہوں نے یہ نعرہِ مستانہ بلند کیا کہ قرآن و سنت کی دعوت لیکر اٹھو اور ساری دنیا پر چھا جاو، جو ادخلو فی اسلم کافہ کی بات کرتے تھے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی فی ظلال القرآن گزارنے کے خواہش مند تھے ۔۔۔ یہ وہ تھے جنہوں نے زہرِِ ہلاہل کو قند کہنے سے انکار کیا، یہ وہ تھے جو آتشِ نمرود میں دانہِ اسپند نہ بنے اور یہ وہ تھے جو سنگ و خشت کی بجائے ہدایت خداوندی اور فرامینِ مصطفی کے مطابق ایک نئے جہاں کی تعمیر کرنا چاہتے تھے۔
مرسی ۔۔۔ آج انہی چند لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے اپنے سفر پہ روانہ ہوئے۔ اللہ رب العزت انہیں اپنی رحمتوں و نعمتوں کے سائے میں ڈھانپ لے اور ان کی جہدوجہد کو شرفِ قبولیت بخشے۔

یہ بھی پڑھیں:   محمد مرسی کو ان کے آبائی قبرستان میں دفن کرنے نہیں دیا گیا

میں اپنی زندگی کی اکتیس بہاریں دیکھ چُکا، دس، پندرہ، بیس شاید باقی ہوں ۔۔۔ زیادہ گزر گئی، تھوڑی رہ گئی، اللہ رب العزت نے مجھے میری اوقات سے زیادہ نوازا ہے، الحمد اللہ رب العالمین۔ بس اب اتنی خواہش ہے کہ محشر برپا ہو تو یہ جو تھوڑے سے لوگ ہیں، مجھے اِن کے ساتھ کوئی کونہ کھدرا عطا فرما دے۔

Comments

بلال ساجد

بلال ساجد

بلال ساجد کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ غلام اسحق خان انسٹیٹیوٹ سے انجینئرنگ کی ڈگری کے بعد جنوبی کوریا سے ماسٹرز اور ایم فل کیا۔ کتابیں پڑھنا اور کھانے کھانا پسندیدہ مشاغل اور سائنس و انجینئرنگ کے علاوہ ہر موضوع سے خصوصی شغٖف ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.