کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم - عالم خان

مرسی جی ہاں وہی پروفیسر ڈاکٹر محمد مرسی جو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے گرجتے ہوئے مخاطب تھے کہ جو ہمارے نبی [ص] کی عزت کرے گا ہم اس کی عزت کریں گے جو توہین کرے گا اس کی گردن اڑا دیں گے وہی مرسی جو علم و دانش کا پیکر تھے، حسن البناء شہید کے دعوت کا داعی اور اقامت دین کا کارکن تھے۔

وہی مرسی جو ساٹھ فیصد (٦٠٪؜) ووٹ لے کر پہلے منتخب صدر کا اعزاز رکھتے تھے وہی مرسی جو فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ ساتھ دنیا کے مظلوموں اور مسلمانوں کی مقبوضات کی بات کرتا تھا یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ عالمی سطح پر برابری اور مسلمانوں کی حقوق کی بات کرتا تھا کیونکہ اسے علم تھا کہ وہ بوٹ سے نہیں ووٹ سے آیا ہے۔

وہی مرسی جو یونیورسٹی میں پروفیسر، مسجد میں امام اور ایوان میں گرجتا ہوا سیاستدان ہوا کرتا تھا وہی مرسی جو عربوں کی آزادی اور حرمین کی تقدس کی بات کرتا تھا. غلامی کا قائل ہی نہیں تھا اس لیے مرد حر کی طرح جینا امت مسلمہ کو عموما اور عربوں کو خصوصا سکھاتا تھا۔

ان تمام محاذوں پہ لڑتا ہوا اکیلا مجاہد تھا اس لیے صیہونی طاقتوں کے ساتھ ساتھ عربوں نے اپنی اقتدار کے خاطر عصر حاضر کے فرعون جنرل سیسی کے خونی انقلاب کے زریعے آپ کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر پابند سلاسل کیا تھا.

کمال کا انسان تھا اپنے بچوں اور بیوی کے خاطر فرعون وقت سے مفاہمت کے لیے تیار نہیں تھا وہ رابعہ کے میدان میں نوجوانوں، بوڑھوں، بچوں، مرد اور خواتین کے جلے ہوئے لاشوں اور فوجیوں کے ہاتھوں نوجوان لڑکیوں کی لوٹی ہوئی عصمتوں کا حساب مانگ رہا تھا وہ غلامی کی زندگی پر جیل کے اندر اپنے تحریکی ساتھیوں کے ساتھ تنگ کوٹھریوں، جسمانی اور ذہنی اذیت والی زندگی کو ترجیح دیتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اخوان المسلمون کی خطا کیا تھی؟ محمد عامر خاکوانی

کمال استقامت کا پیکر تھا جب بھی کورٹ آتا تھا تو پھانسی کا حکم سننے کے باوجود ہنستا تھا چہرے پہ خوف اور پیشمانی کے بجائے مسکراہٹ ہوتی تھی اپنا مقدمہ خود لڑتا تھا جج اس کے سامنے بے بس تھے آج بھی فرعون کے ججوں کے سامنے لایا گیا بے ہوش ہوا اور پھر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا گویا کہ رب اپنے اس بندہ درویش اور مرد قلندر کو اور خوار نہیں کرنا چاہ رہا تھا اس لیے عزت کے ساتھ اپنے پاس بلا لیا۔

کنارے نیل چھا گئی
پھر ایک بار شامِ غم

آپ نے ظالم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا تھا اس لیے رب نے دنیا کے دلوں میں آپکی محبت ڈالی تھی آج ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل افسردہ ہے ڈاکٹر محمد مرسی آپ تو اپنے رب کے پاس چلے گئے لیکن مغرب کے نام نہاد جمہوریت پہ سوالیہ نشان چھوڑ گئے۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.