بہو کو بیٹی نہ کہا جائے - فاطمہ خان

عالیہ اپنی خالہ کی بہو تھی اور بہت چاہتوں سے بیاہ کر لائی گئی لیکن ساس کا بدلتا رویہ اسے موت کی وادی میں چپ چاپ کب چھوڑ آیا پتا ہی نہیں چلا۔ شادی کے دوسرے دن گھر کے تمام ملازمین کو نکال دیا گیا۔ احمد اپنے والدین کا سب سے بڑا اور لاڈلا بیٹا تھا۔ دیہات میں رہنے والا حمید اللہ کا یہ خاندان اپنے مال مویشی اور زمیندارے میں اپنی مثال آپ تھا لیکن رواج کے مطابق بیٹے نے مڈل تک تعلیم حاصل کی اور نوکری کے لیے دبئی چلا گیا۔

دو سال دل لگا کر اتنا کمایا کہ والدین کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ گھر میں ہر نئی ایجاد موجود تھی غرضیکہ کسی چیز کی کمی تھی بھی تو احمد کی کمائی سے پوری ہوئی۔ احمد کی شادی بھی بڑی دھوم دھام سے کی گئی۔ لوگ احمد کی بیوی کی قسمت پر رشک کرتے۔ احمد کی بیوی کو آئے چند دن گزرے کہ ساس جو کہ خالہ بھی تھی، بہو اور بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ سارا پیسہ جو احمد نے کمایا چھین لیاگیا۔ بے سروسامانی کی حالت میں در در بھٹکنے لگے۔احمد کو مہروں کی بیماری لاحق ہوئی، اب وہ دوبارہ دبئی جانے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ شاید اسی بات نے والدین کی تمام امیدیں خاک میں ملا دیں تھیں۔ احمد کے ماما جی نے حالات کی سنگینی کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی صلح کروائی۔ صلح زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ دونوں کے لیے زندگی تنگ کر دی گئی۔ اولاد کی امید لگی تو ایک بار پھر سے خالی ہاتھ گھر سے بے گھر کر دیے گئے۔ اللہ پاک نے بیٹے کی نعمت سے نوازا مگر خوشیاں ان سے کوسوں دور تھیں۔ بیٹے کی پیدائش کے بعد سے عالیہ بیمار رہنے لگی۔ ادھر شوہر کی والدین سے گرماگرمی سے پریشان رہنے لگی۔ ہر وقت رونے کے علاوہ اسے کوئی کام نہیں تھا۔ ساس کی جلی کٹی اور بیٹا چھین لینے کی باتیں اسے چین نہ لینے دے رہیں تھیں۔ احمدکے پاس بیوی کے علاج کے لیے ایک روپیہ نہ تھا۔ عالیہ کی بیماری اسے لمحہ لمحہ کھوکھلا کر رہی تھی۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ - پروفیسر جمیل چودھری

سوچ سوچ کر دماغ پھٹ رہا تھا مگر عالیہ کے لیے وہ مسکرا رہا تھا۔ احمد کام کی تلاش میں نکلا۔ کچھ دن بعد خبر ملی احمد نے خودکشی کرلی۔ ماں باپ رو رو کے بے حال ہوگئے۔ آج احمد کے والدین اپنا غرور خاک میں ملا چکے تھے۔ مگر بے سود۔ زندگی میں والدین نے لا وارث کر دیا۔ اس کی ہر چیز سے محروم کر دیا۔ احمد کی موت عالیہ سے اس کی زندگی بھی لے گئی۔ عالیہ کے دماغ کی نس پھٹ گئی اور وہ بیٹے کو اس دنیا میں اکیلا کرگئی۔

یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ روز ہی ایسے کئی واقعات ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ خصائل سے بھری بیٹی کے بہو بنتے ہی کئی خامیاں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ خود ساختہ ہوتی ہیں یا حقیقی یہ بات سب ہی اچھے سے جانتے ہیں۔ انسان معاشرتی حیوان ہے۔ انسان اکیلے زندگی نہیں گزار سکتا۔ اچھی اور بہترین زندگی گزارنے کے لیے اسے دوسروں کی مدد اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے۔ اگر فرد ہی مل کر نہ رہیں تو بنیاد یقینا کھوکھلی ہو گی۔ معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ جب لوگ مل جل کر رہتے ہیں، دکھ سکھ بانٹتے ہیں تو ایک صحت مند معاشرہ جنم لیتا ہے اور اسے پنپنے کے لیے رشتوں میں محبت اور قربانی کے جذبات درکار ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک اہم کردار بہو ہے۔ وہ لڑکی جسے ماں،باپ بچپن سے جوانی تک سر کا تاج بنا کر رکھتے ہیں، جب پرائے گھر جاتی ہے تو خود پرائی ہوجاتی ہے۔

والدین، بہن بھائی، سہیلیاں اور رشتے دار پل بھر میں بیگانے کہلائے جاتے ہیں۔
"سسرال ہی تمہارا اصل گھر ہے۔ بیٹی کبھی اس گھر کو چھوڑنا نہیں۔ ڈولی اٹھی ہے اب جنازہ ہی جائے گا۔"

والدین کی نصیحتیں بیٹی کا دل چیر دیتی ہیں۔ پیدائش سے اب تک کی ساری محبتیں، ساری ریاضتیں سسرال کے باہر دم توڑ جاتی ہیں۔ سسرال ایک نیا گھر جہاں نئے خواب لے کر آنے والی ہر لڑکی ان کے چکنا چور ہونے پر جیتے جی مر جاتی ہے لیکن پاک ہے وہ رب جس کے قبضے میں یہ جان ہے، بڑی حوصلہ مند تخلیق ہے عورت، جو کہ سہہ جاتی ہے، رک جاتی ہے، سہم جاتی ہے مگر گھر ٹوٹنے نہیں دیتی۔ اللہ رب العزت نے عورت کی تخلیق سے سکون کو تعبیر دیا ہے کہ یہ بیوی، بیٹی، بہن اور ماں ہر کردار میں سراپا سکون ہے۔ ماں ہے تو اس کی گود زمانے بھر کے دکھوں کا مداوی بن جاتی ہے۔ اس کے آنچل کی ہوا جنت کی معطر ہواﺅں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ بیوی ہے تو آنکھوں میں چھپے آنسوﺅں کو، دل میں دفن دکھ کو پل میں بھانپ کر اپنے پیار سے، محبت سے، دلجوئی سے حوصلہ دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مغربی تہذیب کا سفاک اور خوفناک چہرہ - پروفیسر جمیل چودھری

دنیا کی دوڑ دھوپ سے تھک جانے پہ اس کی مسکراہٹ صدیوں کی تھکن زائل کر دیتی ہے۔ بہن ہو تو ہر مایوسی کی لمحے میں کندھے پہ ایسی تھپکی دیتی ہے کہ امید اس مرجھائے ہوئے وجود سے کسی کونپل کی طرح نکلتی ہے۔ ابا کی ڈانٹ سے بچانے کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر مشکل لمحے میں ڈھال بن جاتی ہے۔ بیٹی ہے تو ایک نئی شروعات کرنے لگتی ہے۔ گھر کا ہر کام اس کی پسند اور مرضی سے ہونے لگتا ہے۔ باپ، بھائی، چاچا، ماما، دادا، نانا سب کی نظر کا نور ہوتی ہے۔ پل بھر آنکھ سے اوجھل ہو تو گھر کھانے کو دوڑتا ہے۔ رحمت الٰہی کا رتبہ پانے والی گھر کو رحمتوں اور برکتوں سے بھر دیتی ہے۔

آہ! ان سب کے ساتھ ایک مظلوم کردار اور بھی ہے، جسے نبھاتے نبھاتے عورت خاک ہو جاتی ہے مگر صلہ کچھ نہیں ۔ وہ کردار ہے بہو۔ معاشرہ تنگ نظر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بیٹے کی شادی ٹھاٹھ سے کرنا ایک عام سی بات ہے۔ لیکن افسوس کہ بیٹے کی نسبت سے آنے والی لڑکی جو کہ بہو(بیٹی) ہے اس کے لیے گھر اور گھر والوں کے دل دونوں تنگ ہوتے ہیں۔ یہاں قوسین میں بیٹی لکھنے کا مقصد سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ کہہ دینے سے ہو جانا ممکن ہے۔ ایک لڑکی جو ماں باپ، بہن بھائی سب رشتے ناتے چھوڑ کر آتی ہے۔ اگر اسے وہ عزت، محبت اور مقام نہ ملے تو وہ ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے۔ والدین کی انا نے دو زندگیاں چھین لیں۔ افسوس کہ معاشرہ تنگ نظر ہو گیا۔