محمد بلال خان ۔ بلاگر، ایکٹوسٹ ۔ ۔ ۔ اور اب شہید - محمودفیاض

جرگہ پاکستان کے اسلام آباد کنوینشن میں ملاقات ہوئی، جس کو ملاقات نہیں کہا جا سکتا۔ مگر اس کے بعد فیس بک پر تعلق بن گیا۔ پروگرام کی ریکارڈنگ کی کچھ ویڈیوز درکار تھیں تو اس سلسلے میں انباکس میں کچھ بات بھی ہوئی۔

اگلے دنوں میں فالو آپشن آن ہونے کی وجہ سے بلال خان کی پوسٹس سامنے آنے لگیں تو پتہ چلا کہ وہ ایک شعلہ جوالہ قلم کا مالک ہے۔ چند پوسٹوں کے بعد میں نے انفالو کر دیا کہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ابھی چیخوں کے مرحلے میں ہے، اسکے بعد سمجھنے اور سمجھانے کے مراحل آئیں گے۔ ۔ ۔ مگر افسوس یہ نہ ہو سکا، اور اسکو خاموش کروا دیا گیا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ اس کی روح کو آسودہ رکھے اور قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچائے۔ آمین۔
ایک افسوس مگر اور ہے۔ ۔ ۔ ابھی تک تمام دوستوں نے اسکی شہادت کو اس کے شدت پسند اظہار کے ساتھ جوڑ کر خاموشی اختیار کر لی ہے، جیسے یہی تو منطقی ہے ، کہ جو بھی شدت پسند اظہار رکھتا ہو، اسکو مار دینا اس معاشرے کی عام بات ہے۔ چاہے اداروں میں سے کسی نے مارا ہو، چاہے کسی مخالف نظریے والے گروہ نے، یا چاہے کسی نے اپنے ایجنڈے کے لیے لسٹ کیے ہوئے ناموں میں سے ایک کو آج استعمال کر لیا ہو۔

ایک انسانی جان کا جانا ہی ایک معاشرے میں المیہ ہوتا ہے۔ وہ انسان اگر معاشرے میں بہتری لا سکتا ہو تو اس کا جانا زیادہ بڑا المیہ ہوتا ہے۔ بڑا نقصان ہوتا ہے۔
کچھ لوگ بلال کے اس بیہمانہ قتل کو اس کے فوج مخالف بیانیے سے جوڑ رہے ہیں۔ اور شائد یہی اسکے قاتل چاہتے ہیں۔ ہماری قوم کے بیشتر حصے کا المیہ یہی ہے کہ وہ شدت جذبات میں ہمیشہ غلط نتیجے پر پہنچتے ہیں، اور استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ اللہ ہمیں عقل دے ، اور ایسے مزید المیوں سے بچائے۔
بلال کے لیے ایک فاتحہ آپ سب پر ادھار ہے۔ اپنے انداز میں وہ آپ سب کی بہتری چاہتا تھا۔

ٹیگز

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.